صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

معاشرے کی تباہی کا اہم سبب عریانیت

بیوی مہرسے مطمئن نہیں ہے تووہ شادی کے بعد بھی اس میں اضافے کامطالبہ کرسکتی ہے اوریہ مطالبہ وہ اپنی ازدواجی زندگی میں کبھی بھی کرسکتی ہے

515


ممبئی:سنی دعوت اسلامی کا28؍واں عالمی سنی اجتماع آج یہاں وادی نورآزادمیدان میں شروع ہوگیا۔بعدنمازجمعہ اجتماع کاافتتاح ہوابعدہ الحاج قاری رضوان خان اورقاری ریاض الدین اشرفی نے اپنی پرسوز آواز میں نعت کے نذرانے پیش کیے۔سہ روزہ اجتماع کے پہلے دن کا خاص پروگرام سوالات وجوابات کاسیشن تھا ۔خواتین نے اپنے مختلف مسائل کے اسلامی حل کے لیے سوالات کیے تھے جس کے تشفی بخش جوابات محقق مسائل جدیدہ مفتی محمدنظام الدین رضوی مصباحی نے دیے۔
ایک خاتون نے سوال کیاکہ کیاوہ اپنے شوہرکوبغیربتائے اس کی جیب سے پیسہ نکال سکتی ہے ؟اس کے جواب میں انہوں نے فرمایاکہ اگرفضول خرچی نہ ہویا بینک بیلنس بڑھانامقصد نہ ہواورنہ ہی شوہرکواس سے کوئی پریشانی ہوتوایساکیاجاسکتاہے ۔اس کی ایک صورت یہ ہوسکتی ہے کہ شوہرکاقرض اداکرنے کے لیے اگرآپ اپنے شوہرکی اجازت کے بغیراس کی جیب سے پیسہ نکال لیں اورشوہرکوکوئی اورپریشانی نہ ہوتوایساکرناجائزہے۔ایک دوسرے سوال کے جواب میں انہوں نے یہ بھی فرمایاکہ مہرعورت کاحق ہے اوریہ حق اسے اسلام نے دیاہے یہاں تک کہ اگرمہرکے بغیرنکاح ہوگیاتب بھی عورت مہرکامطالبہ کرسکتی ہے اورشوہرکومہردیناپڑے گا۔مفتی صاحب نے یہ بھی فرمایاکہ اگرمردوعورت کاکم مہرپرنکاح ہوگیااوربیوی اس مہرسے مطمئن نہیں ہے تووہ شادی کے بعدبھی مہرمیں اضافے کامطالبہ کرسکتی ہے اوریہ مطالبہ وہ اپنی ازدواجی زندگی میں کبھی بھی کرسکتی ہے ،میاں بیوی کی رضامندی سے مہر کی رقم بڑھائی جاسکتی ہے۔دوران گفتگومفتی صاحب نے فرمایاکہ قرآن مجیدمیں مہرکے لیے قنطارکالفظ آیاہےاورقنطارکامطلب مال کثیرہے اس اعتبارسے دیکھاجائے تومہرکی رقم کی کوئی حدنہیں ہے یہ دس ہزاربھی ہوسکتی ہے،دس لاکھ بھی ،دس کروڑبھی اوردس ارب بھی۔
ایک اہم سوال کے جواب میں مفتی محمدنظا م الدین رضوی نے فرمایاکہ لڑکی کواپناشوہرکے انتخاب کاحق ہے مگراسے اپنایہ حق اپنے والد،ماں اوربھائی کودے دیناچاہیے کیوں کہ لڑکی فطری طورپرشرمیلی ہوتی ہے اوروہ اپنے مستقبل کے لیے کوئی مضبوط اوراچھافیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتی اس لیے عموماًایساہوتاہے کہ لڑکیاں شدت شہوت میں اپناشوہرمنتخب کرنے میں غلط فیصلہ کرلیتی ہیں اوروالدین کی ا س میں مرضی شامل نہیں ہوتی۔نتیجہ یہ ہوتاہے کہ ایسی شادیاں ناکام ہوجاتی ہیں۔اس لیے لڑکی کواپناشوہرمنتخب کرنے کاحق ہے مگراسے پنے گھروالوں سے مشاورت کرنی ضروری ہے کیوں کہ مشورہ کرنابھی سنت ہے ۔ مفتی صاحب نے اخیرمیں یہ بھی فرمایاکہ شادی کرنے میں لڑکی پراپنی مرضی اورپسندکومسلط کرنے کی کوشش نہ کریں بلکہ لڑکی سے بھی اس کی مرضی پوچھیں ۔
مفکراسلام علامہ قمرالزماں اعظمی نے ’تعلیم واخلاق کے فروغ میں عورت کاکردار‘‘کے موضوع پرایک بہترین خطاب کیا۔انہوںنے کہاکہ دنیامیں جتنے بھی عظیم اورکامیاب لوگ پیداہوئے ہیں ان میں ان کی مائوں کی تربیت کابے پناہ دخل ہے ۔انہوںنے کہاکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عہدمبارک میں خواتین کی ایسی جماعت تیارکی تھی جنہوںنے اپنی تعلیم ،اپنے اخلاق اوراپنی تربیت سے پوری ایک صدی تک علم واخلاق کاچراغ روشن کیے رکھا۔ان خواتین میں سب سے نمایاں نام ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکاہے۔حضرت عائشہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے وصال مبارک کے بعدتقریباًنصف صدی یعنی اڑتالیس سال تک باحیات رہیں اورعلم واخلاق عام کرتی رہیں۔علامہ اعظمی نے دوران گفتگوتربیت اطفال کے حوالے سے بڑی قیمتی باتیں بتائیں۔انہوں نے کہاکہ اگرآج بھی اسلام کے اصولوں کی روشنی میں بچوں کی تربیت کی جائے اولیائے امت پیداہوسکتے ہیں ،بزرگان دین پیداہوسکتے ہیں اوردنیاکے عظیم اورکامیاب لوگ پیداہوسکتے ہیں۔علامہ اعظمی نے اخیرمیں خواتین کوہدایت کی کہ اپنے بچوں کی صحیح تربیت کیجیے ،حلال روزی کھائیے اوربچوں کوبھی حلال روزی کھلائیے ۔حلال روزی کھائے اورکھلائے بغیراچھی نسل کاتصورکرناعبث ہے ۔
سہ روزہ اجتماع کے روح رواں امیرسنی دعوت اسلامی حضرت مولانامحمدشاکرعلی نوری نے اپنے پرمغزخطاب میں فرمایاکہ شرم وحیاعورت کازیورہے مگرافسوس آج عورتوں سے شرم وحیارخصت ہوچکی ہے ۔ حیاکوحیانہیں سمجھاجارہاہے اورنہ ہی زناکوزناسمجھاجارہاہے ۔گناہوں کااحساس ختم ہوتاجارہاہے جس کی وجہ سے ہمارامعاشرہ ہولناک تباہی سے دوچارہوچکاہے ۔امیرسنی دعوت اسلامی نے فرمایاکہ عفت عورت کاجوہرہے اگریہ جوہرختم ہوگیاتوسمجھ لیجیے کہ سب کچھ ختم ہوگیا ۔ آج ہمارے معاشرے کاسب سے بڑامسئلہ ایک یہ بھی ہے کہ بے شمارعورتوں کے اندرعفت کے تحفظ کے تئیں احساس ختم ہوچکاہے جس کی وجہ سے بےحد خراب اثرات پیداہوچکے ہیں ۔ امیرسنی دعوت اسلامی نے عورتوں کوپانچ نصیحتیں فرمائیں ۔ انہوں نے کہاکہ مائوں کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنی بچیوں کوسورہ نورکی تلاوت کرناسکھائیں ، اس کاترجمہ اورتفسیرپڑھائیں ، سورہ واقعہ کاترجمہ اورتفسیرپڑھائیں ۔ تیسری نصیحت یہ ہےکہ جب کہیں شادی یاکسی تقریب میں جائیں توجونمازیں قضاہوجائیں تواپنی بچیوں کوقضاشدہ نمازیں اداکروائیں ۔ چوتھے کہ سادگی اپنائیں کیوں کہ سادگی سنت ہے اوراس کے بے پناہ فوائدبھی ہیں ۔ آخری نصیحت یہ ہے کہ ان عورتوں کی طرح ہرگزنہ بنوجوغیرمردوں کواپنی طرف مائل کرتی ہیں جس کی وجہ سے گناہ کے راستے کھل جاتے ہیں ۔ امیرسنی دعوت اسلامی نے اخیرمیں ما ہ ربیع الاول کی مبارک باددیتے ہوئے اپیل کی کہ ربیع الاول کی بارہ تاریخ آنے تک اپنے اپنے گھروں میں درودشریف کے ختم کااہتمام کریں ۔ اپنے بچوں کے اندرحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے خصائل ، فضائل اورشمائل سکھائیں اوران کے اندر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرناسکھائیں ۔ آج کے اجتماع میں میں ممبئی ومضافات کے علاوہ مہاراشٹرکے کئی اضلاع سے ہزاروں خواتین وادی نورآزادمیدان حاضرہوئی تھیں ۔ کل۱۰ ؍ نومبر  اورپرسوں ۱۱ ؍ نومبر  مردوں کااجتماع ہے جس میں لاکھوں حضرات کی شرکت متوقع ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.