صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

چَاوِندرہ کے ڈمپنگ گراونڈ کو ہمیشہ کے لیے بند کیا جائے ۔ دھرم راجیہ پارٹی کا مطالبہ  

چاوندرہ علاقہ کے اسکولوں میں زیر تعلیم سینکڑوں طلبہ نے بھی اپنی صحت کو لاحق خطرات کے پیش نظر وزیر اعظم نریندر مودی کو خطوط روانہ کر تے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ متذکرہ ڈمپنگ گراونڈ کی وجہ سے ہم ہمیشہ بیمار رہتے ہیں ، ہماری صحت خراب ہو گئی ہے جس سے ہماری تعلیم متاثر ہو رہی ہے اس لیے جتنی جلدی ممکن ہو اس ڈمپنگ گراونڈ کو یہاں سے ہٹایا جائے

608

بھیونڈی : (عارِف اگاسکر) بھیونڈی نظام پور شہر میونسپل کارپوریشن کے حدود میں چَاوِندرہ کے علاقہ میں واقع ڈمپنگ گراونڈ کے خلاف’دھرم راجیہ‘ نامی سیاسی پارٹی نےانتہائی سخت قدم اٹھا تے ہوئے میونسپل کمشنر منوہر ہیرے اور میئر جاوید دلوی کو ایک مکتوب سُپرد کر تے ہو ئے مطالبہ کیا ہے کہ متذکرہ ڈمپنگ گراونڈ پر پھینکے جانے والے کچرے اورکوڑا کرکٹ کو ہمیشہ کے لیے بند کیا جائے بصورت دیگر میونسپل انتظامیہ کے خلاف سخت عوا می تحریک شروع کی جائے گی ۔ اس سلسلے میں گزشتہ جمعہ کو بھیونڈی کے ریجنٹ ہوٹل میں دھرم راج پارٹی کی جانب سے ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں متذکرہ پارٹی کے نریندر پارکر ، کیشو مہاترے ، وِکرانت کرنک ، ڈاکٹر سوبروتو داس اور سنجے دلوی وغیرہ عہدیداران شریک تھے ۔

اپنے مکتوب میں متذکرہ پارٹی کے عہدیداران نے مزید کہا ہے کہ چَاوِندرہ کے علاقہ میں واقع اس ڈمپنگ گراونڈ کے بالکل قریب میں بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کے زیر انتظام اسکول نمبر ۴۶؍ اور اسکول نمبر ۹۳؍ کی عمارت واقع ہے جہاں پر اول جماعت سے لے کر دہم تک تقریباً ایک ہزار طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں نیز قریب ہی واقع مزید دو اسکولوں میں بھی تقریباً ۲؍ ہزار طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں ۔ جبکہ متذکرہ ڈمپنگ گراونڈ کے اطراف میں تقریباً ۴۰؍ ہزار نفوس پر مشتمل آبادی ہے ۔ متذکرہ ڈمپنگ گراونڈ پر بھیونڈی شہر میں روزانہ جمع ہو نے والا ۳۰۰؍ میٹرک ٹن کچرے اور کوڑے کر کٹ کو پھینکا جا تا ہے جس کے سڑنے اور گلنے پر اس سے اٹھنے والے تعفن اور بد بو نے فضاکو مکدر کیا ہے ۔

ان اسکولوں میں زیر تعلیم ہزاروں طلبہ سمیت یہاں پر بسنے والے شہریوں کی صحت کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے ۔ ڈمپنگ گراونڈ پر پھینکے جانے والے کوڑے کرکٹ سےمذکورہ علاقہ میں متعدی امراض کے پھیلنے کی شکایتیں عام ہیں ۔ یہاں پر واقع اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ کوگلے میں انفکشن ، سر درد اور سانس لینے میں تکلیف نیز تدریسی عمل میں دشواری جیسی شکایتوں کے سبب ان کے سرپرست اور والدین پریشان ہیں ۔ ڈمپنگ گراونڈ کے مسئلہ پر صحافیوں سے گفتگو کر تے ہوئے ڈاکٹر سبرتو داس جنھوں نے آئی آئی ٹی سے پی ایچ ڈی کی ہے اور جو ایک کیمیکل انجنیئر بھی ہیں نے بتا یا کہ ڈمپنگ گراونڈ پر پھینکے جانے والے کچرے اور کوڑے کرکٹ میں گندگی وغلاظت سمیت بڑے پیمانے پر پلاسٹک کی بوتلیں اور پلاسٹک کی دیگر بے کاراشیاء شامل ہوتی ہیں جنھیں کھلے میں جلا کر ختم کر نے کی کوشش کی جا تی ہے ۔ پلاسٹک کی ان بے کار اشیاء کے جلائے جانے سے جو دھواں پیدا ہوتا ہے وہ انتہائی زہریلا ہو تا ہے ۔

جس میں نائٹروجن آکسائیڈ ، پالی کلورو بائی فنائل(پی سی بی) ، ایرو مائٹک ہائیڈرو کاربن ، سلفر ڈائی آکسائیڈ سمیت پی ایم زیڈ کے چھوٹے چھوٹے ذرات ہو تے ہیں جو صحت کے لیے انتہائی خطر ناک ہیں ۔ ان ذرات کے ہوامیں شامل ہو نے سےفضا مکدر ہو جا تی ہے اورگلے کا انفکشن ، سانس لینے میں تکلیف اوردیگر امراض سمیت کینسرجیسے مہلک مرض کے پھیلنے کا خدشہ لاحق ہے ۔ انھوں نے مزید بتا یا کہ پی ایم زیڈ کے چھوٹے چھوٹے ذرات کو ہمارے ناک کے انددرونی حصہ کے بال بھی روک نہیں سکتے اور یہ ذرات سیدھے جسم میں داخل ہو تے ہیں جس کے سبب ہمارا جسم متذکرہ بیماریوں کی آماجگاہ بن جا تا ہے ۔ اسی لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ اس ڈمپنگ گراونڈ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کیا جائے ۔

نریند ر پار کر نے کہا کہ ہمیں شہریوں کے حفظان صحت کے ساتھ ساتھ یہاں کے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ کی صحت کی بھی فکر ہے ۔ ڈمپنگ گراونڈ پر جلائے جانے والے کوڑے کرکٹ کی وجہ سے پی سی بی (پالی کلورو بائی فنائل) نامی گیس پیدا ہو تی ہے ۔ اس زہریلی گیس کے فضا میں شامل ہو نے سے طلبہ کو سانس لینے میں دشواری ہونے سے ان کی صحت اور جان کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے اور ان کی تعلیم بھی متاثر ہوئی ہے ۔ ہمیں اس کا علم ہو نے پر جب ہم نے یہاں کا جائزہ لیا تو ہم سکتے میں رہ گئے ۔ یہاں کے مقامی شہریوں اور طلبہ کو درپیش تکالیف کے سبب ہی ہم نے متذکرہ ڈمپنگ گراونڈ کو بند کر نے کی مہم شروع کی ہے ۔

ہمیں یقین ہے کہ ہم اس مہم میں ضرور کامیاب ہوں گے ۔ انھوں نے مزید بتایا کہ س علاقہ میں واقع اسکولوں کے سینکڑوں طلبہ نے بھی اپنی صحت کو لاحق خطرہ کے پیش نظروزیر اعظم نریندر مودی کو تحریر کردہ خطوط کے ذریعہ اپنی روداد بیان کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ متذکرہ ڈمپنگ گراونڈ کی وجہ سے ہم ہمیشہ بیمار رہتے ہیں ، ہماری صحت خراب ہورہی ہے اور ہماری تعلیم بھی متاثر ہو گئی ہے اس لیے جتنی جلدی ممکن ہو اس ڈمپنگ گراونڈ کو یہاں سے ہٹایا جائے ۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہم نے میو نسپل کارپوریشن کو متنبہ کیا ہے کہ انتہائی سنگین نوعیت کے اس معاملہ پرسنجیدگی سے غور کیا جائے اور اس تعلق سے سخت قدم اٹھایا جائے بصورت دیگر انتظامیہ کے خلاف عوامی تحریک شروع کی جائے گی ۔ اس سلسلے میں اگر انتظامیہ نے کارروائی کر نے میں ٹال مٹول کی تو ہم اس مسئلہ کو بامبے ہائی کورٹ میں لے جائیں گے اور یہاں کے شہریوں کو انصاف دلانے کی کو شش کریں گے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.