صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

بابابنگالی کی دہشت سے جلال کا حال بے حال ،اخبار چھپنے کے بعد شری معین اشرف کیخلاف خبر نکالی گئی اور جگہ خالی ہی رہنے دی گئی 

1,698

ممبئی : بابا بنگالی شری معین اشرف کی اردو اخباروں پر کتنی دہشت ہے اس کا اندازہ ۱ٓج ۱۱؍ فروری کے نوزائیدہ اخبار روزنامہ ’ہم آپ ‘ کے صفحہ آٹھ کو دیکھئے وہاں آپ کو بیچ کا ایک بلاک خالی ملے گا جس میں آخر میں لکھا ہے بقیہ خبر صفحہ سات پر ،اب صفحہ سات دیکھئے تو وہاں بھی دو بلاک خالی ملے گا ۔یہ دیکھ کر اخبار کے قاری حیرت زدہ رہ گئے کہ اخبار کی جگہ خالی کیوں ہے ؟ قارئین کوکیا پتہ کہ اس خالی جگہ پر شری معین اشرف عرف بابا بنگالی کیخلاف وہ خبر لگانے کی اس کے ایڈیٹر جلال الدین نے جرات کی لیکن یہ جرات چند گھنٹہ بھی قائم نہ رہ سکی اور رات میں پریس میں فون کرکے وہ خبر ہٹواکر وہ خالی چھوڑ دی گئی ۔بابا بنگالی کی یہ خبر اس کی مہاراشٹر وقف بورڈ ٹریبونل میں اس کی ہزیمت کی خبر تھی ۔جس میں اس کے فرضی ٹرسٹ کو کالعدم قرار دیا گیا تھا ۔وقف بورڈ نے بنگالی بابا کو اپنی بات رکھنے کیلئے موقعہ بھی دیا لیکن اپنی جعل سازی کی وجہ سے شاید بابا بنگالی وقف بورڈ ٹریبونل کی تاریخ میں اپنا موقف رکھنے کیلئے حا ضر نہیں ہوا ۔


اردو اخباروں کی صحافت کا معیار کتنا گر چکا ہے اس اندازہ شاید اس کے سادہ لوح قارئین کو نہیں ہے کیوں وہ خبر اور خبروں کے ذریعہ دلالی کو نہیں سمجھ سکتے ۔وہ بس اخبار پر بھروسہ کرکے اس کی خبروں کو سچ مان لیتے ہیں ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اردو اخبارات سچائی کو اردو قارئین تک ایمانداری سے پہنچاتے ہیں ؟ جواب نفی میں ہے ۔اس کا جیتا جاگتا ثبوت ایڈووکیٹ جلال الدین کی ملکیت ،ادارت میں شائع ہونے والا نوزائیدہ اخبار روزنامہ ’ہم آپ‘ کے صفحہ آٹھ اور صفحہ سات کی خالی جگہ ہے ۔ جہاں کوئی خبر نہیں ہے ۔سادہ لوح قاری تو یہی سمجھے گا کہ یہ محض کسی تکنیکی خرابی کے سبب ہوا ہے ۔لیکن کسی تکنیکی خرابی کے سبب نہیں ہے ۔

یہ اردو صحافت کے مشن کو بے ایمانی اور دلالی کے دیمک کے ذریعہ سچائی کے مشن کو چاٹ جانے کی کہانی ہے ۔اس خالی جگہ پر انجمن اسلام کی جگہ پر قابض زمین مافیا شری معین اشرف عرف بنگالی بابا کیخلاف خبر تھی جسے بامبے لیکس اور ورلڈ اردو نیوز نے شائع کیا تھا ۔ اس کا لنک ذیل میں پیش کیا جاتا ہے ۔

چھوٹا سونا پور قبرستان معاملہ میں بابا بنگالی کو بڑا جھٹکا ، وقف ٹریبونل نے بنگالی بابا کی فرضی کمیٹی پر روک لگائی  

اس کے علاوہ کسی اردو اخبار میں اتنی ایمانی قوت تھی ہی نہیں کہ وہ اپنی صفوں میں گھسی کالی بھیڑوں کے خلاف بھی خبریں شائع کرے جس نے قوم کو کھوکھلا کردیا ہے ۔ اردو اخباروں کا ایک ہی مشن رہ گیا ہے آر ایس ایس اور بی جے پی کیخلاف خبریں شائع کرنا اور اپنے یہاں کی کالی بھیڑوں کو تحفظ فراہم کرنا اسے زرد صحافت یا دوغلہ پن نہیں تو اور کیا کہیں گے ۔


ہم نے اس سلسلے میں سینئر صحافی انوراگ ترپاٹھی سے گفتگو کی تو انہوں نے کہ یہ بڑے تعجب کی بات ہے کہ خبرنکال دی گئی اور اس جگہ کو خالی رہنے دیا گیا ۔یہ میں نے ایمرجنسی کے علاوہ اور کبھی نہیں دیکھا ۔معروف گجراتی صحافی اور سماجی کارکن جتن دیسائی کہتے ہیں ’جب ایمر جنسی کے دنوں میں لکھنے کی آزادی چھین لی گئی تھی اس دور میں دو اخبارات انڈین ایکسپریس اور اسٹیٹس مین نے اپنے ادارتی کالم کو احتجاجاً خالی چھوڑ دیا تھا ‘۔جتن دیسائی کے مطابق یہ تو انہوں نے احتجاج میں کیا تھا لیکن آج جس اردو اخبار ’ہم آپ ‘ سے خبر نکالی گئی ہے یہ کسی احتجاج نہیں بلکہ کسی کے دباؤ میں اٹھایا گیا قدم ہے جس کی وضاحت اخبار کو کرنی چاہئے اور اس کے قارئین کو بھی اخبار سے اس کا سبب پوچھنا چاہئے ۔
ہم نے اس سلسلے میں تفتیش کی کیوں کہ کسی اخبار کی کوئی جگہ خالی رہ جانا کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے یہ تو تشویش کی بات ہے ۔بہر حال تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ اس صفحہ پر آزاد میدان فساد اور قتل کے ملزم زمین مافیا شری معین اشرف عرف بابا بنگالی کے سیاہ کارناموں کی خبر شائع ہوئی تھی جس میں انجمن اسلام کی زمین پر ناجائز قبضہ کرکے اس پر فرضی ٹرسٹ بانے کو لے کر تھی جس پر وقف بورڈ کے ٹریبونل نے بابا بنگالی کے ٹرسٹ پر روک لگائی تھی ۔یہ خبر اخبار میں شائع ہوچکی تھی لیکن پرنٹنگ پریس سے اسے اڑا دی گئی اور جگہ خالی رکھی گئی ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.