صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

کھنڈوانی اور دیش مانے کی من مانی ، پچاس برسوں سے ماہم میلے میں بسے تاجروں کو بھگانے کی ٹھانی

813

ممبئی : ڈی سی پی وکرم دیش مانے کو جھولے سے الرجی ہے اس لئے وہ سارے ممبئی کے شہریوں کے تفریحی کھیلوں کو بند کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔ تازہ مثال ماہم میلے کی ہے ۔ ماہم میلہ شروع ہونے سے قبل ماہم پولس اسٹیشن سے جھولا لگانے والے تاجروں کو فون آیا کہ ماہم میلے میں بڑا جھولا اور موت کا کنواں جیسے کھیل کیلئے پولس اجازت نہیں دے گی ۔

اس بات کو لے کر پریشان جھولا تاجروں سے سینئر پی آئی کیلاش چوہان نے کہا کہ یہ حکم مقامی ڈی سی پی وکرم دیش مانے کا ہے اس لئے ہم کچھ نہیں کر سکتے ۔

ڈی سی پی وکرم دیش مانے 

تاجروں پریشان ہو کر جب وکرم دیش مانے سے ملنے گئے تو انہوں نے کہا کہ مجھے ان سب کھیلوں سے الرجی ہے ۔ اگر کسی نے تفریح کے لئے جھولا لگایا تو میں سب پر فرضی کیس بنائوں گا ۔ ان سب وجوہات سے ماہم میلہ ۲۱ ؍ دسمبر کو شروع ہو چک لیکن پولس کی غنڈہ گردی کے سبب ڈرے سہمے ہوئے جھولا تاجروں نے جھولا نہیں لگایا ۔ ۲۶ ؍ دسمبر کو رات آٹھ بجے شروع کیا لیکن پولس نے آکر بند کرادیا جبکہ یہ سارے جھولے  گذشتہ پچاس برسوں سے چل رہا ہے اور اسی لئے تاجر عوامی تفریح کیلئے پوری قانونی خانہ پری کے ساتھ اسے لگاتے ہیں ۔

جس میدان میں جھولا لگتا ہے وہ زمین بی پی ٹی کا ہے جبکہ زمین کا دوسرا ٹکڑا ممبئی کلیکٹر کا ہے جس پر پچاس برسوں سے تاجر اپنا کاروبار کرتے ہیں ۔

لیکن ماہم درگاہ ٹرسٹ کے ٹرسٹی سہیل کھنڈوانی نے جھولا والوں سے کہا کہ اگر میلہ لگانا ہے تو اس کے لئے ماہم درگاہ ٹرسٹ سے این او سی لینا ہوگا جس کے سبب جھولا تاجروں میں غصہ ہے کیوں کہ اس این او سی کے سبب جھولے والوں کے ہاتھ ہمیشہکیلئے باندھ دیئے جائیں گے اور پھر ایک وقت ایسا بھی آسکتا ہے جب ان جھولے والوں کی روزی روٹی چھین کر کھنڈوانی اپنے خاص لوگوں کو جگہ دے کر ملائی کھائیں گے ۔

سہیل کھنڈوانی

بابا فالودہ سے لے کر درگاہ تک سو سے زائد لوگ کاروبار کرتے ہیں اور یہ سب کھنڈوانی کے ہی خاص لوگ ہیں ۔ یہاں سال بارہ مہینے کاروبار اچھا ہوتا ہے کیوں کہ یہاں ہر روز زائرین بڑی تعداد میں آتے ہیں ۔

ایک جھولا تاجر نے بتایا کہ جب ہم متعلقہ محکمہ سے اس کیلئے این او سی لیتے ہیں تو آخر ان سے این او سی کیوں لیں ۔ در اصل کھنڈوانی کے اس نئے شرط کے سبب یہ مانا جارہا ہے کہ یہاں تقریباً سو سے زائد جھولے والے ہیں جن سے اچھی خاصی رقم اینٹھی جاسکتی ہے ۔

تاجروں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی کئی دنوں تک کاروبار بند کیا گیا تھا جس سے ہمیں کافی نقصان ہوا اس لئے ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ اتنے دنوں تک جو ہمارا نقصان ہوا ہے اس کے لئے ہمیں اور مہلت دی جائے تاکہ ہم کاروبار کرکے نقصان کی بھرپائی کرسکیں ۔

ہم نے اس تعلق سے ڈی سی پی وکرم دیش مانے اور سہیل کھنڈوانی سے رابطہ کرکے ان کا موقف جاننے کی کوشش کی لیکن انہوں نے فون نہیں اٹھایا ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.