صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

پرائیویٹ اسکولوں میں پسماندہ و محروم طبقات کے بچوں کے ایڈمیشن میں دشواری

 پورٹل کی سست رفتاری اور دیگر خامیوں کی وجہ سے سرپرست پریشان ، آخری تاریخ میں توسیع کیلئے ایم پی جے کا مطالبہ

602

ممبئی : حق برائے تعلیم قانون کے تحت مہاراشٹر حکومت نے ریاست کے پرائیویٹ اسکولوں میں سماج کےمعاشی طور پر کمزور اور پسماندہ طبقات کے اسٹوڈنٹس کے لئے ٪ 25 مخصوص نشستوں پر داخلے کی کارروائی شروع تو کر دی ہے ، لیکن داخلہ کے لئے آن لائن ایڈمیشن پورٹل کی سست رفتاری اور ویب پورٹل پر گوگل میپنگ کے ٹھیک طرح سے کام نہیں کرنے کی وجہ سے ایڈمیشن کے لیے کوشاں بچوں کے سرپرست آن لائن ایڈمیشن فارم ہی نہیں جمع کرپا رہے ہیں ۔

اگر کسی طرح ایڈمیشن کے لئے آن لائن ایپلیکیشن سبمٹ ہو بھی جاتا ہے تو سرپرست کے پاس بذریعہ ایس ایم ایس اپلیکیشن جمع ہونے کا کنفرمیشن نہیں پہنچ پاتا ہے ، جس کی وجہ سے عوام الجھن کا شکار ہیں ۔ اس بار ایڈمیشن کے لئے طلبہ کی عمر کم سے کم چھ سال طے کی گئی ہے ۔ گذشتہ سال یہ چھ سال سے کم تھا ۔ حکومت اسکی تشہیر کے لئے کوئی مناسب کارروائی نہیں کر سکی ، جسکی وجہ سے داخلہ کے لئے طلبہ کے عمر کو لیکر بھی زبردست الجھن  کاماحول ہے ۔ آپ کو بتادیں کہ محکمہ تعلیم نے ہیلپ سینٹر قائم کیا ہے ، لیکن ہیلپ سینٹر میں فون کال رسیو نہیں کئے جانے کی شکایت عام ہے ۔

غور طلب ہے کہ تعلیم کا حق ایکٹ ، 2009 کے تحت چھ سے چودہ  سال عمر کے گروپ کے ہر بچے کو مفت ابتدائی تعلیم فراہم کرنا لازمی ہے اور یہ سب بچوں کا بنیادی حق ہے ۔ اسی قانون کے تحت پرائیویٹ اسکولوں میں٪ 25 نشستیں معاشرے کے محروم اور کمزور طبقے کے بچوں کے لئے مختص کیا گیا ہے – محروم طبقے کے تحت شیڈولڈ کاسٹ اور درج فہرست قبائل کمیونیٹیز کے اسٹوڈنٹس اس سہولت پانے  کے اہل ہیں جبکہ ، کمزور طبقے میں دیگر پسماندہ طبقات ، اقلیتی فرقے ، وی جے این ٹی اور ڈی ٹی سے متعلق کمیونٹی کے لوگ ، جن کی سالانہ آمدنی ایک لاکھ روپے سے کم ہے اور تمام مذہب اور ذات کے معذور بچے اس کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔

داخلہ کے لئے طلباء کے سرپرست کو آن لائن فارم بھرنا ہوتا ہے ۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ سماجی ، معاشی اور تکنیکی طور پر پسماندہ طبقات کے لوگ سسٹم کی بے حسی کی وجہ سے اکثر اپنا حق پانے سے محروم رہ جاتے ہیں ۔ حکومت کی طرف سے اس کے متعلق عوامی بیداری کے لئے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا جاتا ہے اور تعلیم کو کاروبار بنا چکے اکثر پرائیویٹ اسکولوں کے منتظمین کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ ٪ 25 آر ٹی ای کے دائرہ سے باہر رہیں ۔

اس مسئلے پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایم پی جے کے جنرل سیکرٹری افسر عثمانی نے کہا  کہ "رواں تعلیمی سیشن کے لئے شروع ہوئے ایڈمیشن پراسیس میں تکنیکی خامیاں تو اپنی جگہ ، پرائیویٹ اسکولوں میں غریب ، نادار اور پسماندگی کا شکار لوگوں کے لئے مفت تعلیم حاصل کرنے کا قانون موجود ہے ، اکثریت اس بات سے نابلد ہے ۔ یہ قانون 2009 میں نافذالعمل ہوا تھا ، دس سال گزر جانے کے بعد بھی اکثریت اس کے بارے میں نہیں جانتی ہے ۔

حکومت کو ہر تعلیمی سیشن شروع ہونے سے پہلے اس کی تشہیر کرنا لازمی ہے ، لیکن محکمہ تعلیم کی طرف سے کوئی بھی کوشش نہیں دکھائی دیتی ہے اور ٹارگیٹ گروپ اس قانونی سہولت سے مستفید  نہیں ہو پاتی ہے ۔ ہر سال  ایم پی جے ریاست کے مختلف حصّوں میں انفارمیشن اور گائیڈنس سینٹر قائم کرتی ہے ، جسکے ذریعے عوامی بیداری سے لیکر آن لائن ایڈمشن فارم بھرنے کا کام انجام دیا جاتا ہے ۔ لیکن یہ اونٹ کے منہ میں زیرہ دینے جیسا ہے”

افسر عثمانی نے مزید بتایا کہ ریاست کے مختلف مقامات سے ہمیں پورٹل کے ٹھیک ڈھنگ سے کام نہیں کرنے اور دیگر شکایات موصول ہو رہی ہیں – اسلئے آج ہم نے وزیر تعلیم کو ایک میمورنڈم سونپ کر تکنیکی خرابی دور کرنے کے ساتھ ساتھ اپلیکیشن جمع کرنے کی آخری تاریخ میں توسیع کئے جانے کی گزارش کی ہے ۔

آپ کو بتا  دیں کہ موومنٹ فار پیس اینڈ جسٹس فار ویلفیئر (ایم پی جے) ایک عوامی تحریک ہے ، جو لوگوں کو اسکا حق دلانے کے لئے برسوں سے مہاراشٹر میں کام کر رہی ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.