صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

ممبئی میں اردو کے دو اخبارات کے ملازمین مفلس و قلاش اور مالکین مالا مال

64,144

ممبئی : ممبئی میں اردو کے نام کی کمائی کھانے والے دو حرام خور اردو اخبار کے ملازمین پھر ایک بار گزشتہ کئی مہینوں سے تنخواہ نہ ملنے کے سبب پریشان ہیں حیرانی اس بات کی ان اخبار کے مالکان جنہیں اردو نہیں آتی وہ اردو اور مسلمانوں کی دبی آواز کو اٹھانے کے نام پر ابھی بھی مال کمانے سے باز نہیں آتے ۔ ممبئی میں انقلاب کے علاوہ دو اردو اخبار جن میں ممبئی اردو نیوز اور اردو ٹائمز ہیں جن کا روز کا سرکیولیشن محض ٥٠٠ کے آس پاس ہے ۔

کچھ ہفتہ قبل صحافی نہال صغیر نے اردو صحافیوں کی حالت زار اور مالکان کی بے حسی کا تذکرہ اپنے فیس بک وال پر کیا تھا ۔ قارئین کیلئے اس کا لنک یہاں پیش کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے یہ مضمون انور حسین کے انتقال پر لکھا تھا ۔ اس پر کئی اشخاص نے اپنے کمینٹ میں لکھا تھا کہ وہ اب تک اردو صحافیوں کی زبوں حالی سے ناواقف تھے ۔ لیکن ورلڈ اردو نیوز پوری صحافتی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے ہر استحصال کرنے والے کو ایکسپوز کرے گا ۔ نہال صغیر نے لکھا تھا کہ اردو صحافیوں کی حالت زار کے بارے بتاتے ہوئے لکھا تھا اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اردو کا صحافی آپ کے زکوۃ کا مستحق ہے۔

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid026rfgQfoQfQgaR5yRXPLrtNuL5xobG8EpVoYiTqhe3B7BM8NaxayFTSgMt3tptD9ol&id=100002039005019

اردو عوام اور مسلمانوں کی ترجمانی کی آڑ میں اپنی تجوری بھرنے اور پرتعیش زندگی گزارنے والے دونوں اردو اخباروں کے مالکان پر اس سے کوئی اثرات نہیں پڑتے کہ ان کے ملازمین جن میں اردو کے صحافی بھی شامل ہیں تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے پریشانیوں میں مبتلا ہیں ۔ کئی ملازمین نے تو اب تنخواہ کی امید بھی چھوڑ دی ہے ۔ کچھ اپنی مالکین کے ساتھ وفاداری کا ثبوت دینے کیلئے پرسکون ہیں لیکن وفاداری کا پھل گذشتہ کئی مہینوں سے انہیں نہیں مل رہا ہے ۔

کہا جاتا ہے کہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے لیکن ان دو اردو اخبارات کے ملازمین کے صبر کا پھل تو کیا میٹھا ہوگا الٹے ان کے صبر کا پیمانہ ہی لبریز ہورہا ہے ۔ ایک اور معروف صحافی ہیں فاروق انصاری ہیں انہیں کئی برسوں سے مشاہرہ نہیں ملا ہے جن کا مالکین پر بقایہ دس بارہ لاکھ سے زائد ہوچکا ہے۔ ان کے بچے کے میڈیکل میں داخلہ کے وقت بھی ان کا مشاہرہ نہیں دیا گیا ۔  

ممبئی کے سماجی خدمت گار محمود حکیمی نے کہا کہ اگر مسلمان یا اردو کا بھلا چاہتے ہیں تو ان دونوں اخبارات کو بند کر کے ان کے مالکان کو ناگپاڑہ جنکشن پر کھڑا کر کے ہر آنے جانے والے سے انہیں جوتے مارتے ہوئے ذلیل کریں تاکہ تنخواہ ہڑپنے والوں کو سبق ملے ۔   

جمعہ جمعہ آٹھ دن سے وجود میں آئے اردو اخبار ممبئی اردو نیوز ہے جس کے مالک شاطر و تیز و طرار بھتیجا امتیاز اور خالد ہیں ۔ جبکہ دوسرے اخبار کا نام اردو ٹائمز ہے جس کی مالکن قمرالنسا سعید عرف چاچی چوتھی پاس ہیں ۔ ان دونوں اخباروں کے ملازمین کی تنخواہ گذشتہ ایک سال سے نہیں ملی ہے ۔ کئی اعلیٰ عہدہ پر فائز جیسے مدیر اور نائب مدیر وغیرہ کی تنخواہ کو تو چھ ماہ بیت گئے ہیں ۔ اس کی وجہ سے ملازمین اپنے اپنے مالکین کو کوس رہے ہیں لیکن منھ پر کچھ نہیں بولتے کہ رہی سہی امیدوں پر بھی پانی پھر سکتا ہے یعنی وہ تنخواہ دینے سے منع کرسکتے ہیں یا یہ کہہ دیں گے کہ تم ہمارے یہاں ملازمت ہی نہیں کرتے ہو ۔

کچھ سال قبل اسی خاندان میں تفرقہ پیدا ہونے کے بعد وجود میں آنے والا اخبار ممبئی اردو نیوز جس نے بڑی بڑی لمبی چوڑی باتیں کرتے ہوئے اردو عوام کے لئے بہت بڑا تیر مارنے کا دعویٰ کیا تھا وہ خود اب اپنے صحافیوں اور دیگر ملازمین کو جانے دیں اپنے ایڈیٹر شکیل رشید کو بھی مہینوں سے تنخواہ کی ادائیگی نہیں کی ہے ۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ اردو کے یہ بزرگ صحافی جن کی تحریروں میں ملت کا درد نمیاں طور سے جھلکتا ہے اپنی تنخواہ کیلئے مطالبہ تک نہیں کرتے ۔ دیگر ملازمین تنخواہ مانگنے کی بجائے گالیاں دے کر اپنی بھڑاس نکال رہے ہیں ۔ ممبئی اردو نیوز وہی اخبار ہے جس کے مالک اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی پہنچ بہت اوپر تک ہے اور ان کے اخبار میں خبر شائع ہونے سے ممبئی میں زلزلہ آجاتا ہے کیوں کہ ان کے سر پر انڈرورلڈ اور بابا بنگالی کا ہاتھ ہے ۔

دوسری جانب اردو ٹائمز جس کا دیوالیہ ہونے کے بعد ڈنکن روڈ آفس پر کورٹ کا تالا لگانے کے بعد انہوں نے مجگائوں کا رخ کیا ۔ چونکہ سب کو پتہ ہے کہ یہ لوگ کرایے پر جگہ لے کر خالی نہیں کرتے اس لئے انہیں اب کوئی جگہ بھی نہیں دیتا ہے ۔ اس لئے مجگائوں میں جگہ لینی پڑی وہ بھی قبرستان کے قریب جبکہ ان کا دیوالیہ پہلے ہی نکل چکا تھا ۔ ان کے ملازمین کو چاچی چوتھی پاس نے یقین دلایا تھا کہ وہ سب ٹھیک کر دیں گی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ برسوں سے گھر میں قید رہنے والی چاچی چوتھی پاس ان دنوں میدان میں اتر چکی ہیں اس کے باوجود سب کچھ ٹھیک کرنے والی بات بھی چاچی چوتھی پاس کا جملہ ہی نکلا ۔

چاچی چوتھی پاس اشتہار کی بھیک کیلئے در در کی ٹھوکریں کھاتے نظر آرہی ہیں پر کوئی ان کو پانچ سو کا اشتہار بھی نہیں دے رہا ہے کیوں کہ لوگوں کو ایسا نہیں لگتا ہے کہ اشتہار اگر دینا ہی ہے تو کوئی ڈھنگ کے ہندی اخبار کو دیں جبکہ چاچی چوتھی پاس منیر خان سے اشتہار کے لئے گڑگڑا رہی تھیں ، وہاں بھی کچھ ہاتھ نہیں لگا ۔

اب دونوں اخباروں کا ہدف ہے کہ آنے والے بلدیاتی انتخابات میں وہ امیدواروں سے پیڈ نیوز اکٹھا کریں گے ۔ اس کے بعد ہی اپنے ملازمین اور صحافیوں کی تنخواہ وہ دیں گے اب ایسے میں بے چارے صحافی اور ملازمین کہاں جائیں ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.