صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

کسی ممکنہ معاہدے کی صورت میں سیکڑوں ملین ڈالر اور مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں پر فلسطینیوں کا اپنے کنٹرول کا مطالبہ۔

69,576

امریکہ، سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان سہ فریقی معاہدے کی کوشش کی جارہی ہے۔کسی ممکنہ معاہدے کی صورت میں فلسطینیوں نے سیکڑوں ملین ڈالر اور مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں پر اپنے کنٹرول کا مطالبہ کیا ہے۔ میڈیارپوٹس کے مطابق امریکہ، سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان سہ فریقی معاہدے کی کوششوں کے درمیان بدھ کو فلسطینی حکام پر مشتمل ایک وفد نے سعودی دارالحکومت ریاض میں اپنے سعودی ہم منصبوں سے ملاقات کی ہے۔ اس دوران فلسطینیوں نے کہا کہ مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں امریکی قونصل خانے کو دوبارہ کھولا جائے جو فلسطینیوں کیلئے سفارتی مشن تھا اور جسے سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بند کر دیا تھا۔ اسی طرح اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امریکہ کی ثالثی میں مذاکرات دوبارہ وہاں سے شروع کئے جائیں جہاں سے وہ ۲۰۱۴ء میں اس وقت کے وزیر خارجہ جان کیری کی قیادت میں رک گئے تھے۔طویل عرصے سے یہ کہا جا رہا ہے کہ امریکہ سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات کو معمول پر لانے کیلئے دباؤ ڈال رہا ہے۔یہ معاہدہ امریکہ کی ثالثی میں ہو گا اور اس کے تحت سعودی عرب امریکہ سے بڑے دفاعی ہتھیار حاصل کرپائے گا لیکن ان معاہدوں کو اہم رکاوٹوں کا سامنا ہے۔وہائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے بتایا ،’’ ہمیں آنے والے عرصے میں اس ضمن میں کسی فوری اعلان یا پیش رفت کی توقع نہیں ہے لیکن مشرق وسطیٰ میں تعلقات میں تاریخی تبدیلی کو ذہن میں رکھتے ہوئے کسی بھی معاہدے کے امکان پر مسلسل قیاس آرائیاں جاری ہیں ۔‘‘

ماہرین کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان معاہدے کو ایک اہم خارجہ پالیسی کی کامیابی کے طور پر دیکھتے ہیں جسے وہ اگلے سال ہونے والے انتخابات سے قبل ووٹرز کو اپنی طرف مائل کرنے کے لئے استعمال کر سکتے ہیں ۔سعودی عرب، عرب اور عالم اسلام کا موثر ملک ہے۔ ۱۹۴۸ء میں اسرائیل کا قیام ہوا تب سے اب تک سعودی عرب نے اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا ہے۔ گزشتہ ماہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس معاہدے کے امکانات پر بات کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تھا ،’’ ہم ایک تاریخی واقعہ کا مشاہدہ کرنے جا رہے ہیں ۔

‘‘دوسری طرف ایک بات واضح ہے کہ جو بھی معاہدہ ہو گا وہ متنازع ہو گا۔ ڈیانا بٹو فلسطینیوں کی سرکاری مذاکراتی ٹیم کی سابقہ قانونی مشیر ہیں ۔ وہ کہتی ہیں ،’’ یہ زیادہ تر سیکورٹی اور تجارتی معاہدے ہیں ۔ سال ۲۰۲۳ء کی طرف آتے ہیں ، اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ سعودی عرب بھی اس میں شامل ہونا چاہتا ہے۔اس کے علاوہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو سعودی عوام کو بھی مطمئن کرنا پڑے گا جو تاریخی طور پر اسرائیل مخالف ہیں اور فلسطینیوں سے گہری ہمدردی رکھتے ہیں ۔ دوسری جانب ڈیموکریٹک پارٹی کی حمایت حاصل کرنے کیلئے صدر بائیڈن کو یہ ثابت کرنے کی بھی ضرورت ہو گی کہ انہوں نے فلسطینیوں کیلئے اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔‘‘

Leave A Reply

Your email address will not be published.