صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

بھنڈی بازار میں ایس بی یوٹی کی جانب سے کانڈی اور راجکوٹ والا کی غنڈہ گردی

36,480

دن دھاڑے یوپی بہار کی طرز پر غنڈہ گردی کرکے مسلمانوں کو ان کی دکانوں سے بے دخل کیا

ممبئی : یہ خبر یوپی بہار کی نہیں ہے جہاں کھلے عام غنڈہ گردی کے ذریعہ کسی کو بھی اس کی جائیداد سے بے دخل کردیا جاتا ہے ۔ یہ خبر ممبئی کی ہے جسے پرامن شہر اور سلامتی کے لحاظ  بہت اہم مانا جاتا ہے ۔ یہ خبر ہے ممبئی کے قلب میں واقع بھنڈی بازار کی ، وہی بھنڈی بازار جہاں کبھی دائود ابراہیم کی دہشت ہوا کرتی تھی ۔ اب اس علاقے میں ایس بی یو ٹی کی دہشت کے سائے میں وہاں کے مکین جی رہے ہیں ۔ تازہ معاملہ بیس سے زیادہ لوگوں کی دکانوں کو زمین بوس کردینے کا ہے ، یہ ساری دکانیں پچاس سال سے زیادہ پرانی اور مسلمانوں کی ہیں۔

صبح سویرے بی ایم سی اور پولس کی فوج یہاں پہنچی اور غیر قانونی طریقے سے دکانوں پر بلڈوزر چلا کر انیں زمین بوس کردیا ۔ اس کے بعد مقامی مسلمانوں میں ایس بی یو ٹی کیخلاف غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ۔ لوگوں نے ایس بی یو ٹی کے دو لوگوں کی غنڈہ گردی کیخلاف نعرہ بازی کی اور اس طرح اپنا احتجاج درج کیا ۔ احتجاجیوں نے جن لوگوں کیخلاف بینر اٹھارکھے تھے وہ مرتضیٰ علمدار عرف مرتضیٰ راجکوٹ والا اور مسطفیٰ کانڈی ہے جو مرتضیٰ علمدار نام کی کنسٹرکشن کمپنی کے مالکین ہیں ۔

واضح ہوکہ کووڈ کے سبب ریاستی حکومت اور ممبئی ہائی کورٹ نے اس طرح کی انہدامی کارروائی پر امتناع کا نفاذ کیا ہوا ہے خواہ یہ کارروائی درست ہو یا غیر قانونی ۔

لیکن ایس بی یو ٹی کے غنڈے اور مقامی پولس ، بی ایم سی نے اسے نظر انداز کرتے ہوئے غیر قانونی طور سے یہ انہدامی کارروائی انجام دے دی ۔

یہاں پر موجود عبداللہ ہوٹل کی سودے بازی کو لے کر عرصہ سے ایس بی یو ٹی سے گفتگو چل رہی تھی جس کا سودا ۳۲ کروڑ میں طے ہونے کے بعد ایس بی یو ٹی نے وٹل کو منہدم کردیا لیکن ساتھ میں آس پاس کی دکانوں میں بھی سیندھ لگاتے ہوئے انہیں بھی منہدم کرکے اپنے قبضے میں لے لیا ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.