صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

آزادی کے بغیر سماجی و معاشی ترقی نا ممکن: پروفیسر مچکند دوبے

31,425

آئین میں اقلیتوں کے حقوق، ان کے رسم و رواج، تعلیمی اداروں، مذہبی آزادی اور سلامتی کو یقینی  بنانے کی ضمانت دی گئی ہے

نئی دہلی: یوم آزادی کی مناسبت سے فورم فار ڈیموکریسی کمیونل امیٹی (ایف ڈی سی اے) کے زیر اہتمام ایک آن لائن پروگرام بعنوان ’یوم آزادی کا پیغام‘ منعقد ہوا۔ پروگرام میں پروفیسر مچکند دوبے نے کہا کہ آزادی ہمیں بہت جدو جہد کے بعد ملی ہے۔ ہمارے آباء و اجداد نے یہ قربانیاں اس لئے دیں کیونکہ آزادی میں ملک کی عزت و وقار ہے۔ آزادی کے اقدار کی توضیح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بال  گنگا دھر تلک نے کہا تھا کہ آزادی ہمارا پیدائشی حق ہے۔ کوئی بھی عزت دار ملک خود کو اس حق سے محروم نہیں کرسکتا اور آزادی کے بغیر  سماجی اور معاشی ترقی نہیں ہوسکتی۔

ڈاکٹر امبیڈکر نے دستور ساز اسمبلی میں آئین پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ہم اس آئین کی معاشی اور سماجی دفعات کو نافذ کرنے سے قاصر رہے تو اس کے سیاسی دفعات بیکار ہوجائیں گے اور ہمارا جمہوری نظام ناکام ہوجائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب سبھاش چندر بوس کانگریس کے صدر تھے، انہوں نے اس موضوع پر غور کرنے اور سفارشات دینے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔ آئین میں اقلیتوں کے حقوق، ان کے رسم و رواج، تعلیمی اداروں، مذہبی آزادی اور سلامتی کو یقینی  بنانے کے لئے دیئے گئے حقوق اسی سفارش سے لئے گئے ہیں۔ سبھاش چندر بوس نے اکثریت سے اپیل کی تھی کہ وہ اقلیتوں کی آزادی اور ان کی مذہبی آزادی کا خیال رکھیں۔

اقلیتوں کو نشانہ بنانے والے نئے قوانین پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پروفیسر دوبے نے کہا کہ پولیس اور تفتیشی ایجنسیوں کے ذریعہ اقلیتوں پر تشدد اور بنیادی حقوق سے محروم کیا جارہا ہے۔یہ سب ایک طے شدہ پالیسی کے مطابق ہورہا ہے۔یہ ایک عرصے سے حکمراں جماعت کا ایجنڈا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمراں جماعت تقسیم کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ یہ زمین کی تقسیم نہیں بلکہ دلوں کی تقسیم ہے۔ اس تقسیم کی وجہ سے سماجی اور معاشی ترقی کبھی نہیں ہوسکتی۔ معاشی پالیسیسوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستانی حکومت نے ’معاشی پالیسیوں‘ کے نام پر ملک کو سرمایہ داروں کے حوالے کردیا ہے۔

صحت اور تعلیم کے اداروں کو نظر انداز کردیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں غریب عوام مشکلات کا شکار ہیں۔ نجی شعبے میں سروسز ان کی پہنچ سے باہر ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کچھ تجاویز دیں، جو یہ ہیں: فرقہ واریت کی لہر کو روکنا ہوگا۔ اس کے لئے لوگوں کے ذہن اور دل کو بدلنا ہوگا اور گاندھی کے راستے پر چلنا ہوگا۔ اس کے لئے تعلیم، تربیت اور تجزیہ کی ضرورت ہے۔ ہندوستان کی قومیت کو ایسی جہت دینے کی ضرورت ہے جو فرقہ وارانہ امیج اور جنونی کیفیت سے الگ ہو۔

ضرورت دوستانہ سلوک کی ہے، تشدد کی نہیں۔ اقتصادی پالیسی میں بنیادی تبدیلی ہونی چاہئے۔ پرانے اداروں کو ترقی دینی ہوگی اور طب سے متعلق افراد کو تربیت دینے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنی ہوگی۔ یہ سب پبلک سیکٹر میں ہی ہوسکتاہے۔ خارجہ پالیسی کے تحت، ہندوستان کو پہلے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور خوشگوار ماحول بنانا ہوگا۔ بیرون ملک خدمات انجام دینے والے افسران کو بتایا جانا چاہئے کہ انہیں آئین کے سامنے جوابدہ ہونا ہے نہ کہ کسی لیڈر اور پارٹی کے سامنے۔

موجودہ حالات میں نظام کو ایک نئے سرے سے ڈھالنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ اس کے لئے دنیا بھر میں اتفاق رائے کے لئے کوششیں کرنی ہوں گی۔پروگرام  کے اختتام پر ایف ڈی سی اے کے قومی جنرل سکریٹری پروفیسر سلیم انجینئر نے یوم آزادی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ہم حکومت کو یہ پیغام دینے کی کوشش کریں گے کہ جس بنیاد پر ہمارے آئین سازوں نے اس ملک کو آگے لے جانے کا فیصلہ کیا تھا، اسی طرف ملک کو لے جانے کی ضرورت ہے۔ ہم سب مل کر ملک کو امن، خوشحالی، محبت اور انصاف کی راہ پر لے جانے اور اسے فروغ دینے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے پروگرام میں موجود تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.