صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے اٹھائیسویں سہ روزہ سیمینارکے دوسرے دن تین اہم مسائل زیربحث

انفارمیشن ٹکنالوجی سے متعلق مسائل ، جواہرات کی خریدوفروخت اوراحکام شرعیہ پرناواقفیت کا اثر

530

بھرت پور: ہندوستان میں شرعی مسائل پرغوروخوض اوربحث وتحقیق کرنے کے لئے قائم اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا سالانہ اٹھائیسواں سہ روزہ سیمینار راجستھان کے میل کھیڑلا میں واقع دارالعلوم محمدیہ میں جاری ہے ۔ ملک وبیرون ملک سے تشریف لائے علمائے کرام ومفتیان عظام متعلقہ مسائل پرغوروخوض کررہے ہیں ۔ آج جن موضوعات پرمفتیان کرام نے بحث ومباحثہ میں حصہ لیا ان میں سرفہرست احکام شرعیہ پرناواقفیت کا اثر ، جواہرات کی خریدوفروخت سے متعلق احکام ومسائل اورموجودہ دورمیں سب سے زیادہ اہمیت حاصل کرنے والی انفارمیشن ٹکنالوجی سے متعلق مسائل جن میں فیس بک ، واٹس ایپ ، ٹوئٹر اوردیگرتمام سماجی رابطوں کی ویب سائٹ شامل ہے ۔ اس موضوع پربطورخاص گفتگوکرنے کے لئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسرنسیم احمد تشریف لائے جنہوں نے انفارمیشن ٹکنالوجی سے متعلق مسائل پرفنی اورٹیکنیکل طریقے سے گفتگوکی ۔ آج کی نشستوں کی نظامت اکیڈمی کے جنرل سکریٹری مولاناخالدسیف اللہ رحمانی نے کی جبکہ نشستوں کی صدارت مولانا نورالحسن راشد کاندھلوی ، مولانامحبوب علی وجیہی اورڈاکٹرعبداللہ جولم نے کی ۔ مولانا نورالحسن راشد کاندھلوی نے اپنی صدارتی تقریرمیں کہا کہ چوں کہ ہندوستان بہت ہی وسیع وعریض ملک ہے اورہرخطے کے مسائل الگ الگ ہیں ، لہٰذا علماء کوچاہئے کہ وہ ہرخطے کے مسائل کے اعتبارسے اپنی تحقیق جاری رکھیں اوراپنے اپنے علاقوں کے مسائل کے حل پرزیادہ زور دیں ۔ مولانا کاندھلوی نے فرمایا کہ آج بڑا المیہ ہے کہ مدارس ومکاتب اوردارالعلوم کے قیام کے باوجود مدارس ومکاتب کے قرب وجوارمیں رہنے والامسلمان دین سے لاعلم ہے اورنماز روزہ سے غافل ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اہل مدارس ومکاتب سب سے پہلے اپنے قرب وجوارمیں بسنے والے مسلمانوں کے دین کی فکرکریں تبھی ہماری ذمہ داری پوری ہوگی ۔ مولانا کاندھلوی نے مزید کہا کہ مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ کی دعوت کامقصد یہی تھاکہ پوری دنیا کا ایک بھی مسلمان دین سے غافل نہ رہ سکے ۔ مولانامحبوب علی وجیہی نے اپنے صدارتی بیان میں اکیڈمی کے کاموں کی تعریف کی اور سیمینارکے انعقاد پر اکیڈمی کے ذمہ داران اورمیزبان سیمینار کومبارکباد پیش کی ۔ ڈاکٹرعبداللہ جولم نے اپنے صدارتی خطاب میں علمائے اسلام کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری حیثیت امت دعوت کی ہے ، ہم اس دنیامیں بہترین امت بناکر بھیجے گئے اورساتھ ہی ذمہ داری بھی ہمیں سونپی گئی کہ ہم دنیامیں دیگرقوموں کودین کی دعوت دیں اورانہیں دائرہ اسلام میں لائیں ، لیکن افسوس کہ ہم نے اپنی ذمہ داری ادانہیں کی ، ہم نے امت دعوت ہونے کا فریضہ ادانہیں کیاجس کی وجہ سے آج ہم مختلف مسائل میں گھرگئے ہیں ۔ آج ہم امت مدعوکی جانب سے نفرت اورتعصب کے شکار بن چکے ہیں ، آج ہم پوری دنیامیں مظلوم بن چکے ہیں اورکہیں بھی ہماری کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ اس کی وجہ صرف اورصرف دعوت کے کام سے بے اعتنائی برتناہے ۔ ڈاکٹرجولم نے مزیدکہا کہ ہمارے تمام مسائل کاحل دعوت کے کام میں پوشیدہ ہے ۔ آج بھی ہم اگردعوت کے کام کواپنا لیں توہمارے تمام مسائل حل ہوجائیں گے اورہم ہی غالب رہیں گے ۔

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.