صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

اسدالدین اویسی کی نصیحت اوران کی شاہ خرچی

588

 

مجلس اتحاد المسلمین کے قائد اسدا لدین اویسی نے اپنی بیٹی کی منگنی میں جو شاہی خرچ کیا ہے وہ ان دنوں عام مسلمانوں موضوع بحث بنا ہوا ہے ۔ ملک میں جہیز اور شادی کے خرچوں نے عام آدمی کو زندہ در گور کررکھا ہے ۔ خاص طور پر حیدر آباد کچھ سال پہلے تک غربت کی وجہ سے عرب شیوخ کی جنت بنا ہوا تھا ۔ ابھی بھی صورتحال میں بہت زیادہ تبدیلی نہیں ہوئی ہے ۔ مجبوری میں لوگ اپنی کمسن بیٹیوں کی شادیاں ادھیڑ عمر کے لوگوں سے کردیتے ہیں ۔ یہاں آپ کو ایسے لوگ بھی بڑی تعداد میں مل جائیں گے جو کم عمری خلیجی ممالک میں جاکر نوکری کرنے لگے ۔ پہلے اپنی بہنوں کی شادیاں کی ، پھر بیٹیوں کا نمبر آیا اور آخر کار بڑھاپے میں داخل ہو کر خلیجی ممالک سے ریٹائرڈ ہو کر واپس پھر اسی غربت میں جی رہے ہیں ۔
کچھ عرصہ قبل اسد الدین اویسی کی دارالسلام میں اصلاح معاشرہ پر کی گئی تقریر کا ویڈیو دیکنے میں آیا تھا ۔ جس میں انہوں نے مسلمانوں کو فضول خرچی سے بچتے ہوئے سادگی اور سنت طریقے پر شادی کرنے کی بڑی دردمندانہ اپیل کی تھی ۔جس میں خاص طور سے حضرت فاطمہؓ کی شادی کا واسطہ دے کرلوگوں کو نصیحت کی تھی۔مگر افسوس جب اپنی بیٹی کی منگنی کا موقعہ آیا تو ایسی فضول خرچی اور اصراف کا مظاہرہ کیا کہ یہی ثابت ہوا کہ ساری نصیحتیں دوسروں کیلئے تھیں ۔ عام مسلمانوں کو شادی میں عثمانیہ بسکٹ سے ضیافت کا درس دینے والے اویسی کے دسترخوان پر سیکڑوں قسم کے کھانے مع مشروبات کی بوتلوں کے کچھ اور ہی حقیقت بیان کررہے ہیں۔بادی النظر میں وہ یہ پیغام دے رہے ہیں کہ جن کے پاس پیسہ نہیں ہے وہ سادگی اور سنت طریقے پر حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہ کے جیسا نکاح کریں اور جن کے پاس پیسہ ہے وہ جو چاہیں وہ کریں سب جائز ہے ۔ معاشرے کی اصلاح اسی لئے نہیں ہو پارہی ہے کہ نصیحت کرنے والے خود ہی عمل نہیں کرتے ۔ اگر معاشرے کے سبھی بڑے لوگ علماء ، قائدین اور صاحب ثروت لوگ تقریریں نہ کرتے ہوئے عملی طور پر سادگی سے شادی کریں تو عوام میں خود بخود سادگی سے شادیاں ہونے لگیں گی ، بلکہ فضول خرچی کرنے والا سوچے گا کہ باقی لوگ تو سادگی سے کررہے ہیں ، اگر میں اتنی فضول خرچی کروں گا تو کیا لوگ کیا کہیں گے ۔ بہر حال اویسی صاحب سے ایسی امید نہیں تھی ۔کچھ لوگ کہہ رہے ہیں ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ،ساتھ ہی کچھ لوگ کہہ رہے ہیں حرام کا پیسہ حرام میں ہی جاتا ہے ۔ کیا اس بارے میں اویسی صاحب کچھ کہیں گے ؟ عام مسلمان آپ کی دارالسلا م میں سادگی سے کی جانے والی شادی کی نصیحت پر عمل کریں یا آپ نے اپنی بیٹی کی منگنی پر جو شاہانہ دعوت و فضول خرچی کا سفلی عمل کیا ہے ، اس کی تقلید کریں ؟

محفوظ الرحمن انصاری

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.