صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

جماعت اسلامی اورنگ آباد کی جانب سے اکٹر رفیق زکریا کیمپس میں سوشل رضا کار تنظیموں کے لئے ورکشاپ   

567
ہندوستان میں مسلم نوجوانوں کی غیر قانونی گرفتاری کی علامتی تصویر

اورنگ آباد : (جمیل شیخ) جماعت اسلامی ہند کے ایچ آر ڈی شعبہ کی جانب سے legal aid and social activists development کے عنوان سے ایک ورکشاپ ڈاکٹر رفیق زکریا کیمپس میں رکھاگیا ۔ واضح رہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے پولس اور دیگر جانچ ایجنسیوں کی جانب سے دہشت گردی کے نام پر سینکڑوں بے گناہ افراد کو گرفتار کیا گیا اور برسوں سے کئی بے گناہ افراد وجیلوں میں بند ہیں لہذا ان معاملات پر قابو پانے اور دستور ہند نے شہریان کو کون سے اختیارات دئے ہیں ۔ اور اسطرح کے مقدمات کی پیروی کس طرح سے کی جانی چاہئے ان تمام باتوں سے متعلق سوشل ایکٹویسٹ تنظیموں کی رہنمائی کے لئے یہ ورکشاپ رکھا گیا جہاں کوئل فائونڈیشن نیو دہلی کے سہیل کے کے سپریم کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ تہور خان پٹھان اور پروجیکٹ لیڈ ممبئی کے ڈولفی ڈسوز ا نے حاضرین کی رہنمائی کی اس موقع پر ایڈوکیٹ تہور پٹھان نے بتایا کہ گزشتہ دنوں مختلف معاملات میں دہشت گردی کے نام پر جتنے بھی نوجوانو ں کوگرفتار کیاگیا ہے ان میں سے ۹۰ فیصد نوجوان عدالتوں کے ذریعہ بے قصور پائے گئے لہذا اس طرح کے معاملات میں پیروی کرتے وقت کن قانونی نکات کو مد نظر رکھنا چاہئے ۔

انھوں نے کہا کہ بیشک دہشت گردوں کو ہرگز بحشنا نہیں چاہئے بلکہ انھیں پھانسی کی سزا دی جانی چاہئے مگر معاملات میں بے گناہ افراد کی گرفتاریوں پر بھی روک لگنی چاہئے ۔ اس طرح کوئل فائونڈیشن کے سہیل کے کے نے بتایا کہ آئی سی سی پی آ رکے سیکشن ۹ کے تحت ایسے افراد جنھیں عدالتوں نے بے گناہ مان کر رہائی دی ہے انھیں حکومت کی جانب سے معاوضہ دیا جانا لازمی ہے اور اسطرح کی غلط کارروائی کرنے والے پولس افسران کے خلاف مقدمات چلا کر انھیں سزا دینا ضروری ہے ۔ اور حکومت وانتظامیہ سے یہ سوال کیا جانا چاہئے کہ جب دہشت گردی کے مختلف معاملات میں گرفتار شدہ افراد بے گناہ مان لئے گئے تو پھر ان معاملات کا اصل مجرم کون ہے اور وہ آزاد کیوں ہے ۔ جماعت اسلامی ہند کے امیرمقامی الیاس فلاحی اور شعبہ ہیومن رائٹس ڈیولپمنٹ کے سکریٹری ڈاکٹر شاداب منور موسی نے اس ورکشاپ کی اہمیت او راس کے اغراض ومقاصدسے اس ورکشاپ میں این جی اوز اور دیگر سوشل ایکٹوییسٹ بڑی تعداد میں شامل ہوئے عادل مدنی محمد تحسین الدین صدیقی اور جماعت اسلامی کے دیگر عہدیداران  واراکین نے اہم رول ادا کیا ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.