صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

باندرہ ورسوا سی لنک پروجیکٹ کے لئے رخنہ دور ہونے کی امید

گورائی علاقہ میں 299 ایکڑ زمیں کی نشاندہی کی گئی ہے جسے متاثر ہونے والے درختوں کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے

484

ممبئی : (ریحان یونس) مہاراشٹر روڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ایم ایس آرڈی سی) نے طویل عرصہ سے التواء کا شکار باندرا – ورسووا سی لنک پروجیکٹ اجازت نامہ کی درخواست کے لئے جمعرات کو بامبے ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن داخل کی ہے ۔ ایم ایس آر ڈی سی نے گورائی علاقہ میں 299 ایکڑ زمیں کی نشاندہی کی ہے جو مذکورہ پروجیکٹ کے دوران متاثر ہونے والے درختوں کے متبادل کے طور پر استعمال کی جاسکتی ہے ۔ ایک افسر نے کہا کہ ہمارے پاس محکمہ جنگلات اور ساحلی محکمہ (سی آر زیڈ) کا کلیئرنس موجود ہے اس بنیاد پر ہم عدالت سے اجازت کی درخواست کر رہے ہیں ۔ مذکورہ پروجیکٹ کے دوران لازمی طور پر 1500 درخت متاثر ہوں گے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مذکورہ پروجیکٹ کا آغاز 2013 میں ہونے کا امکان تھا لیکن طویل عرصہ سے التواء کا شکار رہنے کے سبب سی آر زیڈ کی جانب سے حاصل کئے گئے این او سی کی میعاد ختم ہو گئی ۔ اس کی مدت پانچ سال تھی ۔

ہم نے مرکزی ماحولیاتی محکمہ اور محکمہ جنگلات سےگذشتہ سال اکتوبر میں میٹنگ سے قبل ہی این او سی کی درخواست دی تھی ۔ اب ہم اس تعلق سے سرکاری اطلاع نامہ کا انتظار کر رہے ہیں جو کہ جلد ہی موصول ہونے کی امید ہے ۔ اس پروجیکٹ میں ہونے والی تاخیر سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال پر افسران نے کہا کہ حالانکہ ہم نے سی آر زیڈ سے این او سی حاصل کر لی تھی لیکن پروجیکٹ کی تفصیلات کی تیاری ، ٹینڈر جاری کرنا اور کانٹریکٹرس کا انتخاب کرنا جیسی دیگر کارروائیوں میں وقت درکار ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ اس پروجیکٹ سے متاثر ہونے والے درختوں کے متبادل کے طور پر جالنہ میں درخت لگانے کے لئے بامبے ہائی کورٹ زمین کی منظوری نہیں دے رہی تھی ۔ کورٹ نے یہ کہتے ہوئے کہ جالنہ کی زمین درختوں کے لئے موزوں نہیں ہے اس تجویز کو مسترد کر دیا تھا اور یہ ہدایت دی تھی کہ ممبئی میں کسی جگہ کی نشاندہی کی جائے کیونکہ پروجیکٹ ممبئی میں ہی مکمل کیا جارہا ہے ۔

جالنہ مہاراشٹر کا قحط سے متاثرہ علاقہ ہے ۔ ونا شکتی این جی او کے اسٹالن دیانند نے کہا کہ ایک جگہ کے درختوں کے نقصان کی بھرپائی کے لئے دوسرے علاقہ میں متبادل کے طور پر تخم ریزی کرنا غیر سائنسی اور غیر طبعی ہے ۔ درختوں کی افزائش قدرت کا فیصلہ ہے انسان یہ طئے نہیں کر سکتا کہ کہاں درختوں کی افزائش ہو گی ۔ انہیں اس پروجیکٹ کی تکمیل کے لئے اس بربادی کو روکنا چاہیے ۔ ریلائنس انفراسٹرکچر اور اسٹالڈی کو مشترکہ طور پر اس 10 کلو میٹر طویل باندرا ورسووا سی لنک پروجیکٹ کے لئے 7 ہزار کروڑ روپیے میں منتخب کیا گیا ہے ۔ اس مجوزہ پل کے ذریعے 90 منٹ کا باندرا سے ورسووا جانے والا راستہ 10 منٹ میں طئے کیا جاسکے گا ۔ ایک اندازے کے مطابق یہ پروجیکٹ 2023 تک مکمل کر لیا جائے گا ۔ پل کا جنوبی حصہ باندرا ورلی سی لنک سے جوڑا جائے گا جبکہ اس کا اختتام ورسووا کے نانا نانی پارک کے قریب ہوگا اور اندھیری کے سوامی وویکا نند روڈ سے جوڑا جائے گا ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.