صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

جنس کی تبدیلی کی خواہش مند خاتون پولس اہلکار للیتا پر قانون کی تلوار کیوں لٹکی تھی ، جبکہ مہاراشٹر میں ایسے بہت سے معاملات ہیں

990

 

شاہد انصاری

 

ممبئی :مہاشٹرا ریاست کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑ نویس نے اپنا وعدہ پورا کیا ۔با لآخر انہوں نے تحریری طور پر للیتا کو للت بننے کیلئے اجازت دے دی ۔اسی کے ساتھ اب للیتا پولس محکمہ میں مرد بن کر کام کرسکتی ہے ۔ریاستی حکومت کی جانب سے اجازت کے بعد بیڑ کے ایس پی جی شری دھر کے ذریعہ انہیں جنس بدلنے کیلئے لیٹر دیا گیا ہے جس میں تحریر ہے کہ للیتا اپنی جنس تبدیل کرسکتی ہے اور جنس تبدیل کرانے کے بعد بھی وہ اپنی پرانی پہچان کے ساتھ خدمات انجام دے سکتی ہیں ۔لیٹر ملتے ہی انتیس سالہ للیتا کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہا ۔اس نے فوری تیاری کے بعد اگلے دن ممبئی کیلئے روانہ ہو گئی جہاں وہ ڈاکٹر سے مل کر اپنی جنس تبدیل کرائیں گی۔
بیس سال کی عمر میں للیتا سالوے نے پولس محکمہ جوائن کیا تھا ۔گذشتہ سال للیتا نے اس بات کیلئے چھٹی مانگی تھی کہ وہ اپنی جنس تبدیل کرانا چاہتی ہے ۔ اس کے بعد بیڑ کے ایس پی جی شری دھر نے کہا تھا کہ اس کیلئے محکمہ میں کوئی ضابطہ نہیں ہے ،اس لئے وہ ریاست کے ڈی جی پی کو لکھیں گے ۔ للیتا نے اس معاملے میں بامبے ہائی کورٹ میں درخواست دی ابھی زیر سماعت ہے ۔لیکن عدلیہ کے فیصلہ سے قبل ہی دیویندر فڑ نویس نے للیتا کو اس کی اجازت دے دی۔للیتا جلد ہی اپنی جنس تبدیل کرواکے للت بن جائیں گے ۔ للیتا نے بامبے لیکس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح بامبے لیکس نے میری درخواست کے بعد خبر شائع کی اور اس مطالبہ کو لے کر برابر مہم جاری رکھی اسے میں کبھی نہیں بھول سکتی ۔
للیتا نے اس سے پہلے ممبئی کے جے جے اسپتال میں طبی عمل پورا کر چکی تھی جس میں مرد کے اثرات واضح تھے ۔اس کے باوجود للیتا کو اس کے لئے مہینوں انتظار کرنا پڑا جبکہ ریاست میں خاتون سے مرد اور مرد سے خاتوبننے والوں کی تعداد ایک دو نہیں پورے اکیس ہیں اور خاتون سے مرد بننے والوں کی تعداد سات ہے ۔آر ٹی آئی سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ معمولی تبدیلی والے چار سے پانچ درخواستیں تھیں ۔جنس کی تبدیلی کے مشکل عمل کی دو درخواستیں تھیں جسے ڈاکٹروں نے آپریشن کے ذریعہ کامیابی حاصل کی ۔ آر ٹی آئی کارکن چیتن کوٹھاری نے کہا کہ یہ جانکاری صرف سائن اسپتال کی ہے جبکہ ممبئی کے اور بھی کئی اسپتال میں اس طرح کے جنس کی تبدیلی کی درخواستیں آئی ہیں اور ان کا آپریش بھی کیا گیا ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.