صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

مسلم شیو سینک عید میلاد النبی ﷺ کی مبارکباد دینے ہندو شیو سینک ’مندر وہیں بنائیں گے‘ کے نعروں میں مصروف 

661

نہال صغیر
آپ مانیں یا نہ مانیں لیکن مسلمانوں کی حالت اتنی خراب ہو چکی ہے کہ ان میں مختلف تنظیموں اورسیاسی پارٹیوں سے جڑنے کی ایک دوڑ لگی ہوئی ہے ۔ بلا سوچے سمجھے کوئی بھی کسی بھی پارٹی یا تنظیم سے جڑ جاتا ہے اور پھر اس تنظیم یا پارٹی سربراہ کوخوش کرنے کی فکر میں اپنے دین و ایمان کا جنازہ اپنے ہاتھوں سے اٹھاتا ہے ۔ اسے کسی بھی طرح خوش آئند نہیں کہا جاسکتا ہے ۔ یہ بھاگ دوڑ مایوسی کی علامت ہے کسی اسٹریٹجی کا حصہ نہیں ہے ۔ ویسے بھی مسلمانوں میں کوئی ایسی تنظیم نہیں جو اسے کسی طرح کی اسٹرٹیجی پر چلنے کا مشورہ دے اور مسلمان اسے مان لیں ۔ اول تو ایسی کوئی تنظیم ہے نہیں اور اگر لولی لنگڑی تنظیم ہے بھی تو مسلمان اس کی ماننے والے ہی نہیں کیوں کہ اس پر فتووں کی اتنی میزائل ماری گئی ہے کہ وہ تنظیم مسلمانوں کی نظر می مشکوک ہو گئی ہے ۔ مسلمانوں کی اسی بے سمتی اور مایوسی کا نتیجہ ہے کہ مسلم محلوں میں شیو سینا ، آر ایس ایس اور بی جے پی کی حمایت میں پوسٹر اور بینر نظرآتے ہیں ۔
ہر سال کی طرح اس باربھی ۱۲ ؍ ربیع الاول کے موقعہ پر مبارکباری والے بینر پوسٹر کی مسلم محلوں میں بھرمار رہی ۔ قابل ذکر یہ ہے کہ ان پوسٹروں میں ان تنظیموں اور پارٹیوں کا نام بھی شامل ہے جنہیں مسلم دشمن تصور کیا جاتا ہے ۔ صرف تصور ہی نہیں کیا جاتا بلکہ وہ بالفعل مسلم دشمن ہیں بھی ۔ ان میں آر ایس ایس اور شیو سینا بھی ہے ۔ بلکہ آر ایس ایس تو صف اول میں ہے ۔شیو سینا کو مہاراشٹر اور ممبئی کی حد تک سب سے بڑی مسلم مخالف تنظیم گردانا جاتا ہے ۔ ممبئی کے مسلم محلوں میں شیو سینا کے مسلم نما چہروںکی جانب سے پوسٹر اور بینر لگے ہوئے تھے جس میں مسلمانوں کو نبی آخر الزماں ﷺ کی ولادت باسعادت کے مبارک موقع پر مبارکباد کے پیغامات تھے ۔ یہ تصویر کا ایک رخ ہے اور اس کا دوسرا رخ یہ ہے کہ عین ۱۲ ؍ ربیع الاول کے دن ہی شیو سینا اور اس کے ترجمان اخبار کے اڈیٹر سنجے رائوت نے انتہائی اشتعال انگیز بیان دیا کہ ان کی پارٹی یا تنظیم کے لوگوں نے صرف سترہ منٹ میں بابری مسجد شہید کردی تھی لیکن رام مندر کی تعمیر میں اتنی تاخیر کیوں ؟ کیا یہ محض اتفاق ہے یا شیو سینا کی سوچی سمجھی اسٹریٹجی کا حصہ کہ مسلمان جب نبی آخرالزماں کی یوم ولادت کے موقع پر جشن میں ڈوبے ہوئے ہیں شیو سینا کا ایک سینئر لیڈر مسلمانوں کو بھولی ہوئی بات یاد دلا رہا ہے کہ ’’ہم نے ہی بابری مسجد شہید کی تھی‘‘ ایسا ہی بیان بال ٹھاکرے نے بھی کئی بار دیا تھا ۔ ان لوگوں نے کبھی بھی اس سے انکار نہیں کیا کہ انہوں نے یا ان کے شیو سینک نے ایسا نہیں کیا ہے بلکہ وہ فخریہ بیان کرتے ہیں ۔ یعنی یہ لوگ بابری مسجد شہادت کے اقراری ملزم ہیں ۔ جس کا مقدمہ عدالت میں پچھلی ڈھائی دہائیوں سے چل رہا ہے ۔
ایک جانب تو یہ لوگ کھلے عام اقبال جرم کرتے ہیں اور دوسری جانب ان کی تنظیم کے مسلم نما چہرے شیو سینا کی جانب سے مسلم محلوں میں پوسٹر اور بینر لگا رہے ہیں جس میں انہی اقراری ملزمین کی تصاویر لگی ہوئی ہوتی ہیں ۔ یہ مسلمانوں کے زخموں پر نمک پاشی ہے یا یہ مسلم چہرے اپنی تنظیم کی چاپلوسی اور کسی عہدہ کی چاہ میں اپنا ضمیر پوری طرح گروی رکھ چکے ہیں یا یہ بھول چکے ہیں کہ ان کی تنظیم نے مسلمانوں کے ساتھ کیا کیا ہے یا یہ کہ انہیں یاد ہے لیکن وہ مسلمانوں کی لعشوں (جسمانی اور روحانی دونوں) پر پیر رکھ کر اپنا سیاسی کیریئر بنانا چاہتے ہیں ۔ آخر اس بے توجہی اور ضمیر فروشی کو کیا نام دیا جائے ؟ ایسا نہیں ہےکہ یہ گئے زمانوں کی باتیں ہیں اور اب ان کا تطہیر قلب ہو گیا ہے ۔ اگر تطہیر قلب ہو گیا ہوتا تو سنجے رائوت مذکورہ بالا بیان نہیں دیتے کہ ان کے لوگوں نے صرف سترہ منٹ میں بابری مسجد شہید کردی تھی ۔ اگر مسلم چہروں کا ذہن اتنا ہی بودہ ہے تو اب بھی ایک پوسٹر بائیکلہ سے کھٹائو مِل  کی جانب جاتے ہوئے لگا ہو ا ہے جس پر لکھا ہے ’پہلے مندر پھر حکومت ‘ ۔ بلکہ مذکورہ پوسٹر اب بھی شیو سینا کی شاخوں کے باہر بورڈ پر نظر آرہا ہے ۔ ظاہر سی بات ہے کہ وہ کسی ایسے مندر کی بات تو کر ہی نہیں رہے ہیں جس سے مسلمانوں کو کوئی مطلب نہیں ہو ۔ ویسے بھی کوئی ہزاروں منادر بنالے ہمیں کیا لینا لیکن ہمارے کان ان نعروں پر کھڑے ہوجاتے ہیں جس میں کہا جاتا ہے ’مندر وہی بنائیں گے‘ اور یہ مسلمانوں کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ وہ کہاں مندر بنانے کی بات کرتے ہیں ؟ پھر بھی آپ نہیں سمجھیں یا نہیں جاننے کا ڈھونگ کریں تو اس پر کیا کہا جاسکتا ہے ۔
ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کہ یہ مسلم شیو سینک خواہ مخواہ ہی بزعم خود اپنا سرمایہ لگا کر بال ٹھاکرے اور ادھو ٹھاکرے کی تصاویر سے مزین پوسٹر اور بینر لگاتے ہیں ۔ یہ کام محض وہ خود کو شیو سینا سپریمو کی نظر میں سرخرو ہونے کیلئے لگاتے ہیں ۔ حالاناکہ میری معلومات کے مطابق انہیں کوئی پوچھتا بھی نہیں بس خود ہی مسلمانوں اور شاید انتظامیہ میں اپنی ساکھ بنانے کیلئے ایسا کررہے ہیں ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اپنے سیاہ کارناموں اور سیاہ کاروبار کو پولس انتظامیہ سے محفوظ رکھنے اور اپنی دھاک بٹھانے کیلئے اس طرح کی سرگرمیاں انجام دیتے ہیں ۔ یہ بات قرین قیاس بھی ہے ۔ لیکن اس پر مسلم عوام کی جانب سے کسی ردعمل کا نہیں آنا افسوسناک ہے ۔ انہیںن تو کم از کم بیدار رہنا چاہئے ۔شاید مسلم عوام کی اس جانب سے عدم توجہی کا ہی انجام ہے کہ اب اپنے ناموں کے آگے حاجی لکھنے والے اور حاجی کہلانے میں فخر محسوس کرنے والے لیڈر بھی گنپتی کی پوجا کرتے ہوئے پائے گئے ۔ لیکن بے حسی کا عالم یہ ہے کہ ذرا ذرا سی بات میں دوسرے مسلک کے افراد پر کفر کا فتویٰ صادر کرنے والے مولویوں کی زبانیں گنگ ہو گئیں ۔ ان کی جانب سے بھی کوئی ردعمل نہیں آیا شاید مذکورہ لیڈر کی جانب سے نذرانہ پہنچ گیا ہوگا ۔ یہ رویہ خطرناک اور مسلم امہ کی اجتماعی ضمیر کے خلاف ہے ۔ اس لئے ان لوگوں کو ضرور میدان میں آنا چاہئے جو اسے دیکھ کر ایمان کے آخری زمرہ کے تحت صرف دلوں میں برا سمجھتے ہیں ۔ کم از کم ہم اسے بزور قوت روکنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکے ہیں تو درمیانہ درجہ زبان سے برا کہنے کا دور تو ابھی باقی ہے حالات اسقدر تو نہیں بگڑے ہیں ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.