صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

کُرلا مدرسہ بی بی حلیمہ کے انہدام پر مقامی افراد میں شدید ناراضگی

43,634

گاؤں دیوی کھوٹ چال ودیاوہار روڈ ،کرلا (مغرب) میں واقع مدرسہ ومسجد بی بی حلیمہ جو بی بی حلیمہ ایجوکیشنل ٹرسٹ کےنام سے رجسٹرڈ ہے، کی منگل کو زبرست پولیس بندوبست میںاچانک منہدم کئےجانےسےمقامی افرادمیںشدید ناراضگی پائی جارہی ہے۔اس مدرسے کا انہدام اس لئے لوگو ںمیں موضوع بحث ہے کیونکہ جس جگہ یہ واقع ہے ،وہاں دونوں جانب ۷۰؍تا۸۰؍ سےزائد جھوپڑے ہیںاوراس میںلوگ ۲۰؍ ۲۵؍سال سے مقیم ہیں۔مدرسے کی جگہ بھی پرانی ہے اورکمرہ خریدکراسےتعمیرگیا تھا، جگہ تنگ ہونے سے یہاںجمعہ کی ۲؍ جماعتیں ہوتی تھیں لیکن توڑے جانے کے سبب لوگو ں کے لئے پنج وقتہ نمازکی ادائیگی کامسئلہ پیدا ہوگیا ہے۔
 لوگوں کاکہنا ہے کہ اگر یہ غیرقانونی ہے تودونوں جانب جو مکانات ہیں ان کی کیاحیثیت ہے اورکیا ریلوےکا اس پردعویٰ نہیںہے؟ اگر دعویٰ نہیںہے توریلوے کی جانب سے محض دشمنی یا نماز پڑھنے کی بنیاد پراسےکیوں توڑا گیا ؟ اس کےعلاوہ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہےکہ کچھ شرپسند مدرسے کے خلاف بار بار شکایت کررہے تھے ا ورپولیس کی جانب سے بھی یہ زور ڈالا گیا کہ یہاںمدرسہ نہ رہے اورنہ ہی نمازکی ادائیگی ہو ۔ اس لئے انہدام کے دوران پولیس نے کچھ زیادہ ہی سختی برتی ۔اس کے علاوہ مدرسے کودیکھنے سے اندازہ ہوا کہ ریلوے کی جانب سے اس چھوٹی سی جگہ میںانہدامی کارروائی کے لئے کچھ زیادہ ہی اہتمام کیا گیا ۔ اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ چھت اور دیواروں کوتوڑنے کے علاوہ دیواروں کے درمیان مضبوطی کے لئے لگائے گئے اینگل کو کاٹ کر نکالا گیا اور اسے ریلوے کا انہدامی دستہ اٹھالے گیا۔ حالانکہ عام طور پرانہدامی کارروائی کے بعد عملہ توڑی گئی اشیاء ساتھ نہیںلے جاتا ہے۔اس سے لوگوں کایہ شبہ درست معلوم ہوتا ہے کہ جان بوجھ کرصرف تعلیم اورنماز اداکرنے کی بنیاد پرشرپسندوں کی شکایت پراسے توڑا گیا ہے۔
پروجیکٹ کا حوالہ لیکن وضاحت نہیں
 ریلوے کے انہدامی دستہ کی سربراہی کررہے رمیش سنگھ نے کہاکہ’’ یہ ریلوے کی زمین پربناہوا ہے ، ریلوے کے پروجیکٹ کےلئے اسے توڑا گیا ہے۔ ‘‘ ان سے یہ پوچھنے پرکہ ایساکون سا پروجیکٹ ہے کہ اس کے لئے صرف ایک ہی کمر ےکوتوڑناضروری تھا تو رمیش سنگھ نے کوئی وضاحت نہیںکی، صرف اتنا کہا کہ جیسے جیسے پروجیکٹ آگے بڑھے گا ،کارروائی بڑ ےپیمانے پرکی جائے گی۔ ‘‘ ریلوے کے مطابق ’’ جھوپڑوں کے علاوہ بی ایم سی نے جوروڈ بنایا ہے وہ بھی ریلوے کی زمین پرہے ۔ریلوے کے ان تمام دعوؤںکے باوجودایک اہم بات یہ ہے کہ اس زمین پرکلکٹرکا بھی دعویٰ ہے اور۲۰۱۷ء میں کلکٹر کی جانب سے بایومیٹرک سروے کرایا گیا تھا اور رسید بھی دی گئی تھی ۔ پھرآخر ریلوے کے دعوے کی کیاحیثیت رہ جاتی ہے اورایسے میںریلوے کےپروجیکٹ کاکیا ہوگا کیونکہ زمین پرتوکلکٹر کا بھی دعویٰ ہے ؟

 مدرسے کے خزانچی آس محمدسے بات چیت کرنے پران کا کہنا تھاکہ ’’ انہدامی کارروائی پر اس قدرافسوس ہے کہ اسے بیان کرنا مشکل ہے۔کل تک جہاںسجدہ کیا کرتے تھے،آج وہاں ملبہ پڑا ہوا ہے ۔ جب بھی جاتے ہیں،دیکھ کردل روتا ہے۔ ‘‘ انہوںنے یہ بھی کہاکہ ’ ’ اس تعلق سے وکلاء سے صلاح ومشورہ کیا جارہا ہے ۔ ان کی جانب سے جو رہنمائی کی جائے گی اورٹرسٹیان کےباہمی مشورے میں جو طے ہوگا اس کے مطابق قانونی لڑائی کے لئے آگے بڑھا جائے گا۔‘‘مدرسے کے سکریٹری شعبان علی شیخ نے بتایا کہ ’’ فور ی طور پرکوئی فیصلہ نہیںکیا گیا ہے ،صرف صلاح ومشورہ کیا جارہا ہے۔ان کے مطابق ان حالات میںاگلا قدم بہت سوچ سمجھ کراٹھانا ہے کیونکہ ایک دفعہ تواتنا بڑا نقصان ہوچکا ہے ،آئندہ ایسا نہ ہو، جوبھی کام کیا جائے وہ اتنا ٹھوس ہو کہ پھر کوئی اندیشہ نہ رہے

Leave A Reply

Your email address will not be published.