صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

جامع مسجد اہل حدیث ، خیرانی روڈساکی ناکہ کی طرف سے ریلیف 

 موجودہ وقت میں میرا اولین مشن ہے کہ کوئی غریب اور محتاج بھوکا نہ سوئے :عاطف سنابلی

236,259

ممبئی: کروناوائرس کی وبا کے پیش نظر ملک اور شہر میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے کاروبار بری طرح متاثر ہوگیا جس کے باعث غریبوں، مزدوروں اور یومیہ کماکر کھانے والوں کے حالات کافی ناگفتہ بہ ہوگئے تمام تکالیف کو دیکھتے ہوئےجامع مسجد اہلحدیث خیرانی روڈ کی جانب سے علاقے میں کوئی بھوکا نہ سوئے میشن کا أغاز کیا گیا جس میں روزانہ سیکڑوں افراد مستفیض ہورہے ہیں ۔

جامع مسجد اہلحدیث کے امام وخطیب عاطف سنا بلی نے بتایا کہ لاک ڈائون کی وجہ سے علاقے میں غریب مزدوروں کو روزمرہ کے لوازمات، اشیائے خوردونوش اور راشن کا انتظام کرنا کافی دشوار ہوگیا تھا اس لئے جامع مسجد اہل حدیث، خیرانی روڈ کے ذمہ داران نے اس بات کومحسوس کیا اور نوجوانوں کی دلچسپی اورمقامی احباب جماعت کے تعاون سےریلیف کا کام شروع کیا گیا اور ضرورت مندوں کے لیے دونوں وقت کھانے کے انتظامات اور گھریلو افراد کے لیے راشن کا انتظام ہوا۔

عاطف سنابلی نے بتایا کہ مقامی طور پر روزمحنت مزدوری کرکے ہوٹلوں میں کھانے والوں کے لئے دونوں وقت تیار شدہ کھانے کی تقسیم اور فیملی والوں کے لئے راشن اور بنیادی لوازمات کی فراہمی کچھ نقدی روپئے کے ساتھ ادنیٰ سی کوشش کی گئی ہے اور ساراکام کھاناکھلانااور راشن کی تقسیم  بلا اختلاف مذہب ومسلک اوربلاتفریق ہندو مسلم کیا جارہا ہے جامع مسجد اہل حدیث خیرانی روڈ کے سکریٹری محمد الیاس چودھری ( پائپ والے) نے کہا کہ ہم لوگوں کی کوشش ہے کہ جماعت کے احباب اور بالخصوص ہمارے  نوجوان کافی فکر مند ہیں کہ کم از کم اپنے علاقے میں کوئی مزدور، کوئی بیوہ اور انتہائی ضرورتمند بھوکا نہ سوئے اسی لئے تقریبا گذشتہ پندرہ دنوں سے دونوں وقت دوپہر شام تقریبا آٹھ سو لوگ کھاناکھاتے ہیں اور پورے علاقے میں دو سوراشن پیکٹ لوگوں میں بلا امتیاز مذہب ومسلک تقسیم کئے جاچکے ہیں۔

مسجد کے امام وخطیب مولانا عاطف سنابلی جن کی رہنمائی اور نگرانی میں یہ پوراکام چل رہا ہے ،نے کہا کہ اس وقت سب سے عظیم نیکی اور سب سے بڑا کام غریبوں، محتاجوں، بیواؤں اور مزدوروں کی خبرگیری کرنا ، ان کے احوال معلوم کرکے ان کے لوازمات واشیائے خوردونوش کا انتظام کرنا ہے، کرونا تو ہے ہی وبا، اس کی وجہ سےمسلسل کئی دنوں سے لاک ڈاؤن کی وجہ سے دہاڑی مزدوروں اور روزکماکر کھانے والوں کی حالت بہت خراب ہے، لوگوں کی ضروریات کاانتظام اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنا اس سے بڑا مسئلہ بنتا جارہا ہے، اور یہ مسئلہ روزبروز بڑھتا جارہا ہے، فاقہ کشی اور بھک مری کے حالات ہیں اس لئے سماج اور قوم کے تمام اصحاب ثروت کوآگے آکر اس کام کوایک مشن کے طور پر کرنا چاہئے اور ہر علاقہ میں بزرگوں، اصحاب ثروت کی سرپرستی اور رہنمائی، علماء اور ائمہ کی دلچسپی اور نوجوانوں کی محنت ولگن سب کی مشترکہ کوششوں سے مشن "کوئی بھوکا نہ سوئے ” چلانا چاہئے ۔ اس کے لئے عملی اقدامات کرنے چاہئے، مذہبی عبادت گاہوں کو خدمت خلق اور سماج کی خبرگیری کے سنٹر کے طور پر استعمال کرنا چاہئے ۔

عاطف سنابلی نے تمام مساجد کے ائمہ کرام اور ذمہ داران وٹرسٹیان سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ سب لوگ اپنے اپنے علاقہ میں اپنی اپنی مسجدوں کو مشن کوئی بھوکا نہ سوئے کا سینٹر بنائیں، گھر گھرراشن اور ضروریات کی چیزیں پہنچائیں۔ لوگوں کو جوڑکر اس عظیم کام کو منظم اندازمیں بآسانی اداکیا جاسکتا ہےمولانانے مزید کہا کہ میں اپنے ان تمام احباب واخوان کا شکرگذار ہوں جنہوں نے حوصلہ دیا، تعاون دیا اور بالخصوص نوجوانوں کا شکر گزارہوں جنہوں نے کافی دلچسپی سے اس مشن کو کامیاب بنایا اور شروع کیا مولانا عاطف سنابلی نے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اسی طرح مقامی سطح پر تمام احباب جماعت اور برادران اسلام کو مقامی دردمند احباب واخوان پر مشتمل یونٹیں اور گروپ بناکراس کام کو اپنے اپنے علاقوں میں منظم اندازمیں کرنے اور عوام الناس کی ضروریات ولوازمات زندگی کی فراہمی میں مدد اور تعاون کرنے میں آگے آنا چاہئے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.