صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

طلاق ثلاثہ بل سے ہمیں بھی کچھ سیکھنے کی ضرورت

609

کل ہند مجلس اتحادالمسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے حسب روایت پارلیمنٹ میں مسلمانون کی نمائندگی کا حق ادا کردیا 

نہال صغیر  
پارلیمنٹ کے ایوان زیریں یعنی لوک سبھا میں طلاق ثلاثہ بل کو اکثریت کے ساتھ پا س کردیا گیا ۔ اسے بعض بی جے پی اراکین کی جانب سے مسلم خواتین کے ساتھ ہمدردی اور انصاف کے طور پر پیش کیا جارہا ہے ۔ بعض کا لفظ ہم نے اس لئے استعمال کیا ہے کہ حالیہ اسمبلی الیکشن میں اپنی ہزیمت کے سبب وہ پہلے کی طرح جشن منانے کے لائق نہیں رہے ۔ عوام نے موجودہ حکومت کو الیکشن میں وہ زخم دیا جسے چاٹنے میں اسے جشن کاخیال نہیں آرہا ہے ۔ ورنہ اگر اسے حالیہ اسمبلی الیکشن میں ہزیمت نہیں ملتی تو یہ لوگ بل کے پاس ہونے کے بعد اپنی زبانوں سے آگ اگل رہے ہوتے ۔ مذکورہ بل پر پارلیمنٹ میں چلی دن بھر کی گفتگو میں اسد الدین اویسی نے ملت کی ترجمانی کا حق اد اکردیا ۔ انہوں نے جس مومنانہ بصارت اور دلیل کے ساتھ اپنی بات رکھی وہ تاریخ رقم کرگئی ۔ اس کے بعد ان کے حق میں دو لفظ نہیں لکھنا بدترین کم ظرفی اور تنگ نظری کہلائے  گی ۔

ان کی پارلیمنٹ میں چھ منٹ کی مختصر تقریر نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ پارلیمنٹ میں صرف خاموش رہنے والے تہجد گزار مولانا یا اپنی ہی قوم کے دوسرے مسلک سے متعلق گروہ کیلئے نازیبا الفاظ استعمال کرنے والے مولوی کی نہیں اسدالدین جیسے بیباک اور نڈر قائد کی ضرورت ہے جو پارلیمنٹ میں مسلمانوں کا موقف اس طور سے رکھے کہ لوگ متاثر ہو جائیں اور غیر مسلم ممبران بھی خالص شریعت کے معاملہ میں میز تھپتھپا کر خیر مقدم کرتے نظر آئیں ۔ پارلیمنٹ جہاں سارے نہیں تو کافی بڑی تعداد میں ایسے ارکان موجود ہوتے ہیں جو معلومات کا خزانہ ہوتے ہیں ان کے سامنے اپنی بات کو دلیل کے ساتھ متاثر کن زبان و بیان میں پیش کرنے والے ارکان پارلیمنت کی ضرورت ہے ۔

سپریا سولے نے کہا یہ بھول جائو کہ مسلم خواتین اس بل کے سبب تمہاری ممنون ہوں گی انہوں نے کہا کوئی بھی عورت اپنے شوہر کو جیل بھیجنا پسند نہیں کرے گی

پارلیمنٹ میں جو باتیں کی جاتی ہیں وہ پورے ملک ہی نہیں پوری دنیا میں توجہ کا سبب بنتی ہیں ۔یہاں ایسے ارکان جو دلیل کے ساتھ قوم کا موقف رکھ سکیں اور مخالفین کے الزامات کا معقول جواب دینے والے افراد کی ضرورت ہے ۔ اگر کسی نے اسد الدین اویسی کی تقریر سنی ہوگی اور اس دوران دیگر ارکان کی باڈی لنگوئج پر غور کیا ہوگا تو یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اسد الدین اویسی نے سب کو اپنی دلیل سے زیر کرلیا تھا اور یہ یقین دلا دیا کہ حکومت کی نیت درست نہیں ہے ۔ یہاں اپوزیشن ہی نہیں بی جے پی اراکین کے چہروں سے یہ مترشح تھا کہ وہ مذکورہ بل کو خواہ پاس کروالیں لیکن ان کے پاس اسد الدین کی مدلل گفتگو اور حکومت سے کئے گئے سوالات کا کوئی جواب نہیں تھا ۔ وہ یہ بھی محسوس کررہے تھے کہ بل غیر ضروری قدم تھا جس نے بی جے پی کی ساکھ کو بری طرح متاثر کیا ہے ۔

دوران بحث کئی غیر مسلم اور سیکولر مزاج کی حامل شخصیت نے بھی بل کے مشمولات اور حکومت کی بد نیتی پر مبنی حکمت عملی کو بھی بے نقاب کیا اور یہ اعزاز بھی اسد الدین کا ہی تھا جس کی زندہ مثال یہ ہے کہ سپریا سولے نے اپنی تقریر میں اسد بھائی کہہ کر ان کی تقریر کی حمایت کی۔ این سی پی کی سپریا سولے نے عام مسلم خواتین کے حوالے سے طلاق ثلاثہ کو جرم قرار دینے کی کوشش کی مذمت کی اور کہا کہ یہ بل کسی بھی طرح مسلم خواتین کے حق میں نہیں ہے ۔ مسلم خواتین محسوس کرتی ہیں کہ حکومت ان کے نام سے کھلے طور سے شریعت میں مداخلت کی مرتکب ہو رہی ہے ۔

سوپول بہار سے کانگریس کی ایم پی رنجیت رنجن نے کہا قرآن سے بہتر دنیا میں کوئی قانون نہیں انہوں نے مذکورہ بل کو حکومت کی بدنیتی سے تعبیر کیا

سپریا سولے نے ہی مسلم خاتون کے حوالے سے کہا کہ وہ کہتی ہیں کہ ہم اپنے شوہر کو کبھی گرفتار نہیں ہونے دیں گے کیونکہ وہ میرے بچوں کے والد ہیں ۔ شاید یہ پہلی بار ہوا ہے کہ پارلیمنٹ میں غیر مسلم خاتون ممبران نے زمینی سطح سے حکومت کو سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ اپنی اس حرکت سے باز آجائے ۔ لیکن حکومت چونکہ قدم آگے بڑھا چکی ہے اور اس کے پاس فی الحال عوام کے سامنے پیش کرنے اور انہیں اپنے وعدے کے مطابق کام گنانے کیلئےفہرست دستیاب نہیں ہے اس لئے وہ اس طرح کی اول جلول بلوں کو پاس کررہی ہے یا عوام میں مذہب اور ذات کی بنیاد پر خلیج کو گہرا کرنے کی مجرمانہ کوشش میں مصروف ہے ۔
ہم یہاں اپنے قائدین اور مذہبی لیڈروں سے بڑے ادب و احترام کے ساتھ کہنا چاہیں گے کہ ہندوستان کے موجودہ ماحول میں یہ زندگی اور موت کا سوال بن گیا ہے کہ ’اپنی گلی اور محلوں اور مساجد سے باہر نکل کر ہم صرف اسلام کی بات کریں تو ہمیں ذلت و رسوائی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا‘ ۔ہم نے موجودہ طلاق ثلاثہ بل پر اسلام کا دفاع کم ہی کیا ہے مسلک کا دفاع زیادہ کیا ہے ۔ اسی مسلک کے دفاع نے ہمیں قدم قدم پر لڑکھڑانے پر مجبور کیا ہے ۔ ورنہ ہم اسلام اور اس کے قوانین نیز اصول کے دفاع میں آگے آئیں اور ہمیں ہزیمت کا سامنا ہو ایسا نہیں ہوسکتا ۔ پارلیمنٹ میں موجودہ بحث میں بھی دومثالیں واضح ہو کر سامنے آئیں ۔ ایک اسد الدین کی جنہوں نے ملت کے اجتماعی شعور کی ترجمانی کی اور دوسرے بدرالدین اجمل کی جنہوں نے مسلک کے دفاع کا رخ اپنایا اور نتیجہ یہ ہوا کہ پارلیمنٹ میں ان کی زبان سے وہ سب کچھ نکل گیا جس نے مسلمانان ہند کو رسوا کرنے کا کام کیا ۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارے مذہبی و سیاسی لیڈران ملت کے اجتماعی معاملات میں مذکورہ دونوں طرح کی مثالوں سے کچھ سیکھنے کی کوشش کریں گے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.