صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

سیمی معاملہ : این آئی اے کورٹ سے ۵ ؍سزا یافتہ کو ہائی کورٹ نے بری کیا

عدالت اس نتیجہ پر پہنچی کہ ان کو مجرم گرداننے کیلئے کوئی ثبوت نہیں ہے

665

کیرالا : کیرالا ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے جمعہ کو پانچ افراد کو جنہیں این آئی اے کی خصوصی عدالت نے مجرم قرار دے کر سزا سنایا تھا ۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے ۲۰۰۶ میں الووا کے پنائی کولم میں ممنوعہ تنظیم سیمی کے ساتھ غیر قانونی طور پر خفیہ میٹنگ کی تھی ۔

این آئی اے کی خصوصی عدالت نے ملزم نمبر ایک اور دو کو چودہ سال قید بامشقت کی سزا جبکہ دیگر تین ملزمین کو تعزیرات ہند کی دفعہ ۱۲۴ اے ملک سے بغاوت اور یو اے پی اے کے ۱۲ سال قید کی سزا سنائی تھی ۔ این آئی اے کی خصوصی عدالت دیگر گیارہ افراد کو بری کردیا تھا ۔

پانچوں افراد جنہیں جسٹس اے ایم شفیق کی سربراہی والی بنچ نے بری کیا ہے ان کے نام سعداللہ عرف حارث عبد الکریم (رہائش ایراٹوپیٹا ملزم نمبر ایک) عبد الرازق (ملزم نمبر دو) انضر ندوی (رہائش الووا ملزم نمبر ۳) ، نظام الدین (رہائش پنائیکولم ملزم نمبر ۴) اور شمش (رہائش ایراٹوپیٹا ملزم نمبر پانچ) ہیں ۔

استغاثہ کا الزام تھا کہ سیمی کے ذریعہ کی گئی خفیہ میٹنگ کا اہتمام مذکورہ نوجوانوں نے کیا تھا جو پنائی کولم میں یوم آزادی ۱۵ ؍اگست ۲۰۰۶ کو ہوئی تھی ۔

استغاثہ کے مطابق میٹنگ میں ایسے پمفلٹ تقسیم کئے گئے جن میں ملک سے بغاوت اور اشتعال انگیز پر مبنی مواد تحریر تھے ۔ ملزمین نے اپنی اپیل میں کہا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ میٹنگ سیمی نے بلائی تھی ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.