صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

ہندوستان کے اس خطّے میں  بکرے کی قربانی پر ہے پابندی ، بقرعید کے تین دنوں میں پولیس حراست میں رکھے جاتے ہیں بکرے

1,030

 

شاہد انصاری

جس قانون اور اتحاد کو لیکر ملک کی بنیاد رکھی گئی ہے اس ملک میں جہاں ہر مذہب کے لوگوں کو اپنے مذہبی رسومات کو اداکرنے کی پوری آزدای ہے وہیں اتر پردیش کے ضلع سنت کبیر نگر کے تھانہ دھرم سینہوا کے مسہرہ گاؤں میں بقرعید کے موقع پر بکرے کی قربانی پر پولیس نے  پابندی عائد کی  ہے – یہی نہیں پولیس اس دوران بڑی تعداد میں بکروں کو حراست میں لیتی ہے – سوشل سائٹس پر ان دنوں ایک ویڈیو وایرل ہو رہا ہے ہم نے اس ویڈیو کی تحقیقات کرنی شروع کی اور معاملے کی سچائی جاننے کے لئے سب سے پہلے اتر پردیش کے ضلع سنت کبیر نگر پولیس کو ٹویٹر پیغام بھیج کر معاملے کی حقیقت جاننے کی کوشش کی جس پر انہونے جو جواب دیا وہ بہت ہی چالاکی اور سفّاکانہ جواب تھا – انکا جواب تھا

"ضلع سنت کبیر نگر تھانہ دھرم سنہوا کے مسہرہ گاؤں میں بقرعید کے تیوہار میں رسم کے مطابق بکرے کی قربانی نہیں دی جاتی پولیس کی تیوہار رجسٹر کے مطابق بکرے کی قربانی نہیں دی گئی اور آگے بھی اسی رسم کے مطابق یہ تیوہار منایا جائے گا "

اس بیان کے بعد ہم نے ٹویٹر پر کچھ اور سوال بھی کئے لیکن یوگی پولیس نے انکا جواب نہیں دیا – لیکن ہم نے تھانہ دھرم سینہوا کے تھانہ انچارج سے جب بات کی تو ان کی دلیل کچھ اور تھی – انہوں نے جو بکرے کی قربانی پر پولیس کی طرف سے لگی پابندی کے بارے میں تفصیلی جانکاری دی اور وہ جانکاری کچھ اس طرح سے تھی-

” سال 2007 میں مسہرہ گاؤں میں میں چکبندی ہوئی تھی جہاں چکبندی ہوئی وہیں مسلم قبرستان ہے اور ٹھیک اسکے بازو میں ہندوؤں کی ہولی جلانے کے مقام کا انتخاب کیا گیا یہ پیمائش حکومت کی طرف سے تھی – ہولی جلانے کے اس مقام کو لیکر مسلمانوں نے مخالفت کی اور یہ کہا کی یہاں قبرستان ہے اور یہاں اگر ہولی جلائی گئی تو انکے مذہبی جذبات مجروح ہونگے- اس بات کو لیکر فساد ہوگیا جسکے بعد پنچایت ہوئی اور یہ فیصلہ کیا گیا کی یہاں نا تو ہولی جلائی جائیگی اور نہ تو بقرعید پر بکروں کی قربانی دی جائیگی- اسکے بعد پولیس بقرعید کے ایک دن پہلے وہاں کے سارے بکروں کو پاس کے ہی ایک مکتب میں ڈاکٹروں کی موجودگی میں بند کرتی ہے اور بقرعید کے تین دنوں کے بعد انکے حوالے کرتی ہے یہ شرطیں 2017 سے لاگو کی گئی ہیں –

سب سے اہم بات یہ کی قربانی 1400سال سے چلی آرہی ہے اور قربانی اور مسلمانوں کے تیوہار کسی پولیس کی تیوہار رجسٹر کے حساب سے نہیں منائی جاتی 2007 میں جس چکبندی کے بعد یہ قانون پولیس نے لاگو کیا اس میں یہ اہم سوال ہے کی چکبندی کے بعد  مسلمانوں  کی قبرستان کے پاس نئی جگہ جہاں ہولی جلانے کی جگہ کا انتخاب کیا گیا وہ جگہ نئی جگہ تھی جسکو لیکر مسلمانوں نے مخالفت کی – اس سے پہلے اس علاقہ میں ہولی بھی جلتی تھی اور قربانی بھی ہوتی تھی لیکن چکبندی کے بعد اس نئی جگہ نے اس فساد کو  جنم دیا جسکے بعد مسلما نوں کو بکروں بکروں کی قربانی کے لئے منع کر دیا گیا-

Leave A Reply

Your email address will not be published.