صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

 تعلیمی ڈھانچہ آزاد ہندوستان کے پہلے وزیرتعلیم مولانا آزاد کی مرہون منت

مولانا آزاد ریسرچ سینٹر میں مولانا آزاد کے یوم وفات کے موقع پر دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس

565

اورنگ آباد : (جمیل شیخ) بھارت رتن مولانا ابوالکلام آزاد کے یوم وفات پر اقلیتی ترجیحات کے عنوان پر دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس مولانا آزاد ریسرچ سینٹر میں رکھی گئی مولانا ابوالکلام آزاد چیئر ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر مراٹھواڑہ یونیورسٹی کے انگلش ڈپارٹمنٹ اورنگ آباد میونسپل کارپوریشن اور لوک سیوا ایجوکیشن سوسائٹی کے تحت چلائے جانے والے آرٹس اینڈ ایجوکیشن سوسائٹی کے تحت چلائے جانے والے آرٹس اینڈ سائنس کالج کے اشتراک سے معنقدہ اس بین الاقوامی کانفرنس کا افتتاحی پروگرام گزشتہ روز مولانا آزاد ریسرچ سینٹر میں رکھا گیا جس میں یونیورسٹی کے کارگذار وائس چانسلر پروفیسر اشوک تیجنیکر کانکورڈیا یونیورسٹی کینڈا کے پروفیسر ڈاکٹر تھامس واگھ یونیورسٹی کی رجسٹرار ڈاکٹر سادھنا پانڈے فیکلٹی آفس ہیومنٹی کے ڈین ڈاکٹر سنجے ساڑونکے ڈاکٹر اے جی خان ڈاکٹر آفاق خان ڈاکٹر آر راج رائو ڈاکٹر پی اے عطار ڈاکٹر سدھیر گوہانے اور ڈاکٹر مظہر فاروقی مہمانان خصوصی کی حیثیت سے شریک تھے ۔

اقلیتی ترجیحات ادب اور صحافت کی سیاسی سماجی وثقافتی توجیھات پر منعقدہ اس بین الاقوامی کانفرنس میں مولانا آزاد کے فلسفہ اور ان کے سیکولر نظریات وسیاسی تحفظات کی روشنی میں اس کانفرنس کے اغراض ومقاصد پر ڈاکٹر انتخاب حمید نے روشنی ڈالی ۔ انھوں نے کہا کہ آج جو تعلیمی ڈھانچہ ہمیں میسر ہے وہ آزاد ہندوستان کے اولین وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کی مرہون منت ہے جنھوں نے اپنی دور اندیشی سے یو جی سی کی بنیاد ڈالی جو سارے ہندوستان میں تعلیمی نظام چلاتی ہے ۔ اس طرح انھوں نے مولانا ابوالکلام آزاد کی خدمات سے حاضرین کو واقف کروایا ۔ دیگر مہمانوں نے بھی اس موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ مذکورہ کانفرنس کو کامیاب بنانے میں منجو شامتھا ڈاکٹر اتم امبھورے ڈاکٹر لیاقت شیخ ڈاکٹر شیخ پرویز اسلم اور مولانا آزاد ریسرچ سینٹر کے منیجر عابد علی خان اور دیگر اسٹاف ممبران نے اہم رول ادا کیا ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.