صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

خواتین کے احتجاجی جلوس میں شمولیت دینی ذمہ داری

شاکر پٹنی کے مطابق موجودہ حکومت نے چار برسوں میں مسلمانوں کے دینی جذبات سے کھلواڑ کے سوا کچھ نہیں کیا

589
شاکر پٹنی

ممبئی : مسلم خواتین کے احتجاجی جلوس میں خواتین کی شمولیت کو زیادہ سے زیادہ یقینی بنانا ہم سب کی دینی ذمہ داری ہے ۔یہ باتیں کُل ہند مجلس اتحاد المسلمین ممبئی کے صدر عبد الرحمن شاکر پٹنی نے 31 ؍مارچ کی مسلم خواتین کی احتجاجی ریلی کے تعلق سے جاری اپنے اخباری بیان میں کہی۔انہوں نے مزید فرمایا کہ اگر ہم نے حکومت کی شریعت میں مداخلت کیخلاف آواز بلند نہیں کی یا اس میں کوئی کوتاہی کی تو نہ صرف یہ کہ اللہ قیامت میں ہماری پکڑ کرے گا بلکہ آنے والی نسلیں بھی ہمیں معاف نہیں کریں گی۔شاکر پٹنی نے کہا موجودہ حکومت نے عوام کو ترقی کا سراب دکھا کر اقتدار پر قبضہ تو کرلیا لیکن جب اس سے عوامی توقعات پوری ہوتی نظر نہیں تو اس نے عوام کی توجہ اپنے کئے گئے وعدوں سے ہٹانے کیلئے مسلمانوں سے جڑے جذباتی اور مذہبی معاملات میں مداخلت کرنا شروع کردیا ۔ہر روز یہ نئے نئے شوشے چھوڑتی ہے اور عوام کو اسی میں الجھاکر چار سال نکال دیئے ۔شاکر پٹنی کے مطابق حکومت کی جانب سے یا اس کی خاموش حمایت سے یہ مسائل کھڑے کئے جاتے رہے ۔انہوں نے کہا کہ لوجہاد،تبدیلی مذہب ،گائے ،مسلم محلوں کے تعلق منفی بیانات ،گھر واپسی جیسے شرانگیز نعرے ،لو جہاد ،بیف بین ،وندے ماترم ،بھارت ماتا کی جئے ،اسکول میں یوگا ،سوریہ نمسکارجیسے فضول اور بے فیض معاملات کو اٹھا کر حکومت نے عوام کو گمراہ کیا ہے جبکہ یہ جذباتی نعرے اور جبریہ اس کے نفاذ کی کوشش ہندوستانی دستور و آئین کے خلاف ہے یعنی یہ حکومت وہ کام کررہی جو غیر دستوری اور غیر آئینی ہے ۔ مسلمانوں کے خلاف ایک کے بعد دوسرا محاذ کھولنے کی منصوبہ بندی میں مصروف رہنے والی حکومت نے ملک کی معیشت کو تباہ کردیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نئے نئے طرز عمل اختیار کررہی ہے اس کے تحت ان کے وزراء اختلاف رائے رکھنے والوں کو پاکستان بھیجنے کی دھمکی دیتے ہیں ۔اس طرح کے طرز عمل سے جمہوری قدروں کا گلا گھونٹا جارہا ہے ۔شاکر پٹنی نے اپنے بیان میں کہا کہ اب حکومت مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کیلئے پارلیمنٹ میں بل پیش کردیا ۔ جبکہ یہاں بہت سے عوامی مسائل ہیں جن سے پورا ملک پریشان ہے ۔مہنگائی اور کسانوں کی خود کشی ایسا سنگین مسئلہ ہے جس کی وجہ سے ملک کی شبیہ بھی متاثر ہو رہی ہے لیکن یہ حکومت طلاق بل کے بعد یکساں سول سِوِل کوڈ کے نفاذ کی سازش میں مصروف ہے ۔ ان مسائل کے مد نظر شاکر پٹنی نے 31 ؍مارچ کو آزاد میدان کی خواتین کی احتجاجی ریلی میں شمولیت کو ایک دینی اور ملی فریضہ بتایا ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پورے ملک سے مسلم خواتین کے احتجاج کی جو خبریں آرہی ہیں اس کے پس منظر میں ممبئی کی احتجاجی ریلی انشاء اللہ کامیاب ہوگی جو حکومت کو طلاق ثلاثہ بل واپس لینے پر مجبور کرے گی یا اس میں علمائے دین کے مطابق حکومت کو تبدیلی کرنے کو مجبور ہونا پڑے گا ۔ شاکر پٹنی نے پورے شد و مد کے ساتھ یہ بات بھی کہی کہ ہندوستانی مسلمان اپنی خواہش سے یہاں ہے ، یہ ملک جتنا دوسروں کا ہے اس سے زیادہ ہمارا ہے ،کسی کی جرات نہیں کہ وہ ہمیں یہاں سے نکال دے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی مسلمان یہاں کا تھا یہیں کا ہے اور یہیں کا رہے گا ۔ 

Leave A Reply

Your email address will not be published.