صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

مدھیہ پردیش میں شیوراج سنگھ چوہان کی حکومت غیرآئینی ہے : اشوک چوہان

479

چھندواڑہ : مدھیہ پردیش میں کانگریس کے اسٹار پرچارک کے طور پر انتخابی مہم میں شریک مہاراشٹر ریاستی کانگریس کمیٹی کے صدر اشوک چوہان نے آج یہاں سوسار اسمبلی حلقے میں ایک جلسہ عام میں شیوراج سنگھ چوہان پر سخت تنقید کرتے ہوئے مندسور میں ہوئی کسانوں پر فائرنگ کے تعلق سے ان کا موازنہ جنرل ڈائر سے کیا اور کہا کہ جس طرح جلیان والا باغ میں مجاہدینِ آزادی پر جنرل ڈائر نے فائرنگ کروایا تھا اسی طرح یہاں کی شیوراج سنگھ چوہان نے مندسور میں اپنے حق کے لئے سڑکوں پر اترے کسانوں پر گولیاں چلوائی تھیں ۔ یہ آج کس منہ سے لوگوں سے ووٹ مانگ رہے ہیں ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ حکومت کس کے لئے ہے ؟ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر دونوں ہی جگہ پر کسان مخالف حکومت ہے جو کسانوں کا استحصال کر رہی ہے اور قرض معافی کے نام پر ان کے ساتھ بھونڈا مذاق کر رہی ہے ۔

اشوک چوہان نے مدھیہ پردیش میں کانگریس کے مینی فیسٹو کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے مینی فیسٹو میں سب سے اہم بات جسے کانگریس نے فوقیت دی ہے وہ یہ ہے کہ تمام کسانوں کا دولاکھ روپئے تک کا قرض معاف کیا جائے گا ۔ مجھے اس تعلق بتاتے ہوئے فخر محسوس ہوتا ہے کہ آپ کے پڑوس میں ہماری ریاست ہے اور جب میں اس ریاست کا وزیراعلیٰ تھا تو میں نے اپنی ریاست کے کسانوں کا قرض معاف کیا تھا ۔ مرکز میں اس وقت منموہن سنگھ کی حکومت تھی انہوں نے ملک کے کسانوں کے قرض معاف کرنے کا فیصلہ کیا اور ریاست میں میں نے اس پر عمل کیا ۔ آج نہ مدھیہ پردیش میں کسانوں کا قرض معاف ہے اور نہ ہی مہاراشٹر میں اور دونوں ہی فیکو سرکار ہے ۔

ویاپم گھوٹالہ کاتذکرہ کرتے ہوئے اشوک چوہان نے کہا کہ یہ ہمارے سامنے ہے کہ ویاپم گھوٹالے کی وجہ سے ہزاروں لوگ بیروزگار ہوئے ہیں ، جبکہ اس معاملے میں تقریباً پچاس لوگوں کو اپنی جان گنوانی پڑی ہے ۔ اس معاملے میں حکومت براہِ راست ملوث رہی ہے اور یہ حکومت اس تعلق سے تمام ثبوت وشواہد مٹادیا ہے ۔ نوجوانوں کوبیروزگار کرنے کے بعد آج وہی بی جے پی کے لوگ آپ کے پاس دوبارہ ووٹ مانگ رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آج یومِ آئین ہے لیکن مدھیہ پردیش میں غیرآئینی حکومت چل رہی ہے ۔ یہ کس منہ سے لوگوں سے ووٹ مانگ رہے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے لیڈران کہتے ہیں کہ نہ کھائوں گا اور نہ کھانے دونگا لیکن یہاں مدھیہ پردیش میں ریت مافیا ہزاروں کروڑ کے ریت کے فطری ذخائر کو لوٹ رہے ہیں اور جس میں کسی نہ کسی طرح بی جے پی کے لوگ شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں ریاست میں خواتین کیخلاف جرائم میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے اور یہاں کی عوام آج یہ کہنے پر مجبور ہوئی ہے کہ ’ایک ہی بھول کمل کا پھول‘ ۔ اشوک چوہان نے کہا کہ ہمیں بی جے پی کا وکاس نہیں چاہئے بلکہ ہمیں کسانوں کے ساتھ انصاف چاہئے ، عورتوں کا تحفظ چاہئے اور نوجوانوں کو روزگار چاہئے ۔ اشوک چوہان نے وزیراعظم نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے سوال کیا کہ کس طرح ملک کے بینکوں کے ہزاروں کروڑ لوٹنے والے وجئے مالیا ونیرومودی ملک چھوڑ کر فرار ہوئے ؟ انہوں نے کہا کہ ملک کا غریب کسان قرض لینے کے لئے کئی کئی دنوں تک قطار میں کھڑا رہتا ہے لیکن مودی جی کے دوست نیرومودی اور وجئے مالیا ہزاروں کروڑ روپئے لے کر ملک چھوڑ کر فرار ہوگئے ۔ کیا یہی ہے مودی جی کا سب کا ساتھ سب کا وکاس ؟

اشوک چوہان نے اس موقع پر بی جے پی وشیوسینا کے ذریعے رام مندر کا معاملہ اٹھائے جانے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ان کی سیاسی چال ہے ، جس کا مشاہدہ ہم ہر انتخاب کے موقع کرتے ہیں ۔ چونکہ انہیں اس بات کا یقین ہوچلا ہے کہ عوام ان کے ساتھ نہیں ہے ، اس لئے وہ رام مندر کے نام پر ملک میں فرقہ پرستی اور ٹکرائو کی صورت حال پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ ان کی بانٹنے کی سیاست ہے ، جس کی ہم سخت مذمت کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اپنے تمام وعدوںکو پورا کرنے میں بری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے ، جس پر پردہ ڈالنے کے لئے وہ نعرہ لگارہی ہے کہ مندر وہیں بنائیں گے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ملک کے ہندوئوں ، مسلمانوں اور دلتوں میں ٹکرائو کی صورت حال پیدا ہو ، لیکن اس ملک کی عوام بے وقوف نہیں ہے ۔ واضح رہے کہ اشوک چوہان مدھیہ پردیش کی جس اسمبلی حلقے سوسار میں خطاب کررہے تھے ، مدھیہ پردیش ومہاراشٹر کی سرحد پر واقع ہے ۔ یہاں اشوک چوہان نے ہندی کے علاوہ مراٹھی میںبھی خطاب کیا ۔ اس کے علاوہ یہ مدھیہ پردیش کانگریس کے صدر کمل ناتھ کا پارلیمانی حلقہ بھی ہے ۔

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.