صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

مظلوم جمال خاشقجی : شرع کہتی ہے کہ قاتل کی اڑادو گردن

654

پروفیسر محسن عثمانی ندوی
 
شہزادہ گلفام محمد بن سلمان خوش قسمت ہیں کہ انہیں نقصان مایہ کچھ نہیں ہوا، بدقسمت ہیں کہ شماتت ہمسایہ ان کو بہت ملی، دنیا ان کی مذمت میں ’رطب اللسان‘ہے۔ہر روز جب صبح ہوتی ہے اور ہر شام جب شامِ غریباں اپنی زلفیں لہراتی ہے، ساری دنیا کے اہل قلم اور اہل نظرعوام اور خواص جمال خاشقجی کے قتل کا اور شہزادۂ گلفام کی عقل کا ماتم کرتے ہیں۔ کیا عرب اور کیا عجم ، کیا امریکہ اور کیایوروپ ، کیا ترکی اور کیا مجلس امم ، سب انسانی حقوق کی پامالی اور جمال خاشقجی کے خون ناحق کا تذکرہ کرتے نہیں تھکتے ہیں، ہر روز و ہرجگہ یہی تذکرہ ہے۔اخبارات کے کالم اس ذکر سے لبریز ہیں ۔محمد بن سلمان ہیں کہ اس قتل میں ملوث ہونے کا انکار کررہے ہیں ۔لیکن ان کے خلاف اتنے شواہد جمع ہوگئے ہیں کہ دنیا ان کو اب معصوم نہیں سمجھتی ہے ۔ان کے دامن پر اتنے خون کے دھبے ہیں کہ بھری برسات میں بھی دھل نہیں سکتے ہیں ۔
جمال خاشقجی بہت بڑا صحافی تھا، سعودی تھا، لیکن سعودی شہزادہ کی پالیسی کا ناقدتھا،اس نے خود سے جلا وطنی اختیار کرلی تھی،اور واشنگٹن پوسٹ کا کالم نگار تھا، وہ ۱۹۵۹ء میں مدینہ منورہ کی سرزمین میں پیدا ہوا، اس کے آبا واجداد ترکی کے رہنے والے تھے،اور ۵۰۰ سو سال قبل انہوں نے حرمین شریفین کو اپنا وطن بنایا تھا، اس کے خاندان کے لوگ سعودی عرب میں وزیر بھی رہے، اور مسجد نبوی کے مؤذن بھی رہے ، اسلحہ کے مشہور تاجر عدنان خاشقجی کا تعلق بھی اسی خاندان سے تھا۔جمال خاشقجی نے شادی کی تھی، اور صاحب اولاد تھا، بڑے بیٹے کا نام صلاح تھا،آخر میں اس نے ترکی خاتون خدیجہ چنگیز سے شادی کا ارادہ کیا تھا ، تاکہ اس شادی کی بنیاد پراسے ترکی کی شہریت مل جائے،کیونکہ محمد سلمان کے انداز حکومت وسیاست پر اس کی تنقیدوں کی وجہ سے سعودی عرب میں اس کا عزت کے ساتھ رہنا ممکن نہیں تھا،وہ اس شادی کے سلسلہ میں بعض دستاویز پر سعودی کونسلیٹ کی مہر تصدیق حاصل کرنے کیلئے کونسلیٹ کے اندر داخل ہوا، اورپھر کبھی اس عمارت سے باہر نہیں نکل سکا، زمین کھاگئی یا آسمان نگل گیا، شک کی تمام سوئیاں محمد بن سلمان کی طرف اشارہ کررہی ہیں۔وہ ۲؍ اکتوبر کی تاریخ تھی، استنبول میں سعودی کونسل خانے کو یہ اطلاع تھی کہ جمال خاشقجی آنے والا ہے، اور کونسل خانہ کے ذریعہ سعودی ارباب حکومت تک بھی یہ راز افشا ہوگیا تھا، ۱۵؍ کی تعداد میں ریاض سے سیکوریٹی پولیس کے لوگ ۲؍چارٹر طیاروں میں بیٹھ کر استنبول پہونچے اور کونسل خانہ کے اندراس وقت داخل ہوئے جب جمال خاشقجی اندر پہونچ چکا تھا، ترکی حکومت کی سیکوریٹی کی طرف سے عمارت سے باہر سی سی کیمرے لگے ہوئے تھے ، کیمرے نے جمال خاشقجی کا اندر جانا ریکارڈ کرلیا، اندر کی جانب سعودی کونسل خانہ کی طرف سے جو سی سی کیمرے لگے تھے ، وہ صرف اسی دن بند کردیئے گئے تھے،کسی بڑے واقعہ کی تیاری کیلئے ،کسی جرم کی پردہ پوشی کے لئے۔جمال خاشقجی کی منگیتر عمارت کے باہر انتظار کرتی رہی، اور ۱۱؍ گھنٹے گذر گئے اور جمال خاشقجی باہر نہیں آئے تو منگیتر کو شک گذرا،اس نے پولیس کو خبر کی، تو اندر کے ملازموں نے کہا کہ خاشقجی آئے ضرور تھے، مگر ۲۰؍ منٹ کے بعد وہ واپس چلے گئے تھے۔
شہزادہ گلفام محمد بن سلمان صحافی جمال خاشقجی سے بہت برہم رہا کرتے تھے، کیونکہ خاشقجی صرف واشنگٹن کا کالم نگار نہیں تھابلکہ سعودی عرب میں صحافت کے میدان میں شاید ہی کسی نے اتنے کارہائے نمایاں انجام دیئے ہوں، جتنے اس صحافی نے انجام دیئے تھے، جب افغانستان میں روس کے خلاف جنگ کا معرکہ گرم تھا، اس نے میدان جنگ سے سعودی اخبارات کیلئے رپورٹنگ کی تھی، وہ الجزائر، کویت، سوڈان اور مشرق وسطی میں رہ کر انگریزی اخبارات کیلئے رپورٹر کا فرض انجام دیتا تھا،وہ ۱۹۹۹ء سے ۲۰۰۳ء تک انگریزی اخبار ’’عرب نیوز‘‘ کا ایڈیٹر رہ چکا تھا، ۲۰۰۴ء میں وہ ’’صحیفۃ الوطن‘‘ کا ایڈیٹر بن گیا، اس کے بعد لندن پھر واشنگٹن میں سعودی سفیر الامیر ترکی الفیصل کے میڈیا ایڈوائز رکی حیثیت سے اس نے کام کیا۔ اس نے صحافت کے میدان میں کام کرتے کرتے دنیا کی کئی مشہور شخصیتوں سے انٹرویو لئے، ان میں اسامہ بن لادن کا نام بھی ہے۔علامہ یوسف القرضاوی اور اخوان المسلمون کے سلسلہ میں سعودی عرب کی جوغیر حکیمانہ پالیسی رہی، اس پر بھی اس نے تنقیدیں کیں، وہ بے لاگ حق کا صحافی تھا،وہ قلم کا دھنی اور دل کا غنی تھا،اس کی متاع فکر ونظر میں کہیں حرص وطمع کی آمیزش نہیں رہتی تھی،ولید بن طلال نے جب عرب نیوز چینل بنایا تھاتو جمال خاشقجی کو اس کا ڈائیریکٹر بنایا گیا تھا۔ جمال خاشقجی سعودی عرب کا عظیم صحافی تھا، لیکن وہ شہزادہ سلمان بن محمدکی طفلانہ حرکتوں کواور غیر حکیمانہ پالیسی کو ناپسند کرتا تھا، اس نے پوری جرأت اور بیباکی سے ان پر تنقیدیں کی تھیں،اس لئے ان کو انتقام کا نشانہ بنالیا گیا۔کیونکہ سعودی عرب میں نہ آزادی ہے نہ جمہوریت، نہ کسی کو اختلاف کرنے کا کوئی حق، وہاں کے سارے عوام بے زبان جانوروں کی طرح زندگی گذارتے ہیں، ان کو کھانے پینے کا راتب مل جاتا ہے ، اس سے زیادہ کے وہ حق دار نہیں،ان کے لبِ اظہار پر تالے ڈال دیئے گئے ہیں۔آل سعود حکومت کرنے کا استحقاق کھوچکے ہیں ۔ کیونکہ وہاں کا نظام غیر اسلامی ہے، جابرانہ ہے ۔
مختلف ذرائع سے کچھ مصدقہ اور غیر مصدقہ خبریں ملی ہیں،اور بعض نامعلوم ذرائع سے ایسی آوازوں کی ریکارڈنگ موجود ہے، جس میں جمال خاشقجی کی دلدوزچیخ سنائی دیتی ہے،کہا گیا ہے جمال خاشقجی کے ہاتھ میں جو گھڑی تھی اس میں رکارڈنگ کا آلہ موجود تھا یہ اسمارٹ فون کی طرح اسمار ٹ گھڑی تھی جس سے آواز منتقل کی جاسکتی تھی ۔یہی ہاتھ کی گھڑی تھی یہی پیامی تھا جس نے ساراراز کھولا آواز کی رکارڈنگ میں موجود ہےٍ کے جمال خاشقجی سے یہ کہا جارہا ہے کہ اب تمہارا یوم الحساب آگیا ہے پھرجمال خاشقجی کی دلدوزچیخوں کی آوازآتی ہے یہ وہ رکارڈنگ ہے جسے امریکہ کے صدر ٹرمپ بھی سننے کی ہمت نہیں کرسکے ۔ خبریں یہ ہیں کہ سعودی سیکوریٹی پولیس کے لوگ جن میں محمد بن سلمان کے باڈی گارڈکے آدمی تھے جو خصوصی طیارے سے پہونچے تھے، انہوں نے جمال خاشقجی کے ٹکڑے ٹکڑے کرڈالے،اور پھر اسے ایک صندوق میں بھرا، اور پھر وہ صندوق کونسلر کے گھر پہونچایا گیا، اور تیزاب میں گوشت کو گلا دیا گیا اورکونسلر کے پائیں باغ میں جمال خاشقجی کی مثلہ کی ہوئی اور پگھلائی ہوی لاش کو دفن کردیاگیا،نہ کہیں جنازہ اٹھا نہ کہیں مزار کی ضرورت پیش آئی۔ ‘‘نے چراغے نے گلے ‘‘۔ اورپھر سعودی سیکوریٹی کے قاتلوں کا عملہ جرم قتل کے ارتکاب کے بعد فوراً ترکی سے باہر روانہ ہوگیا ،ایک حق گو صحافی کو قلم کی بیباکی اور بے خوفی کے جرم میں زمین میں دفن کردیا گیا، اور شہزادہ گلفام دادعیش دینے کیلئے اور سرزمین حرم کو بدنام کرنے کیلئے، زمین پر موجود ہے۔ جسے سزا ملنی چاہئے تھی وہ زندہ ہے، اور جسے زندہ رہنا چاہئے تھا وہ مردہ ہے۔لیکن جسے بے نام ونشان کیا گیا اس کا نام دنیا مین گونج رہا ہے اور جس کے ہاتھ خون ناحق سے رنگین ہیں اس پر ساری دنیا کی لعنت برسا رہی ہے۔
قریب ہے یار روز محشر چھپے گا کشتوں کا خون کیونکر
جو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستیں کا
سعودی حکومت جرم کی پردہ پوشی کے لئے جھوٹ پر جھوٹ بولتی رہی ۔ پہلے اس نے کہا کہ جمال خاشقجی قونصل خانہ میں داخل ہوئے تھے اور پھروہ واپس چلے گئے تھے ۔ لیکن مشکل یہ تھی کہ جمال خاشقجی کا قونصل خانہ میں داخل ہوناثابت ہے اور عمارت پر لگے ہوئے کیمرے میں اس کا عکس موجود ہے لیکن کیمرے اس کا واپس جانا نہیں دکھاتے ہیں ۔ سعودی حکومت کے پاس اس اعتراض کا کوئی جواب نہیں تھا ۔ مجبور ہوکر سعودی حکومت نے اپنا بیان بدلا اور کہا کہ قونصل خانہ میں بحث وجدال میں جمال خاشقجی اور سعودی اشخاص کے درمیان ہاتھا پائی کی نوبت آگئی جس کی وجہ سے خاشقجی کی موت ہوگئی اور یہ قتل غیر عمد کا معاملہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ لاش کو پھر کیوں چھپایا گیا اور پولیس کو کیوں خبر نہیں کی گئی یہاں پھر جھوٹ کا سہارا لیا گیا اور کہا گیا کہ ایک ترکی شخص کے لاش حوالہ کر دی گئی ، اب یہ سفید جھوٹ بولا جارہا ہے کہ اس قتل میں شاہی خاندان کا کوئی شخص ملوث نہیں ہے ۔ حالانکہ شاہی خاندان کا ملوث ہوناپورے طور پر ثابت ہے ۔ سي آئی اے نے اپنی رپورٹ میں ولی عہد کے نام کی صراحت کی ہے۔ استنبول آنے والے قاتلوں کی ٹولی میں ماہر عبد العزیز مطرب بھی تھے جو محمد بن سلمان کے سیکیوریٹی افسر تھے اور ان کے غیر ملکی دورہ پر ساتھ رہا کرتے تھے انہوں نے قتل کے بعدسعودی قونصل خانہ سے سعودی عرب ٹیلیفون کیا تھا اور ان کی آوازکی رکارڈنگ مشین دہراتی ہے ’باس کو کہدو کہ آدمیوں نے اپناکام مکمل کرلیا ہے ‘محمد بن سلمان کے سیکیوریٹی افسر کا یہ جملہ بتا رہا ہے کہ ’باس‘کا مطلب کیا ہے اور کس کی طرف اشارہ ہے۔ محمد بن سلمان کے سکیوریٹی افسر کاباس محمد بن سلمان کے علا وہ کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا ہے ۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردغان نے مطالبہ کیا ہے کہ ۱۸ ؍اشخاص کو جو قتل میں ملوث ہیں ترکی کے حوالہ کیا جائے تاکہ ان پر مقدمہ چلایا جاسکے ان میں پندرہ اشخاص تو وہ ہیں جو بارادہ جرم قتل سعودی عرب سے آئے تھے اور تیں قونصل خانہ کے افراد ہیں ۔ ترکی کا کہنا ہے کہ چونکہ جرم استنبول ترکی میں کیا گیا ہے اس لئے اس پر مقدمہ کی کارروائی بھی ترکی میں ہونی چاہئے ، یہی قانون ہے ۔اور انصاف کا یہی تقاضہ ہے ۔رجب طیب اردغان نے واضح طور پر کہا کہ اس کی تحقیق ہونی چاہئے کہ کس کے حکم اورکس کے اشارہ پر یہ قتل کیا گیا ہے ۔ سعودی سیکوریٹی کے لوگ اور پرنس کے باڈی گارڈ از خوداور بطور خود یہ جرم کرنے کے لئے چارٹر ڈطیاروں میں بیٹھ سعودی عرب سے نہیں آسکتے تھے وہ تو کسی کے حکم کی بجاآوری کے لئے اور مہم کو سرانجام دینے کیلئے آرہے تھے ۔ سعودی عرب کا دعوی ہے کہ قرآن مملکت کا دستور ہے ۔ اگر ایسا ہے تو انصاف کا تقاضہ ہے کہ قاتل کی وہی سزا ہونی چاہئے جو قرآن میں مذکور ہے یعنی قصاص ۔
یادش بخیر ، پاکستان میں ضیاء الحق کے زمانے میں بھٹو کو پھانسی دی گئی تھی،بھٹو کا جرم یہ تھا کہ اس نے اپنے کسی مخالف کے بارے میں، اپنے قریبی لوگوں کو یہ حکم دیا تھا Annihilate him یعنی اسے مارڈالو ، بھٹو کا یہ حکم عدالت میں ثابت ہوگیا تھا، چنانچہ بھٹو کو پھانسی کی سزا دی گئی ، اب اگر عدالت میں پورے طور پر یہ ثابت ہوجائے کے محمد بن سلمان نے مارڈالنے کا حکم دیا تھاتو بطور قصاص محمد بن سلمان کو پھانسی پر چڑھا دینا چاہئے، انصاف کا تقاضہ یہی ہے۔شریعت کا یہی حکم ہے ۔’ بقول شبلی ’ شرع کہتی ہے کہ قاتل کی اڑادوگردن‘‘۔دنیاکی بڑی طاقتوں کا مطالبہ ہے کہ درندگی کے اس واقعہ کی مکمل تحقیق ہونی چاہئے ہندوستان کے مسلمانوں کو بھی چاہئے کہ ہر جگہ جمال خاشقجی کی اور یمن کے مظلوم شہیدوں کی نماز جنازہ ادا کریں اور سعودی عرب میں صحیح اسلامی نظام کے قیام کامطالبہ کریں وہاں حق گوئی کے جرم میں بے شمار علماء اور مفکرین نظر بند ہیں ان علماء حق کی رہائی کے لئے آوازبلند کریں ۔ اب سعودی شہزادہ نے دیکھا کہ اس کے قتل پر سے پردہ اٹھ چکا ہے اور دنیا اسے قاتل قرار دے رہی ہے تو اسے اپنے امیج کی فکر ہوگئی ہے۔ اس نے اعلان کردیا گیا ہے کہ مملکت کی تمام مسجدوں کی تزئین اور جدید کار ی کی جائے ۔مسجدوں کی تزئین سے خون کے دھبے مٹائے نہیں جاسکتے ہیں ۔سعودی عرب میں جو کچھ ہوا وہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ جرمنی میں مقیم شہزادہ خالد فرحان کا یہ بیان بھی شائع ہوچکا ہے کہ ’یوروپ میں چار سعودی شہزادے تھے جوسعودی پالیسیوں کے ناقد تھے ان میں تین کو اغوا کیا جا چکا ہے اور صرف میں باقی بچا ہوں‘سعودی عرب کا نظام حکومت جابرانہ اور آمرانہ ہے وہاں سیکڑوں علماء اور مفکرین نظر بند ہیں ۔ سعودی عرب کی حکومت حرمین شریفین کے ذریعہ لوگوں پر اینے تقدس کا بھرم قائم رکھنا چاہتی ہے ۔ اس سعودی نظام نے پوری دنیا میں اسلام کو رسوا کیا ہے دنیاکے لوگ سعودی نظام کو اسلامی نظام سمجھتے ہیں ۔ اور سمجھتے ہیں کہ اسلامی نظام حکومت وہی ہے جو سعودی عرب میں نافذ ہے ۔سعودی عرب کی مذمت کے ذریعہ اس غلط فہمی کو دور کرنے کی ضرورت ہے ۔
حیرت بالائے حیرت تو امام حر م شیخ اور ڈائرکٹر حرمین سدیس پر ہے جنہوں نے تملق چاپلوسی کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے اور محمد بن سلمان کی تعریف میں وہ الفاظ استعمال کرڈالے جو حضور اکرم ﷺ نے حضرت عمر کے لئے استعمال کئے تھے۔ اگر امت کے اندر غیرت وحمیت کی کوئی رمق باقی ہے تو اس کے افراد ایسے امام کے پیچھے نہ نماز پڑھنا پسند کریں گے نہ اس کی تلاوت سننا گوارا کریں بقول اقبال ’ایسی نماز سے گذر ایسے امام سے گذر ‘۔سعودی عرب نے اسلام کو بہت بدنام کیاہے۔دنیا سعودی عرب کو حرمین کی سرزمین کی وجہ سے اسلام کی نمائندگی کرنے والا ملک سمجھتی ہے، اور اسلام کی نمائندگی کرنے والے ملک میں ناانصافی ہو، ظلم ہو، انسانی حقوق کی پائمالی ہو، استبدادی نظام قائم ہو، عوام کی آزادی سلب کرلی جائے، ملک کے خزانہ کو ذاتی جاگیر بنالیا جائے اور سنسنی خیز قتل کی واردات ہو تو ایسی حکومت کو بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکنا ضروری ہوجاتا ہے۔ سعودی عرب کیلئے پورے عالم اسلام میں رائے عامہ کی تشکیل ہونی چا ہئے، اور علماء کو چاہئے کہ وہ حق بات کہنے میں کسی کے مفاد کااور لومۃ لائم کا خیال نہ کریں۔سعودی عرب کا جرم تو اتنا شدید ہے کہ اگر دنیا کے مسلمان حکومت کی تبدیلی تک نفلی حج اور عمرہ کا بائیکاٹ کریں تو یہ اقدام بھی درست ہوگا ۔کیونکہ جب اسلام کی عزت وناموس خطرہ میں پڑجائے جب کسی حکومت کی وجہ سے اسلام کی رسوائی ہونے لگے تو یہ قدم بھی اٹھایا جاسکتا ہے۔ دلیل میں سیرت طیبہ کا یہ واقعہ پیش کیا جاسکتا ہے کہ صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان کوصلح کی بات چیت کے لئے مکہ بھیجا تھا اس وقت مکہ کے سرداروں نے حضرت عثمانؓ سے کہا کہ آپ طواف اور عمرہ کرلیں تو انہوں نے اس پیشکش کو قبول نہیں کیا ۔اگر دنیا کے مسلمان نفلی حج اور عمرہ سے رک جائیں تو سعودی عرب کو یہ دبائو قبول کرنا ہوگا ،کیونکہ حج ایک بہت بڑی انڈسٹری سے تبدیل ہوچکا ہے، جس سے حکومت کروڑوں ریال کماتی ہے ۔حلف الفضول کے معاہدہ میں حضوراکرمﷺ نے شرکت کی تھی یہ معاہدہ ظلم کے خلاف تھا ہندوستان کے مسلمانوں کو اور علماء کوظلم کے خلاف اپنا رول ادا کرنا چاہئے ۔اور مظلوم کا ساتھ دینا چاہئے ۔اور جو اسلام کے لئے باعث رسوائی بنا ہے اسے اقتدار کی کرسی سے ہٹانے کی کوشش کرنا چاہئے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.