صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

شرجیل امام کی درخواست ضمانت پر فیصلہ 2 نومبر کو

75,826

کڑکڑڈوما عدالت نے اشتعال انگیز تقریر کرنے کے ملزم شرجیل امام کی درخواست ضمانت پر فیصلہ 2 نومبر تک محفوظ کر لیا۔

شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف مبینہ طور پر اشتعال انگیز تقریر کے معاملے میں جے این یو کے سابق طالب علم شرجیل امام کی قانونی ضمانت کی درخواست پر سنیچر کو ککڑڈوما کورٹ میں سماعت ہوئی۔ اس دوران شرجیل امام اور دہلی پولیس کی جانب سے عدالت میں تحریری دلائل جمع کرائے گئے۔ عدالت نے دونوں کے تحریری دلائل کو ریکارڈ پر لے لیا۔ اس کے بعد عدالت نے کیس کی اگلی سماعت 2 نومبر کو کرنے کا حکم دیا۔

اس سے قبل 25 ستمبر کو سماعت کرتے ہوئے عدالت نے ضمانت پر اگلا فیصلہ 14 اکتوبر تک ملتوی کر دیا تھا۔ شرجیل امام پر دہلی پولیس کی اسپیشل برانچ نے 2020 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں سی اے اے کے خلاف اشتعال انگیز تقریر کرنے اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں فسادات بھڑکانے پر بغاوت کا مقدمہ درج کیا تھا۔اس کے بعد دہلی پولیس نے بھی امام کے خلاف یو اے پی اے کی دفعہ 13 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ پیر کو کیس کی سماعت کے دوران شرجیل کی جانب سے یہ دلیل دی گئی کہ وہ یو اے پی اے کے تحت سات سال کی زیادہ سے زیادہ سزا کا نصف پہلے ہی کاٹ چکے ہیں۔ وہ 28 جنوری 2020 سے تہاڑ جیل میں عدالتی حراست میں بند ہے، اس لیے اسے ضمانت ملنی چاہیے۔

ہلی پولیس نے امام کے وکیل کے اس دعوے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ صرف ایک جرم نہیں بلکہ کئی جرائم ہیں۔ ملزم شرجیل کی درخواست کے مطابق وہ تین سال چھ ماہ عدالتی حراست میں گزار چکا ہے۔ اس طرح، اسے ضابطہ فوجداری کے سیکشن 436A (CrPC) کے تحت قانونی ضمانت کا حقدار ہونا چاہیے۔ درخواست کے مطابق امام اپنی رہائی پر معتبر ضمانت دینے اور کسی بھی شرط کی پابندی کرنے کے لیے تیار ہیں۔

دآئی پی سی کے تحت بغاوت (دفعہ 124A)، مختلف مذہبی گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینا (دفعہ 153A)، قومی یکجہتی (دفعہ 153B) کے خلاف دعوے کرنا، عوامی پریشانی کا باعث بننا، موافق بیانات دینا (دفعہ 505)۔ اس کے علاوہ یو اے پی اے کے تحت غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے سات سال قید کی سزا دینے والا ایک سیکشن (دفعہ 13) بھی شامل ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.