صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

کاشتکاروں کی طرح پاورلوم تاجروں کو بھی حکومت سے مدد ملنی چاہئے : پی کے

شہرمیں مذکورہ صنعت سے وابستہ تقریباً چار لاکھ مزدوروں پر فاقہ کشی کا سایہ

586

بھیونڈی : (عارِف اگاسکر)  پارچہ با فی صنعت کے لیے ملک کا مانچسٹرکہلائے جا نے والے بھیو نڈی شہر کی پائور لوم صنعت پر ان دنوں مالی بحران چھایا ہوا ہے ۔ نتیجتاً شہر کی اقتصادیات پر اس کا اثر ہو نے سے یہاں کے پائورلوم کی آواز آہستہ آہستہ معدوم ہو تی جارہی ہے۔ جس کی و جہ سے اس شہرمیں مذکورہ صنعت سے وابستہ تقریباً چار لاکھ مزدوروں پر فاقہ کشی کی نو بت آگئی ہے ۔ گذشتہ ایک صدی سے زائد عرصہ تک بھیونڈی میںگھر گھرہتھ کر گھے نظر آتے تھے جس کی وجہ سے مذکورہ صنعت کو گھر یلو صنعت کا درجہ حاصل رہا ہے۔۱۹۲۷؁ء میں اس شہر میںپاورلوم کی آمد کے سبب ہتھ کر گھے قصہ پارینہ ہو گئے اور پاور لوم کی کھڑ کھڑا ہٹ اس شہر کی شناخت بن گئی ۔

آج اس شہر میں تقریباً چھ لاکھ سے زائد پائورلوم ہیں۔جن پردو دو شفٹوں میں تین سے چار لاکھ مزدور کام کر تے ہیں۔ جبکہ پاور لوم کے تانے با نے نے شہر کی سیاست اور معاشیات کو مکمل طور پراپنے دھاگوں میں جکڑ لیا ہے ۔ ملک میں ۷۰؍فی صد کپڑے کی پیداوارپائور لوم صنعت سے ہو تی ہے۔ جبکہ ریاست مہاراشٹر کابھیونڈی شہر پاورلوم صنعت کے لیے کا اہم مر کز مانا جاتا ہے۔ اس شہر میں تیار ہو نے والے کپڑے کی ملک بھر میں زبردست مانگ ہے۔ لیکن مر کزی سرکار کی کھلی معاشی پالیسی، سوت کی غیر مستحکم قیمتیں ،اور سرکار کی عدم توجہی کی سبب گذشتہ چند برسوں سے اس صنعت میں عدم استحکام پیدا ہو گیا ہے اور یہ صنعت کساد بازاری کا شکار ہو گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس صنعت سے وابستہ صنعتکار اور تاجران اس کی بقاء کے لئے عرصہ سے پریشان ہیں اور کسی طرح اس صنعت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

روز مرّہ سوت (یارن)کی قیمتوں میں اضافہ اور تبدیلی کی وجہ سے مذکورہ صنعت سے وابستہ چھو ٹے صنعتکار پریشان حال ہیں جبکہ سر کار ی پالیسی میں گاہے بگاہے ہورہی تبدیلی نے اس صنعت کی کمرتوڑ کر رکھ دی ہے۔سرکار کی بدلتی پالیسی کی وجہ سے بازار میںسوت کی قیمت سے خام کپڑے کے حاصل کردہ دام کم ہو نے سے تاجران کومذکورہ صنعت کی بقاء کا مسلہ پیدا ہو گیا ہے ۔ مو جودہ حالات میںاس صنعت میں بڑے پیمانے پر کالابازاری،ذخیرہ اندوزی اور دیگر طریقوں سے لوٹ گھسوٹ جاری ہے جس پر روک لگانے کے لئے سرکار کو مذکورہ صنعت کو درپیش مسائل پر توجہ دینا ازحد ضروری ہے تاکہ اس صنعت کو بحرانی دور سے باہر نکالا جا سکے۔

پاور لوم صنعت کو درپیش مسائل کے تعلق سے گفتگو کر تے ہوئے مہاراشٹر پردیش کانگریس اسنگھٹیت کامگار کانگریس کمیٹی کے جنرل سیکریٹری پر ویز خان عرف پی کے نے افسوس کا اظہار کر تے ہوئے کہا کہ مذکورہ صنعت سےلاکھوں خاندان اپنی روزی روٹی حاصل کر تے ہیں لو گوں کو روزگار مہیاکرانے والی اس صنعت کو بچانا چاہیئے ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ یارن کی قیمتوں میں استحکام لایا جائے ،کپاس اور یارن کی بر آمدات پر پا بندی عائد کی جائے ۔جس کے سبب یہاں کے تاجران کوبڑے پیمانے پرمنافع ہوگا اور بیروزگاروں کو روزگار بھی مہیا ہوگا۔ ملک بھر میں مشہور پاورلوم صنعت کو تحفظ فراہم کر نے اور پالیسی بنا نے کا مطالبہ کر تے ہوئےپر ویز خان عرف پی کے نے مزیدکہا کہ کاشتکاروں کی طرح پاورلوم تاجران کو بھی سرکار کی طرف سے مدد ملنی چاہئے۔ایسی کوئی اسکیم بننی چاہئے کہ چھوٹے کاروباری بھی اپنی ضرورت کے مطابق کم مقدار میں ہی سہی یارن کی خریداری کر سکیں۔

جاب ورک کی بجائے اپنا خود کا کاروبار کر سکیں۔یارن کی قیمت طے ہو اور کچھ دنوں تک مستحکم رہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ سرکار کو ایک طے شدہ قیمت پر تیار کپڑا بھی خرید نا چاہیئے جس طرح وہ کاشتکاروں سے اناج خرید تی ہے۔ سرکار کو اس جانب اس لیے بھی توجہ دینی چاہیئے کہ مذکورہ صنعت کی وجہ سے بڑے پیمانے پر روزگار کے مسائل حل ہو تے ہیں۔یہاں کے کارو بار سے نہ صرف بھیونڈی بلکہ ملک کی دیگر ریاستوں کے بہت سارے گاوں میں چو لہے جلتے ہیں۔اس کارو بار پر بحران آتا ہے تو لاکھوں گھروں میں فاقہ کشی کی نوبت آتی ہے۔اس لیے سر کار کو چاہیئے کہ وہ پاورلوم صنعت کی بقاء اور تحفظ فراہم کر نے کے لیے کوئی ایسی پالیسی بنا ئے جس کی وجہ سے اس صنعت سے وابستہ تاجران کو راحت نصیب ہو سکے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.