صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

مسلمان کسی بھی صورت میں کسی ایک پارٹی کو ہرانے کے لیے ووٹ نہ دیں: مولانا محمود مدنی

58,438

اتر پردیش اسمبلی انتخابات کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا ہے۔ یوپی میں انتخابات سات مرحلوں میں ہوں گے جبکہ نتائج 10 مارچ کو آئیں گے۔ مولانا محمود مدنی نے اتر پردیش میں ‘مسلمان کسے ووٹ دے گا’ کے سوال پر معافی کے ساتھ جواب دیا، ریاست میں سیاسی نبض کو سمجھنے کے لیے آج تک کی طرف سے منعقد ملک کی سب سے بڑی مباحثہ پنچایت میں مولانا محمود مدنی نے کہا کہ ‘سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس’ صرف ایک نعرہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’مسلمانوں کو کسی بھی قیمت پر کسی ایک پارٹی کو ہرانے کے لیے ووٹ نہیں دینا چاہیے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ جب آپ کسی کو ہرانے کے لیے ووٹ دیتے ہیں تو جس کو ہرانا چاہتے ہیں اسے ووٹ کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن جس کو ووٹ دیتے ہیں وہ بھی سوچتا ہے کہ وہ کہاں جائے گا اور اس صورتحال میں دونوں آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں جو امیدوار ٹھیک ہو اسے ووٹ دیا جائے۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے یوپی کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش کے جناح کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں نے جناح کے خیال کو مسترد کر کے ہندوستان کا انتخاب کیا ہے۔ ہم اتفاقی طور پر ہندوستانی نہیں ہیں ہم نے اپنی خواہش سے اس کا انتخاب کیا ہے۔ محمود مدنی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ہندوستان کو مسلمانوں نے اپنی مرضی کے مطابق چنا ہے۔ جناح مسلمانوں کے پائوں پر کلہاڑی مار کر چلے گئے ۔ ایسے میں جناح کو ہندوستان کے مسلمانوں سے جوڑنا نہیں چاہیے۔

محمود مدنی نے کہا کہ اکھلیش یادو پارٹی لیڈر ہیں، انہیں جناح کی کچھ باتیں ضرور پسند آئی ہوں گی۔ ہمارا جناح سے کوئی تعلق نہیں۔ اسے مسلمانوں سے جوڑ کر کیوں دیکھا جا رہا ہے؟ اکھلیش یادو نے کس تناظر میں جناح کا ذکر کیا ہے، مجھے نہیں معلوم۔ انہوں نے تناظر سے باہر جا کر بات کی ہے جو کہ احمقانہ تھی۔ یہاں کچھ لوگ ہیں جو ناتھورام گوڈسے صاحب کی تعریف بھی کرتے ہیں۔ مدنی نے کہا کہ ہم سب کے ساتھ لفظ ‘صاحب’ استعمال کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی جا رہی ہیں۔ یہ چیزیں اس قدر بڑھ گئی ہیں کہ یہ ہر جگہ ہو رہی ہیں اور حکومت کی طرف سے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے۔ تریپورہ کیس کی مثال دیتے ہوئے مولانا مدنی نے کہا کہ تریپورہ میں ایک جلوس نکالا گیا اور گالی دی گئی۔ اتنے دن گزرنے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اگر کسی بھی برادری کا کوئی فرد کسی کے خلاف یا کسی مذہب کے عظیم آدمی کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرتا ہے تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

محمود مدنی نے کہا کہ ہم نے تریپورہ کے معاملے پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے بھی ملاقات کی تھی اور انہوں نے یقین دہانی کرائی تھی کہ کارروائی کی جائے گی، لیکن کیا ہوا۔ ساتھ ہی مولانا توقیر رضا کے بیان پر انہوں نے کہا کہ اسے ان سے نہ جوڑا جائے، کیونکہ انہوں نے کسی مذہب کے بڑے یا بڑے آدمی کو گالی نہیں دی۔ اس کے بعد بھی میں مولانا توقیر رضا کی بات سے اتفاق نہیں کرتا۔

تاہم مولانا محمود مدنی نے کہا کہ ایسے لوگ بہت کم ہیں جو ایسی زبان استعمال کرتے ہیں۔ ملک کے 80 فیصد لوگ بھائی چارے اور رواداری پر یقین رکھتے ہیں لیکن چند لوگ ایسے ہیں جو نفرت پھیلا رہے ہیں اور وہ لوگ ایسے الفاظ استعمال کر رہے ہیں۔ نفرت انگیز تقریر معاملہ میں مدنی نے کہا کہ نفرت انگیز تقریر کے ساتھ نفرت انگیز جرائم میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ نفرت پر مبنی جرائم کا مقابلہ کرنے کے لئے ذمہ داروں نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ اگر ہریدوار واقعہ پر کارروائی ہوتی تو توقیر رضا ہمت نہیں کرسکتے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.