صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

یونانی ڈاکٹرس کی کا میابی

510

بھیونڈی : (ڈاکٹر اصغر علی انصاری ) علم وفن پر کسی کی اجارہ داری نہیں ہوتی۔ہر شخص اپنی محنت کوشش اور لگن سے علم وفن کا وارث بن سکتا ہے۔تاریخ شاہدہے کہ علم وفن کے ماہر ین اپنی جدوجہد سے علم وفن میں اضافہ کرتے ہے اور دنیا کو مستفیض     کرتے ہے۔طب یونانی علم وفن کی وہ شاخ ہے جو ہزاروں سال سے عوام الناس کی خدمت کرتی رہی ہے ۔وقت کے ساتھ ساتھ ماہرین نے اسے مزید مفید بنایا ۔ہر ملک اور ہر طبقے نے اس سے فائدہ اُٹھایا اور آج بھی اُٹھارہے ہیں ۔ایک وقت تھا جب دوسرے طریقہ علاج کے ماہرین اسکی تقلید کرتے رہے حتیٰ کہ یوروپی ممالک کی درسگاہوں میں طب یونانی کی کتابیں شامل نصاب رہیں۔لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ایلوپیتھی یا جدید طب کے ماہرین نے متعصبانہ رویہ اختیار کیا اور طب یونانی کے کارناموں کو خود سے منسوب کرنے لگے ۔حتیٰ کہ خود اپنی پیتھی کو جوکہ طب یونانی کی ہی مرہون منت تھی صرف اپنے تک محدود کرلیا اور دیگر طریقہ علاج کے ماہرین کو ان سے استفادہ سے روکنے کے لئے ہر طرح کی کوشش کیں اور آج بھی کررہے ہیں ۔

ان کی کوشش یہ ہیکہ دوسرے طریقہ علاج کے ماہرین ایلوپیتھی سے فائدہ نہ اٹھا سکے بھلے ہی انھوں نے اس پیتھی میں مہارت حاصل کی ہویا ایسی کی تعلیم حاصل کی ہو اور اسکے لئے انھوں نے قانونی اور غیر قانونی سہارے بھی لئے یہ اور بات ہے کہ اکثر نا کام رہے دوسرے طریقہ علاج کی تنظیموں نے ان کی سازشوں کو ہمیشہ نا کام بنایا۔ NIMA ایسی ایک تنظیم ہے جس  نے ایلوپیتھیک پریکٹشنرس کی کوششوں کو ناکام بنا نے کے لیے ہمیشہ سرگرم رہی۔

اس میں شک نہیں کہ یونانی ڈاکٹرس کی تنظیموں نے اپنے حقوق کے حصول  کے لئے بہت جدوجہدکی ہے۔لیکن ا س حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ انھیں اصل کا میابی اس وقت ملی ہے جب آیوروید ک والوں کا    ساتھ انھیں نصیب ہوا۔دونوں طریقہ علاج کی ایک مشتر کہ تنظیم نیما(NIMA) ہے جو آزادی کے وقت سے آج تک انڈین سسٹم آف میڈیسن کے مسائل کے حل کے لئے ہر وقت کوشاں ہے ۔ انھی کی کوششوں کا نتیجہ ہیکہ نیتی آیوگ نے اپنی سفارشات میں وہ تمام نقاط شامل کر لئے ہیں جس کی NIMA نے مانگ کی تھی امید ہے یہ جلد ہی یہ بل قانون کی شکل اختیار کرلے گا۔اس کا میابی کے لئے تمام آیورودک اوریونانی ڈاکٹرس قابل مبارک باد ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.