صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

ناگپاڑہ کے مرزا غالب نقش بردیوار پروگرام میں وارث پٹھان مدعو نہیں

666

ممبئی : مرزا غالب اردو داں طبقہ کیلئے ہی نہیں بلکہ دنیا کی تمام اقوام کیلئے قابل احترام شاعر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں ۔ ان کی تصویر کو ناگپاڑہ چوک پر نقش بر دیوار کیا گیا ہے جس کی رونمائی پیر ۲۸؍ جنوری کوٹھیک ساڑھے پانچ بجے ہوگی ۔ اس کے بعد وہاں سے وہ لوگ رانی باغ جائیں گے جہاں مرزا غالب پر ایک مویقی ریز پروگرام ہوگا جو چھ بجے سے شروع ہوگا ۔ اس پروگرام کی بڑے پیمانے پر اندرونی تشہیری کام جاری ہے ۔ اس سلسلے میں معلوم ہوا ہے اردو داں افراد کے جمع ہونے کو لے کر اس علاقہ کے کارپوریٹر رئیس شیخ کافی پریشان ہیں کیوں کہ انہوں نے ان ساری کوششوں کے پس پشت خود کی کاوش کو ہی مشتہر کررکھا ہے ۔ اب اگر پروگرام میں سامعین جمع نہیں ہوتے ہیں تو اس کا ٹھیکرا بھی یقیناًرئیس شیخ کے سر ہی پھوٹے گا ۔ اس لئے سماجی کارکنوں اور تعلیمی میدان میں سرگرام افراد کو افراد جمع کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ کون کتنے افراد لے کر آئے گا ۔ بہر حال نقش بردیوار ایک منفرد کام ہے جس کا حق ناگپاڑہ کو حاصل ہے کیوں کہ یہ ایک تاریخی جگہ ہے اور وہاں مرزا غالب کی موجودگی بھی ضروری تھی ۔


ناگپاڑہ پر نقش بر دیوار کی رونمائی کیلئے دعوت نامے بھی تقسیم کئے جاچکے ہیں ۔ اردو انگریزی کے دو الگ الگ دعوت ناموں میں بھی جلد بازی اور کریڈٹ لینے اور دینے کی کوششوں کا صاف اشارہ ملتا ہے ۔ اردو دعوت نامہ پر نیچے تحریر ہے ’تنصیب ، بہ کاوش جناب ابو عاصم اعظمی ایم ایل اے‘ جبکہ انگریزی دعوت نامہ میں نیچے تحریر ہے ’Installed with the efforts of Janab Rais Kasam Shaikh ‘ دو زبانوں میں دعوت ناموں پر دو مختلف سماجی نمائندوں کے نام کو استعمال کرنا کیا دکھاتا ہے؟ اس پر اس حلقہ کے اردو داں طبقہ کو ضرور غور کرنا چاہئے۔ دعوت نامہ میں کہیں پر بھی بائیکلہ سے مجلس اتحاد المسلمین کے ایم ایل اے وارث پٹھان کا نام نہیں ہے ۔ اس سلسلے میں وارث پٹھان سے فون پر رابطہ کیا گیا تو انہوں نے یہ کہتے ہوئے فون کاٹ دیا کہ وہ میرا حلقہ نہیں ہے ۔ ان کا حلقہ نہیں ہونا اس بات کیلئے کافی نہیں ہے کہ انہیں اس اتنے اہم کام میں مدعو ہی نہیں کیا جائے ۔ جبکہ اطراف کے دیگر ایم ایل اے اور کارپوریٹر مدعو ہیں ۔ واضح ہو کہ کئی ماہ قبل مدنپورہ میں یونانی ڈسپنسری کی رونمائی میں بھی اسی طرح کی بات سامنے آئی تھی ۔ ڈسپنسری کے باہر سماج وادی اور گیتا گاؤلی کا بینر آویزاں تھا لیکن مجلس اتحاد المسلمین کے ایم ایل اے وارث پٹھان کا بینر نہیں تھا معلوم یہ ہوا تھا کہ ان کا بینر نکلوا دیا گیا تھا ۔ ناگپاڑہ پر تزئین کاری اور ترقیاتی کاموں کے سلسلے میں گھٹیا سیاست اور کھینچا تانی جاری ہے ۔ اس پر بہت جلد ہم خصوصی رپورٹ پیش کرنے کی کوشش کریں گے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.