صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

انفاق فی سبیل اللہ 

591

 

 

وَاَقِيْمُوا الصَّلَاةَ وَاٰتُوا الزَّكَاةَ وَاَقْرِضُوا اللّـٰهَ قَرْضًا حَسَنًا ۚ وَمَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَيْـرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّـٰهِ هُوَ خَيْـرًا وَّاَعْظَمَ اَجْرًا ۚ وَاسْتَغْفِرُوا اللّـٰهَ ۖ اِنَّ اللّـٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِـيْـمٌ (سورة مزمل: ۲۰ )

 

"اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور اللہ کو اچھی طرح (اخلاص سے) قرض دو، اور جو کچھ نیکی آگے بھیجو گے اپنے واسطے تو اس کو اللہ کے ہاں بہتر اور بڑے اجر کی چیز پاؤ گے، اور اللہ سے بخشش مانگو، بے شک اللہ بخشنے والا نہایت رحم والا ہے”۔

 

رمضان کی آمد آمد ہے اور چار دانگ عالم میں اپنی رحمتوں اور مغفرتوں کے عنوان سے ہر مسلمان کے دل اور دماغ کو معطر اور معطر کر رہا ہے۔ اور ہر مسلمان کی تمنا اور خواہش ہے کہ وہ اللہ رب العزت کی رحمتوں کا سزاور ہو جائے اور اپنے لئے مغفرتوں کے پروانے حاصل کر کے جہنم کی آگ سے نجات حاصل کرے۔ اس ماہ مبارک میں ہم مالی اور بدنی عبادت سے اللہ کو راضی کر سکتے ہیں۔ دراصل بدنی عبادت کے مقابلے میں مالی عبادت انسان کو بہت زیادہ گراں گزرتی ہے۔ اسی لئے اللہ تعالی فرما تے ہیں۔

 

وَمَن یُوقَ شُحَّ نَفْسِہِ فَأُوْلَئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُون۔

"جو اپنے دل کی تنگی سے بچا لئے گئے وہی فلاح پانے والے ہیں” (الحشر۔۹ ۔ التغابن۔16)

 

یعنی وہ شخص جو تنگ دلی پست حوصلگی اور بخل سے محفوظ رہا، اور ہمت ،حوصلہ اور کشادہ دلی سے زندگی گزاری وہ فلاح پا گیا۔ دراصل یہی وہ نکتہ جس کو ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔

 

مال انسان کی بہت سے مسائل اور مشکلات کو کم کرتی ہے۔ چونکہ آج دنیا میں جو معاشياتی نظام رائج ہے جس میں مال صرف چند ہاتھوں میں مقید ہو کر رہ گئی ہے۔ اور جو انسانوں کو غلام بنا کر انہیں مجبور اور بےبس کرکے ان پر اپنی حکمرانی کر رہی ہے۔ بینکنگ سسٹم کوہی لے لیجیئے۔ اگر سود کو بروقت ادا نہیں کیا گیا تو انسان کو دیوالیہ کر دیتی ہے۔ انسانوں کے بنائے گئے نظام انسانوں کو ہی تباہ و برباد کر رہے ہے۔ اس لئے کہ اس میں مادہ پرستی کا اتنا غلبہ ہوتا ہے کہ اس نظام کو انسان کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں ہوتا اسی وجہ سے انسانیت سسکتی جارہی ہے۔ امیر امیر تر بنتا جارہا ہے اور غریب غریب تر بنتا جارہا ہے وقت کے ساتھ فاصلے بڑھتے جارہے ہیں۔ آخر ان دکھوں کا مداوا کس طرح ممکن ہے ؟ اسلام نے چودہ سو سال پہلے ایک نظام پیش کیا "انفاق فی سبیل اللہ” جو انسانوں کے مسائل کا حل پیش کرتی ہے۔ جس میں فرد کو مجبور کئے بغیر افراد اور معاشرے میں ایسا باہمی ربط پیدا کرتی ہے ۔ جس میں امیر غریب، اونچ نیچ کی تمام دیواریں مٹا کر اخوت بھائ چارگی محبت کی فضا ہموار ہوتی ہے ۔ اللہ تعالی فرما تے ہیں ” أَنْفِق يا ابن آدم أُنْفِق عليك (بخاري ومسلم) اے ابن آدم خرچ کرو تم پر فراخی کی جائے گی ۔

 

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہر دن صبح کے وقت آسمان سے دو فرشتے نازل ہوتے ہیں، ان میں سے ایک کہتا ہے اے اللہ خرچ کرنے والے کو بدلہ عطا فرما اور دوسرا کہتا ہے اے اللہ روکے رکھنے والے کو ہلاکت عطا فرما۔ ( بخاری اور مسلم)

 

دراصل انفاق قرآن مجید کی اہم ترین اصطلاح ہے۔ جو صداقت، خیرات، زکاة اور صدقہ فطر ان تمام چیزوں کا احاطہ کئے ہوئے ہیں۔” نفق” اس سرنگ کو کہتے ہیں جس کے دو راستے ہو۔ اسی سے انفاق کا لفظ نکلا ہے۔ کہ مال ایک طرف سے حاصل کر کرکے دوسری طرف خرچ کر دے۔ اس لئے کہ انسان کئی طرح کی اخلاقی اور روحانی بیماری سے دوچار ہوتا ہے۔جو وقت کے ساتھ بڑھتا جاتا ہے۔ جو خود اس کی ذات اور معاشرے کے ایک ناسور بن جائے گا۔ اگر بروقت اس کا علاج نہیں کیا گیا۔ قرآن ایک پروگرام /لائحہ عمل تجویز کرتا ہے۔ جس طرح طب میں ایک مرض کا علاج دو طرح سے کیا جاتا ہے ‘ ایک حفاظتی(preventive) قسم کا علاج ہے اور دوسرا معالجاتی (curative) طرز کا ‘ اسی طرح یہاں بھی مرض نفاق کا علاج "انفاق” ہے۔ یعنی انسان کے دل سے مال کی محبت نکالنا۔ اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنا۔

 

مال ٘کی محبت انسان کے اندر بہت سے رذیل صفات پیدا کرتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی شان کریمی کے وہ ہمارے اندر اوصاف حمیدہ پیدا کرنا چاہتا ہے۔ اوپر اٹھانا چاہتا ہے۔ اور سب کچھ اسی کا دیا ہوا ہے۔ اگر ہم اس کے بتائے طریقہ پر خرچ کرتے ہیں تو ہمارے درجات کی بلندی کا سبب بنتی ہے۔ اور دوسری حکمت یہ کہ مال کی گردش رہے۔ معاشرے میں دولت کی وہی حیثیت ہے جو انسانی جسم میں خون کی ہے۔ اگر یہ سارا خون دل میں (یعنی مالدار طبقے ) میں جمع ہو جائے تو پورے اعضائے جسم (یعنی عوام) کو مفلوج کر دینے کے ساتھ ساتھ خود دل کے لئے بھی مضر ثابت ہو گا۔ اور ساتھ معیشت کے اعتبار سے بھی نقصان دہ ہے۔

 

اس کی مثال پانی کی سی ہے جو انسان کے لئے صحت افزا اور حیات بخش اسی صورت میں ہو سکتا ہے۔ اگر وہ بہتا رہے تو صاف اور شفاف رہے گا اگر کسی جگہ جمع ہو کر دیر تک کھڑا رہے تو بجائے فائدہ کے نقصان دہ ثابت ہوگا ۔ اس اعتبار سے زکوٰۃ، مال و دولت اور سرمائے کے لئے گردش اور انسانوں کے لئے سودمند ہو گا۔ یہ وہ نظام ہے جو زر و مال کو ایک جگہ بغیر خرچ کیے جمع رہنے سے باز رکھتا ہے۔ جس طرح کسی بھی ملک کی زرخیزی اور وسائل اس ملک کی خوشحالی کا پیمانہ نہیں ہے۔ جب تک عام انسان خوش نہیں ہے۔ بالکل اسی طرح زکوةکا نظم دولت کی صیحح تقسیم کرکے امت مسلمہ کے ہر فرد میں خوشحالی لانا چاہتی ہے۔

 

انفاق فی سبیل اللہ کے دو پہلو ہے۔ زکوة، صدقہ فطر فرائض کے زمرے میں آتے ہیں۔ اور کچھ نوافل کے درجے مثلا صداقت، خیرات اور فی سبیل اللہ۔ یہ سال بھر آپ ہر وقت دے سکتے ہیں۔ دین میں جو چیزیں فرض ہے اس کا کرنا عبادت ہے۔ زكاة فرائض کے درجے میں شمار ہوتا ہے۔ زكاة لفظ ز -ک- و کے مادہ سے نکلا ہے۔ جس کےلغوی معنی پاکیزگی، طہارت اور پاک صاف ہونے یا کرنے کا ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ نشونما دینا یے۔ یعنی ہمارے مال کو پاک اور صاف کرکے اس کو بڑھایا جائے۔ مال کی محبت انسان کے اندر بہت سے رذیل صفات پیدا کرتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی شان کریمی کے وہ ہمارے اندر اوصاف حمیدہ پیدا کرنا چاہتا ہے۔ اوپر اٹھانا چاہتا ہے۔ اور سب کچھ اسی کا دیا ہوا ہے۔ اگر ہم اس کے بتائے طریقہ پر خرچ کرتے ہیں تو ہمارے درجات کی بلندی کا سبب بنتی ہے۔ دراصل نفس کو تمام بندگی سے پاک اور صاف کرنے میں مال بھی شامل یے۔ اور اللہ تعالی ہمیں بار بار مال اور جان سے جہاد کرنے کا حکم دیتا ہے۔ تو گویا مال اور جان سے جہاد کرکے اپنے نفس کو تزکیہ کی معراج تک لے جایا جاسکتا ہے۔ اس لئے کہ مال کی محبت انسان کو بہت سے خیر سے محروم کر دیتی ہے۔

 

اللہ تعالی سورہ شمس میں فرماتا ہے ۔

” قَدْ اَفَلَحَ مَنْ زَکّٰهَا وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰهَا”

 

(القرآن، الشمس، ۹۱: ۹،۱۰)

 

’’تحقیق جس نے تزکیہ نفس کیا وہ کامیاب ہوا اور جو معصیت میں مبتلا ہوا وہ خائب و خاسر ہوا۔”

 

زکوة کی ادائیگی سے جہاں ہمارا مال پاک اور صاف ہوتا ہے ،نشونما پاتا ہے وہی ہمیں روحانی سکون کا بھی باعث بنتا ہے۔ اللہ تعالی سورہ توبہ میں فرما تے ہیں۔

 

خُذْ مِنْ اَمْوَالِـهِـمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُـمْ وَتُزَكِّيْـهِـمْ بِـهَا وَصَلِّ عَلَيْـهِـمْ ۖ اِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَّـهُـمْ ۗ وَاللّـٰهُ سَـمِيْـعٌ عَلِيْـمٌ (۹:۱۰۳)

 

ان کے مالوں میں سے زکوٰۃ لے کہ اس سے ان کے ظاہر کو پاک اور ان کے باطن کو صاف کر دے اور انہیں دعا دے، بے شک تیری دعا ان کے لیے تسکین ہے، اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔

 

مذکورہ آیت سے پتہ چلتا ہے کہ زکوة کی وجہ سے اللہ تعالی مال کو کو بڑھاتے ہیں ۔اور اس کا آخر ساتھ سو گناہ تک بڑھ جاتا ہے۔ اللہ کی رحمت ہر دم سایہ کئے رہتی ہے۔ کامیاب ہونے والوں کی جو صفت بیان کی گئی ہے ان میں ایک صفت زکوةکی ادائیگی بھی ہے۔اور جو زکوة کی ادائیگی میں کوتاہی کرتے ہیں۔ انہیں درد ناک عذاب کی وعید ہے۔ سورہ توبہ میں اللہ تعالی فرما تے ہیں۔

 

وَالَّـذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الـذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُوْنَـهَا فِىْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ فَبَشِّرْهُـمْ بِعَذَابٍ اَلِيْـمٍ۔

 

يَوْمَ يُحْـمٰى عَلَيْـهَا فِىْ نَارِ جَهَنَّـمَ فَتُكْـوٰى بِـهَا جِبَاهُهُـمْ وَجُنُـوْبُـهُـمْ وَظُهُوْرُهُـمْ ۖ هٰذَا مَا كَنَزْتُـمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُـمْ تَكْنِزُوْنَ (سورة توبہ۹: ۳۴،۳۵)

 

"اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجیے۔

 

اور جس دن مال دوزخ کی آگ میں گرم کیا جائے گا اور ان بخیلوں کی پیشانیاں اور پیٹھوں کو داغا جائے گا۔اور کہے گا میں ہی تمہارا مال ہوں جو تم نے جمع کیا تھا سو اب عذاب کا مزہ چکھو۔”

 

رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس شخص کو اللہ تعالٰی مال عطا فرمائے، پھر وہ اس میں سے زکاۃ ادا نہ کرے تو قیامت کے دن اس کا مال ایک گنجے سانپ کی شکل میں ہو گا۔ اس کی آنکھوں پر دو کالے نقطے ہوں گے۔ قیامت کے دن وہ سانپ اس کے گلے کا طوق بن جائے گا اور اس کی دونوں باچھیں پکڑ کر کہے گا: میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں۔ (بخاری)

 

سورہ الھمزہ میں واضح طور پر لکھ دیا گیا ہے کہ جو مال کو گن گن کر رکھتے ہیں انہیں حطمة والی آگ میں ڈالا جائے گا۔

 

زکوة فرض ہونے کے لئے صاحب نصاب اور عاقل اور بالغ ہونا چاہئے۔صاحب نصاب فقہ کی اصطلاح میں وہ شخص جس کے پاس سونے و چاندی ،مال مویشی، زمینی پیداوار اور تجارت زکوة کی شرائط پر پورا اترتا ہے۔ اور سال بھر گزرنے سے فرض ہوتی ہے اس کو نصاب کہتے ہیں۔ اگر کسی کے پاس ۱/۲ ۵۲ تولہ چاندی اور۱/۲ ۷ تولہ سونا ہو اور پورا سال گزر جائے تو اس کا چالیسواں حصہ یعنی 2.5 فی صد دینا فرض ہے۔

 

ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو عورتیں ہاتھوں میں کنگن پہنے ہوئے آئی آپ ص نے پوچھا، کیا تم نے اس کی زکوةنکالی ہے؟ انھوں نے عرض کیا نہیں۔۔ آپ نے فرمایا کیا تم یہ پسند کروگی کہ قیامت کے دن تمہیں اس کے بدلے آگ کے کنگن پہنائے جائے؟ (ابوداود) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر نقد نہیں ہے تو سونے کو بیچ کر ادا کرنی ہے۔

 

مصارف زکوة (حقدار)

 

سورہ توبہ میں اللہ تعالی فرما تے ہیں

 

اِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَآءِ وَالْمَسَاكِيْنِ وَالْعَامِلِيْنَ عَلَيْـهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُـهُـمْ وَفِى الرِّقَابِ وَالْغَارِمِيْنَ وَفِىْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ وَابْنِ السَّبِيْلِ ۖ فَرِيْضَةً مِّنَ اللّـٰهِ ۗ وَاللّـٰهُ عَلِيْـمٌ حَكِـيْـمٌ (سورہ توبہ ۹: ۶۰)

 

زکوٰۃ مفلسوں اور محتاجوں اور اس کا کام کرنے والوں کا حق ہے اور جن کی دلجوئی کرنی ہے اور غلاموں کی گردن چھڑانے میں اور قرض داروں کے قرض میں اور اللہ کی راہ میں اور مسافر کو، یہ اللہ کی طرف سے مقرر کیا ہوا ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔

 

یہ وہ آٹھ مد ہیں جو مصارف زکوٰۃ ہیں۔ اور جس طرح زکوٰۃ نکالنا فرض ہے بالکل اسی طرح اس کے حق داروں تک مال کی صیحح تقسیم کرنا ضروری ہے۔ساتھ ہی ساتھ اس کے حق داروں تک پہنچنا فرض ہے۔ مگر آجکل ہم اس مصروف دور میں ہمیں بہت سے معاملات کو سمجھنے اور اس کے اثرات جانچنے کی فرصت نہیں ہوتی ۔ اور ہم زکوٰۃ کواس کے مستحقین تک نہیں پہنچاتے ۔

 

ایک مرتبہ نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور مدّ ذکوٰة سے مدد کا طالب ہوا، نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ آیت کریمہ کے حوالے سے ارشاد فرمایا: ”صدقات کی تقسیم کو اللہ تعالیٰ نے کسی نبی یا غیر نبی کے حوالہ نہیں کیا ، بلکہ خود ہی اس کے آٹھ مصرف متعین فرمادئیے اگر تم ان آٹھ میں داخل ہو تو تمہیں دے سکتا ہوں ۔“(ابوداود)

 

اس سے پتہ چلتا ہے کہ جو طاقتور ہے اورکما کر کھا سکتے ہیں۔ وہ اس میں شامل نہیں ہے ورنہ تو ہر کوئی زکوٰۃ اور صدقہ کا حقدار بن جائیں گے۔ بلکہ اسلام میں رزق حلال کی بہت ہی اہمیت ہے۔

 

زکوٰۃ کی پہلے چار مد بعد کے چار مد سے زیادہ مستحق ہے۔ پہلے چار کے لئے "ل” سے بیان کیا گیا ہے ۔ اور بعد کی چار مد "فی” سے ادا کیا گیا ہے۔ علماء کا بیان ہے کہ آخری چار مد پہلے چار سے زیادہ مستحق اور ضرورت مند ہے ۔ ‘فی’ ظرفیت لے لئے بولا جاتاہے ۔ اس کا مطلب ہے ان لوگوں کے اندر رکھ دی جائے ۔ کیونکہ جو شخص کسی کا غلام یا قرض دار ہو وہ مسکین اور فقراء سے زیادہ تکلیف میں ہے ۔ اور یہ چاروں حالات وقتی ہونگے ۔ جو کوئی صاحب نصاب ہے اس کے لئے ضروری نہیں کہ تمام مد میں دے بلکہ اس کی مدد کرے جو زیادہ مستحق ہے ۔

 

صدقہ فطر کے بارے میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس نے نماز سے پہلے ادا کیا وہ صدقہ مقبول ہے اور جس نے نماز کے بعد ادا کیا تو وہ ایک عام صدقہ ہے ۔ (ابوداود)

 

روزوں میں جو کمی کوتاہی رہ جاتی ہے۔ صدقہ فطر ان تمام چیزوں کا کفارہ ہے ۔ اور دوسری حکمت جو معاشرے میں غریب ہے وہ بھی ساتھ عید کی خوشیوں میں شریک ہوسکے ۔ اور اس کی مقدار (تقریبا اڑھائی کلو اناج، جس میں چاول گیہوں وغیرہ شامل ہیں ، یا پھر وہ جنس جو متعلقہ علاقے کی خوراک ہو) ہے اگر کوئی استطاعت سے زیادہ دینا چاہتا ہے ۔ تو وہ دے سکتا ہے ۔

 

آج امت مسلمہ کا المیہ ہے کہ بیت المال کا تصور نہیں ہے۔ اس لئے زکوة لینے سے پہلے بھی ہماری وہی حالت رہتی ہے۔اور زکوة لینے کے بعد بھی وہی حالت رہتی ہے۔ اس لئے اس کا بہترین مصرف ہونا چاہیے اور وہ اسی وقت ممکن ہےجب ہم دین کی شریعت کو صحیح سمجھنے والا بنائے اور اس کو نافذ کرنے والا بنائے ۔ دین اسلام کے ہر احکام کا پاسدار بنائے ۔ رمضان نیکیوں کا مہینہ ہے ۔ ایمان کی تقویت کا مہینہ ہے ۔ ایمان جب انسان کے اندر اپنی جڑیں مضبوط کرتا ہے تو برائی کرنا مشکل اور نیکی کرنا آسان ہوتا ہے ۔ اللہ تعالی ہمیں بھی اپنے تمام عبادات اور معاملات کو حسن خوبی سے انجام دینے والا بنائے ۔ آمین

 

 

سعیدہ زبیر شیخ (اندھیری ) ممبئی

ای میل :

sz101969@gmail.com

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.