صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

وقف بورڈ میں بدعنوانیوں کو بے نقاب کرنا اولین ترجیح: وجاہت مرزا

145,510

ممبئی : مہاراشٹر کا ریاستی وقف بورڈ مالی بدعنوانیوں کے سبب تنازعات میں رہا ہے ۔ اب اس کے لئے ایک عدد چیئر مین کا انتخاب عمل میں آچکا ہے ۔ کافی دنوں سے اوقاف کے تحفظ اور اس کے فوائد غریب مسلمانوں تک پہنچانے کیلئے ایک عدد کل وقتی چیئر مین کا مطالبہ تھا ۔ اس مطالبہ کے پورا ہونے کے بعد اب امید کی جاسکتی ہے کہ وقف بورڈ سے مسلمانوں کو کچھ فیض پہنچے ۔ وجاہت مرزا کے بلامقابلہ انتخاب پر ریاستی وزیر برائے اقلیتی امور نواب ملک انہیں مبارکباد کے ساتھ ہی امید بھی ظاہر کی کہ ریاستی وقف بورڈ کے کام کاج میں تیزی اور شفافیت آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ بورڈ کے لیے ۱۰ ممبران کا انتخاب عمل میں آیا ہے جبکہ خاتون اور ایم ایل اے کے درجہ کے لیے جلد ہی نامزدگی کی جائے گی ۔ چیئرمین کے انتخاب کے بعد وقف بورڈ بہتر طور پر کام کرے گا۔

واضح رہے کہ مرکز کے ۱۹۹۵ کے نوٹیفکیشن کے تحت مہاراشٹر وقف بورڈ کی دس ممبران کے ساتھ تشکیل عمل میں آئی ۔ بورڈ کے چیئرمین کے لیے انتخاب ہونا تھا لیکن مقررہ وقت تک ڈاکٹر وجاہت مرزا کے علاوہ کسی نے نامزدگی داخل نہیں کی اور ایڈیشنل سکریٹری جے شری مکھرجی نے وجاہت مرزا کے نام کا اعلان کر دیا اور ڈاکٹر مرزا بلامقابلہ منتخب ہوگئے ۔

ایک معروف الیکٹرانک چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر مرزا نے کہا کہ اس وقت ہمارے سامنے وقف کی فرضی این او سی اور وقف بورڈ کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم مہیا کرنا اولین ترجیح میں ہے تاکہ وقف میں ہونے والی شکایتیں آسانی سے سنی جائیں اور وقف بورڈ میں ہونے والی بدعنوانیوں کو بے نقاب کیا جاسکے ۔ اُنہوں نے کہا کہ ہماری کوشش اس بات پر زیادہ رہیگی کی وقف بورڈ کو مالی اعتبار سے مضبوط و مستحکم بنایا جائے تاکہ قوم کے غربا اور نادار طلبہ کی کفالت بہتر طریقے سے ہو جو وقف کے اغراض و مقاصد میں ہے ۔

مرزا نے ممبئی میں چل رہے ایس بی يو ٹی پروجیکٹ کے متعلق کہا کہ ہم وہاں وقف کی املاک میں ہونے والی بدعنوانیوں کی تفتیش کرینگے، خطاکاروں کے خلاف کارروائی ہوگی تاکہ وقف کی املاک کو بچایا جا سکے، جس میں امام باڑہ اور کچھ مساجد شامل ہیں۔

ایک طرف نئے چیئر مین کے دعوت ہیں تو دوسری جانب مسلمانوں کی جانب سے ملے جلے تاثرات کا اظہار کیا گیا ہے ۔ مولانا محمود دریا آبادی نے امید جتائی ہے کہ وقف بورڈ کے کاموں کو مہیز ملے گا ۔ تو دوسری جانب مسلم تنظیموں نے اس پر کسی طرح کے خیالات کا اظہار قبل از وقت بتایا ۔ ان کا ماننا ہے کہ انتظار کیجئے اور دیکھئے ۔ ممبئی پولس کے سابق افسر شمشیر خان پٹھان کو کسی بہتری کی امید نہیں ہے ۔ وہ کہتے ہیں چہرے بدلنے سے وقف بورڈ کی تقدیر نہیں بدل سکتی ۔ انہوں نے کہا کہ اگر وقف املاک کی آمدنی کا صحیح استعمال ہو تو مسلمانوں کو کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.