صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

الیکشن کمیشن نے بی جے پی کی حمایت کی ہے: سنجے راؤت

73,866

بی جے پی کی ایک سیٹ پر فتح کوئی بڑی جیت نہیں، شیو سینا

ممبئی: شیو سینا کے رہنما سنجے راوت نے ہفتہ کے روز پارٹی کے رکن اسمبلی سوہاس کانڈے کا ووٹ منسوخ کرنے کے الیکشن کمیشن کے اقدام پر اپنا موقف واضح کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ الیکشن کمیشن نے بی جے پی کی حمایت کی ہے۔ راؤت نے میڈیا اہلکاروں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’ہمارا ایک ووٹ الیکشن کمیشن نے منسوخ قرار دے دیا۔ ہم نے دو ووٹوں کی مخالفت کی، لیکن اس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ الیکشن کمیشن نے ان (بی جے پی) کی حمایت کی ہے۔‘‘

مہاراشٹر میں راجیہ سبھا انتخابات کے ووٹوں کی گنتی تقریباً 7 گھنٹے تک روکے جانے پر سنجے راوت نے الیکشن کمیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ بی جے پی نے کمیشن کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔ سنجے راوت نے ٹوئٹ کیا کہ "بی جے پی نے ملک کی جمہوریت، عدلیہ، مرکزی تفتیشی مشینری اور الیکشن کمیشن کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔ کیا 3 ووٹوں کا فیصلہ کرنے میں سات گھنٹے لگتے ہیں؟ یہ حیران کن ہے۔ جمہوریت کا یہ ‘کامیڈی شو’ کب تک چلے گا؟‘‘

خیال رہے کہ بی جے پی کے پیوش گوئل، انیل بونڈے اور دھننجے مہادک نے راجیہ سبھا انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے، جب کہ مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے) کے 3 امیدوار شیوسینا کے سنجے راوت، این سی پی کے پرفل پٹیل اور کانگریس کے عمران پرتاپ گڑھی کامیاب ہوئے ہیں۔ تاہم ایم وی اے کے سنجے پوار بی جے پی کے دھننجے مہادک سے ہار گئے۔

بی جے پی اور حکمراں ایم وی اے اتحاد کی جانب سے کراس ووٹنگ اور قواعد کی خلاف ورزیوں کے تعلق سے الیکشن کمیشن (ای سی) میں شکایت درج کرانے کے بعد ریاست میں ووٹوں کی گنتی میں تقریباً 8 گھنٹے کی تاخیر ہوئی۔ کراس ووٹنگ کے الزام کے بعد بی جے پی اور شیو سینا دونوں نے ووٹوں کو نااہل قرار دینے کی اپیل کی۔

شیوسینا ایم پی سنجے راؤت نے کہا، ’’بی جے پی کی ایک سیٹ کی جیت کوئی بڑی جیت نہیں ہے۔ ہم نے خرید و فروخت کرنے والوں کی شناخت کی ہے۔ ہمارے ایک ووٹ کو نااہل قرار دینا نامناسب ہے ۔ ‘‘

Leave A Reply

Your email address will not be published.