صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

مہاراشٹر کو دہلانے کی کوشش کرنےوالے آتنکی گرفتار

690

 

 

 

 

ممبئی : مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نے سناتن سنستھااور گئو رکشک کمیٹی کے رکن اور مبینہ دہشت گردوں ویبھو رائوت سمیت اس کے دو ساتھیوں شرد کالسکر25 سالہ نالا سوپارہ کے ساکن اور سدھواگوندیکر 39 سالہ کو گرفتار کرلیا ہے یہ تینوں کا ایک دوسرے کے رابطے ہونے کے ساتھ یوم آزادی پر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو مکدر کرنے کےلئے بم دھماکہ اور تخریبی کارروائی کر نے کی سازش کو انجام دینے کے درپے تھے یہ تینوں نے اس کےلئے تربیت بھی حاصل کی تھی اے ٹی ایس یہ معلوم کر رہی ہے کہ ان کا تخریبی کارروائی کا منصوبہ یوم آزادی تھا یا پھر اس کے بعد یہ دھماکہ کر سکتے تھے اے ٹی ایس نے ان تینوں کو گرفتار کر کے ایک بڑی تخریبی کارروائی کو ناکام بنانے کا بھی دعوی کیا ہے ۔ اے ٹی ایس ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق یہ تینوں ایک دوسرے کے رابطے میں تھے لیکن ان کے سم کارڈ ان کے نام پر نہیں تھے اے ٹی ایس کو یہ اطلاع ملی کہ مہاراشٹر میں کچھ لوگ تخریبی کارروائی کرنے والے ہیں اس پر اے ٹی ایس نے گزشتہ کئی ہفتوں سے ان پر نظر رکھ کر ملزمین کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے ان کے قبضے سے اے ٹی ایس نے کل ۲۲ ساز وسامان بھی برآمد کئے ہیں جو بم سازی کےلئے کام میں آتے ہیں ، جن ۲۲ساز و سامان برآمد کئے گئے ہیں اس میں نالا سوپارہ میں ویبھو کے گھر سے ۸ دیسی بم اور گودام سے ۱۲ دیسی بم کل ۲۰ بموں کا ذخیرہ، دوجیٹلین کی چھڑیاں ، چار الیکٹرانک ڈیٹو نیٹر ۲۲ نان الیکٹرانک ڈیٹو نیٹر ،سیفٹی فیوز وائر ۵۰ گرام وائٹ پائوڈر فارم نیوز پیپر بھی کانڈی کے ساتھ لپیٹا ہوا ، ۲ لیٹر کا زہر فی کس ایک لیٹر کی بوتل میں ،ایک باکس میں ۱۰ بیٹری ، ایک ۶ والڈ کی بیٹری ،کٹر اینڈ ایکسو بلیڈ سولڈنگ مشین ، تین سوئچ ، تین پی سی بی سرکٹ ۶ بیٹری کنکٹر ،دوا بیٹری کنٹینر ۴ رپلے سوئچیز ۸ ریزیسٹنڈنٹ ،۶ سوئچیز ، کچھ وائر کے ٹکڑے ،ملٹی میٹر ہینڈ گلوز ، ائیر ڈیڈ سولوشن ، ایک ہینڈ برئون سرکٹ ان پیپر شامل ہیں ، اے ٹی ایس ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ جس طرح سے یہ برآمدگی ہوئی ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کسی بڑی تخریبی کارروائی انجام دینے کےلئے یہ دھماکہ خیز مادہ جمع کیا گیا تھا اس معاملے میں اے ٹی ایس نے مزید تفتیش شروع کردی ہے ، نالا سوپارہ سے ویبھو کی گرفتاری کے بعد سے ہی اے ٹی ایس نے تقریبا ۱۶ افراد سے بھی پوچھ گچھ کی ہے ، ان تمام ملزمین کے خلاف اے ٹی ایس نے یو اے پی اے ایکٹ کے ساتھ آر مس ایکٹ اور ممنوعہ تنظیم اور گینگ سے رابطہ رکھنے کا معاملہ درج کر لیا ہے۔اے ٹی ایس نے ان ملزمین کے بایاں بازوں محاذ و نظریات کے حامل گووند پانسرے ، دابھولکراور گئور لنکیش قتل کیس میں ملوث ہونے سے بھی انکار نہیں کیا ہے جبکہ ان سے پالگھر میں اس سے قبل آر ڈی ایکس کی برآمدگی اور تھانہ کے نتن رنگا نتن تھیٹر میں ہوئے بم دھماکہ سے متعلق بھی باز پرس کی جاسکتی ہے ان تمام ملزمین سے باز پرس کا سلسلہ جاری ہے اور مزید گرفتاریوں سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ اے ٹی ایس سر براہ اتل چندر کلکر نی کی سربراہی میں یہ آپریشن کو انجام دیا گیا اور اس سے متعلق تمام تفصیلات آپریشن سے قبل مخفی رکھی گئی تھی ویبھو پر کارروائی کے بعد ہی سناتن سنستھا نے اس کی مخالفت بھی شروع کردی ہے لیکن اے ٹی ایس کے پاس اسکے خلاف پختہ ثبوت موجود ہے اے ٹی ایس نے دعوی کیا ہے کہ کافی ماہ کی محنت اور آپریشن کے بعد ہی ویبھو کو گرفتار کیا گیاہے پہلے اس کے خلاف اے ٹی ایس نے ابتدائی تفصیلات سے لے کر مکمل دستاویزات جمع کئے تھے اس پر نگرانی رکھنے کا بھی عمل جاری تھا اے ٹی ایس کے اہلکار ویبھو کی ہر حرکات وسکنات پر نظر رکھ رہے تھے آخر کار گزشتہ شب اچانک اے ٹی ایس نے اسوقت اس کے گھر پر چھاپہ مارا جب وہ گھر پر موجود تھا اس کے عمارت کے مکینوں سے بھی اے ٹی ایس نے اس سے متعلق پوچھ گچھ کی ہے اور کئی لوگوں کے اقبالیہ بیان بھی درج کئے گئے ہیں ۔ اے ٹی ایس نے اس کے گھر سے کچھ قابل اعتراض مواد بھی برآمد کئے ہیں جس میں اہم کارکنان کے نمبر بھی ملے ہیں جبکہ اے ٹی ایس اس معاملے میں اپنی تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کر نے میں سر گرم عمل ہوگئی ہے ۔ اے ٹی ایس کی کارروائی کو ہندو تنظیموں نے مشکوک قرار دیا ہے ۔ ویبھو سے متعلق یہ جاتا ہے کہ وہ ایک فعال اورسر گرم رکن ہونے کے ساتھ ہندو تنظیموں اہم کنونشن گوا میں بھی شریک تھا ۔ اے ٹی ایس یہ معلوم کر رہی ہے کہ آیا ویبھو کا کیا مقصد تھا اور وہ اتنی بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مادہ کا ذخیرہ کیوں کر رکھا تھا اور کیا یہ تخریبی کارروائی کیلئے اس کا استعمال کرنے والا تھا ۔ اے ٹی ایس کی کارروائی کے بعد پورے نالاسوپارہ میں ہلچل مچ گئی ہے ہرکوئی حیرت زدہ ہے کہ ویبھو نے اتنے بڑے پیمانے پر دھماکہ خیز مادہ اپنے گھر میں کیوں جمع کر رکھا تھا نالا سوپارہ میں جس عمارت میں ویبھو رہتا تھا اس پر بھی اے ٹی ایس کی نظر تھی گزشتہ کئی ماہ سے اے ٹی ایس نے نہ صرف ویبھو کا تعاقب کیا تھا بلکہ اس سے وابستہ ہر افراد پر اے ٹی ایس کی نظر بھی تھی اتنے بڑے آپریشن کو انجام دینے سے قبل اے ٹی ایس نے تمام دستاویزات جمع کئے تھے ویبھو کے گھر سے یوم آزادی سے قبل اتنی بڑی تعداد میں دھماکہ خیز مادہ کا برآمد ہونا ایک بڑا خطرہ بھی ہے اس لئے اے ٹی ایس یہ معلوم کر رہی ہے کہ آیا ویبھو اس دھماکہ خیز مادہ کو کہاں استعمال کرنے والا تھا کیونکہ تہواروں کا موسم بھی اب شروع ہونے والے ہے عید قرباں , گنیش اتسو , نوراتری اور محرم قریب ہیں ایسے میں ویبھو کے پاس سے دھماکہ خیز مادہ کی برآمدگی معنی خیز بھی ہے اے ٹی ایس یہ معلوم کر رہی ہے کہ ویبھو کا منصوبہ کیا تھا اور اس کے پس پشت کون لوگ ملوث ہیں ۔بتایا جاتاہے کہ ملزم ویبھو پر عید قرباں پر کئی کیس بھی درج ہیں اس پر گئو رکشک کے نام پر مداخلت کر نے کا بھی الزام ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.