صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

بی جے پی / شیوسینا کی چارسالہ حکومت میں عوام کو صرف دھوکہ: اشوک چوہان

’میرے اچھے دن کب آئیں گے‘نامی ویڈیو کے ذریعے  کانگریس کا حکومت سے سوال ، کھڑگے اورچوہان نے بجایا حکومت کا آخری گھنٹہ

689

اورنگ آباد : بی جے پی وشیوسیناکی اس چارسالہ دورِ حکومت میں ریاست تباہی کے دہانے پر پہونچ چکا ہے ۔ حکومت کی کارکردگی پر آج ریاست کا ایک بھی طبقہ مطمئن نہیں ہے۔ ریاست میں بی جے پی وشیوسینا کی چارسالہ حکومت صرف ’عوام کو دھوکہ دینے کا چار سال‘ ہے ۔ یہ باتیں آج یہاں جن سنگھرش یاترا کے تیسرے مرحلے کے اختتام کے موقع پرمنعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ر یاستی کانگریس کے صدر اشوک چوہان نے کہیں۔ اس موقع پر اشوک چوہان اور آل انڈیا کانگریس کے جنرل سکریٹری اور مہاراشٹر کانگریس کے نگراں ملکا رجن کھڑگے نے نے بی جے پی وشیوسینا کے دورِ حکومت میں ریاست کی تباہی سے متعلق کانگریس کے سوشل میڈیا کے ذریعے تیار کردہ  ویڈیو بھی جاری کیا ۔ اس ویڈیو کے ذریعے کانگریس نے حکومت کے سے یہ سوال کیا ہے کہ انتخابات کے دوران جس اچھے دن کا عوام سے وعدہ کیا گیا تھا ، وہ کب آئیں گے ۔

اس موقع پر اس یقین کا اظہار کرتے ہوئے کہ  بی جے پی وشیوسینا حکومت کا آخری دورشروع ہوگیا ہے اور عوام ہی اس حکومت کا آخری گھنٹہ کانگریس کے ساتھ مل کر بجائے گی ، ملکا رجن کھڑگے ، اشوک چوہان ، سابق وزیراعلیٰ پرتھوی راج چوہان نے گھنٹہ بجاکر علامتی طور پراس حکومت کا آخری دور شروع ہونے کا اعلان کیا۔اشوک چوہان نے اس موقع پر کہا کہ یہ بی جے پی وشیوسیناحکومت کے خلاف عوام کے جدوجہد کا بگل ہے ۔ یہ جدوجہد کانگریس نے شروع کیا ہے جو عوام کی لڑائی ہے اور عوام کے ساتھ  بالآ خر کانگریس ہی اس لڑائی میں کامیاب ہوگی ۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اشوک چوہان نے کہا کہ وزیراعلیٰ خود کو پرموٹ کرنے میں بہت مصروف ہیں ، انہیں کسانوں کو ان کی فصلوں کی بربادی پر امداد ، پینے کے لئے صاف پانی  کی فراہمی اور کسانوں کے قرضہ جات کو معاف کرنے کے لئے وقت نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ  ریاستی حکومت کے چار سال مکمل ہونے پر نیوزچینلوں کو انٹرویو دے رہے ہیں جس میں وہ ترقی سے متعلق جھوٹے اعداد وشمار پیش کرکے ریاست کی عوام کو  گمراہ کررہے ہیں ۔ ممبئی کے اے سی کیبن میں بیٹھ کر انہیں سلگتا ہوا مہاراشٹر نظر نہیں آئےگا ۔ وہ مراٹھواڑہ میں آکر یہاں کی حقیقی صورت حال دیکھیں پھر انہیں اندازہ ہوگا کہ یہاں کے لوگوں کی زندگی کتنی مشکل  ہوچکی ہے اور یہاں خشک سالی کی شدت کتنی شدت اختیار کرچکی ہے ۔ جالنہ کی ترقی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ کانگریس نے جالنہ کی شہر کی ترقی میں کوئی کسر نہیں اٹھارکھی تھی ، لیکن جب سے ریاست میں بی جے پی وشیوسینا کی حکومت آئی ہے ، جالنہ کی ترقی کی رفتار پر بریک لگ گیا ہے ۔ ریاستی حکومت کے چارسالہ دور میں ریاست کے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید الجھ گئے ہیں ۔ اس حکومت نے گزشتہ چار سالوں میں دعوں اور تقریروں کے علاوہ کچھ نہیں کیا ہے ۔ ان چارسالوں میں ریاست میں 16؍سے زائد کسانوں نے خودکشی کرلی ہے اور اب توکسانوں کے بچے بھی خوکشی پر مجبور ہورہے ہیں ۔ اس حکومت نے کسانوں کی قرض معافی کا اعلان کیا لیکن ابھی تک کسانوں کو قرض معافی کا کوئی فائدہ نہیں مل سکا ہے ۔ مراٹھا ، مسلم ودھنگر سماج کے ریزرویشن کا مسئلہ بھی یہ حکومت حل نہیں کرسکی ہے ۔ کسانوں ، مزدوروں، نوجوانوں وخواتین سمیت تمام طبقات کو حکومت نے دھوکہ دیا ہے ۔ ریاست شدید ترین خشک سالی سے جوجھ رہا ہے ، حکومت کے خلاف لوگوں میں زبردست ناراضگی ہے لیکن حکومت کی  ناکامی کو چھپانے کے لئے وزیراعلیٰ نیوزچینلوں کو دئیے جانے والے انٹرویو میں جھوٹ بول رہے ہیں ۔ ریاستی حکومت کے ذریعےچارسالہ دورِ حکومت کا گوشوارہ شائع کیا گیا ہے ، جس کاکانگریس کی جانب سے پنچنامہ کرکے بھرپور جواب دیا گیا  ہے ۔ اشوک چوہان نے اس موقع پر کانگریس سوشل میڈیا کی تعریف بھی کیا ۔

اس پریس کانفرنس میں حکومت کی جانب سے پیش کردہ گوشوارے کا اشوک چوہان نے نہایت تفصیلی  اور اعداد وشمار کے ساتھ جواب دیا ۔ انہوں نے کہا کہ  بی جے پی وشیوسینا نے انتخابات میں عوام سے جھوٹے وعدے کرکے ان کے ووٹ حاصل کئے لیکن اقتدار ملنے کے بعد وہ ان وعدوں کو بھول گئے ۔ بی جے پی وشیوسینا حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ریاست میں 16؍ہزار سے زائد کسانوں  نے خودکشی کرلی ہے ۔ کسانوں کی قرض معافی کا اعلان ہوکر ڈیڑھ سال سے زائد کا عرصہ گزر گیا لیکن ابھی تک کسانوں کے قرضہ جات معاف نہیں  ہوسکے ہیں ۔ ہمارے دورِ اقتدار میں ہم نے 72 ہزار کروڑ روپئے کا قرض ایک دن میں معاف کیا تھا ۔ ہرسال 2 ؍کروڑ نوجوانوں کو ملازمت دینے کا وعدہ مودی نے کیا تھا  ، لیکن ساڑھے چار سال کا عرصہ گزرجانے کے باوجود 9 لاکھ نوجوانوں کو بھی ملازمت نہیں مل سکا ۔ لاکھو ں بیروزگار نوجوان ملازمت کے لئے حکومت کی جانب دیکھ رہے ہیں ۔ بی جے پی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے نوجوانوں کا مستقبل اندھیرے میں ڈوب چکا ہے ۔ مہنگائی سے عام آدمی کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے ۔ پٹرول وڈیژل کی قیمتیں آسمان چھورہی ہیں ۔ ایندھن پرغیرمناسب ٹیکس لگا کر حکومت عام آدمی کو لوٹ رہی ہے ۔ کسان ، زراعتی مزدور ، کاروباری ، دلت ، اقلیتیں ، آدیواسی اور سرکاری ملازمین گویا کہ ہر طبقے کوحکومت نے دھوکہ دیا ہے ۔ بی جے پی کے لیڈران نے بدعنوانی کے ذریعے بے پناہ دولت کمائی ہے اور انہیں پیسوں کے نشے میں ڈوب کر وہ ہماری ماؤں بہنوں اورمہا پرشوں کے بارے میں کچھ بھی اناپ شناپ بک رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی حکومت مراٹھواڑہ کے لوگوں کے ساتھ جان بوجھ کر ناانصافی کررہی ہے ۔ مراٹھواڑہ کے  پروجیکٹ کو فنڈ نہیں دیا جارہا ہے۔ سڑکیں انتہائی خستہ حال ہوچکی ہیں ۔ پورا مراٹھواڑو خشک سالی کا شکار ہوچکا ہے ، اس کے باوجود حکومت خشک سالی کا اعلان نہیں کررہی ہے ۔ کسانوں کی فصلیں تباہ ہوچکی ہیں ، پورے علاقے میں پینے کے لئے پانی کی شدید قلت ہے ، مویشیوں کو کھانے کے لئے چارہ نہیں ہے ، اس کے باوجود حکومت کوئی مدد نہیں کررہی ہے ۔ اس لئے اب اس مغرور بی جے پی وشیوسینا کو اکھاڑ پھینکئے ۔

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.