صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

کیا عوام کو صرف مذہبی نوٹنکی کرنے والا سیاست داں ہی چاہئے ؟

725

 

بٹگری ڈیسک 

ممبئی : ہمارے ملک میں سیاست دانوں سے بڑا اداکار کوئی ہو ہی نہیں سکتا ۔ کرناٹک کے مشہور اداکار پرکاش راج نے ایک وزیر اعظم کیلئے یہ بات کہی تھی ۔لیکن ان کی نظر چھوٹے شہروں اور علاقوں میں ان مسلم لیڈروں پر نہیں ہے ورنہ وہ یہ باتیں کبھی نہیں کہتے ۔یہ مسلم سیاسی لیڈران کبھی بھی اپنی سیاست کی دکان کی خاطر مسلمان سے سیدھے بت پرستی کی جانب چلے آتے ہیں۔حالانکہ نام نہاد سیکولر پارٹیوں اور اب بہت حد تک فرقہ پرست پارٹیوں کے لیڈر بھی رمضان میں روزہ افطار پارٹی اور عید ملن جیسے مواقع پر ٹوپی پہن کر مسلمانوں کو پچھلے ستر برسوں سے سیاسی اور معاشی طور پر ٹوپی پہناتے چلے آرہے ہیں اور مسلمان ان کی اس اداکاری پر قربان ہوا جاتا ہے ۔حال میں شیو سینا کا دامن چھوڑ کر بی جے پی کے دامن میں پناہ لینے اور بدلے میں ایک عدد ملائی دار عہدہ لینے والے حاجی عرفات نے گنپتی کی آرتی اتاری جس کی تصویر بھی وائرل ہوئی ۔واضح ہوکہ حاجی عرفات بھی کئی دوسرے لیڈروں کی طرح اپنی وفاداری بدلنے اور چڑھتے سورج کی پوجا کرنے میں ماہر سیاست داں ہیں ۔کئی سال قبل وہ شیو سینا کو الوداع کہہ کر اس کے قریبی حریف مہاراشٹر نو نرمان سینا سے وابستہ ہو گئے پھر کچھ دن بعد انہیں دوبارہ شیو سینا میں مستقبل بہتر نظر آیا تو ان کی گھر واپسی ہوئی ۔اب جبکہ بی جے پی کی تقریبا دو درجن ریاستوں میں حکومت ہے اور پارلیمنٹ میں بھی اس کی پکڑ مضبوط سے اور سیاسی پنڈتوں کے مطابق دو ہزار انیس میں پھر نریندر مودی کی حکومت بننے والی ہے تو انہوں نے سیاست کی ملائی کھانے کیلئے بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی ۔

عارف نسیم خان ممبئی اور مہاراشٹڑ کانگریس میں مسلم اقلیت کا ایک چہرہ تصور کئے جاتے ہیں ۔عارف نسیم خان بھی سیاست میں اپنے قدم جمانے اور اپنے قد کو برقرار رکھنے کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں ۔عارف نسیم خان مسلمانوں کی وہائٹ کالر سوسائٹی میں کافی معروف و مقبول ہیں ۔وہ مسلم نوجوانوں کو قانونی امداد فراہم کرنے والی جمعیتہ العلماء کے بھی کافی چہیتے ہیں ۔بی جے پی کے دور میں مسلمانوں کیلئے ریزرویشن کی تحریک میں بھی عارف نسیم خان کافی متحرک نظر آئے لیکن یہ وہی نسیم خان ہیں جنہوں نے اپنی پارٹی کی پندرہ سالہ حکومت میں خاموش رہنے اور اپنی پارٹی کے چشم و ابرو کا خیال رکھنے کیلئے کافی مشہور رہے ہیں ۔حالیہ ریزرویشن تحریک میں بھی ان کا متحرک ہونا پارٹی کے اشاروں پر ہی ہے ورنہ ان میں اتنی جرات کہاں ۔نسیم خان کی بھی ایک تصویر عوام میں جاری ہوئی ہے جس میں وہ گنیش کی آرتی کرتے نظر آتے ہیں ۔واضح ہو کہ یہ کسی فوٹو شاپ کا کمال نہیں ہے۔تصویر بالکل اصلی ہے ۔نسیم خان کا ایک اور ویڈیو بھی وائرل ہوا ہے جس میں وہ خود پر کھڑے ہو کر وہ پانچ سو کے نوٹوں کی بارش کروارہے ہیں ۔ویڈیو دیکھ کر ہی محسوس ہو تا ہے کہ عارف نسیم اپنے بھکتوں کی اس بھکتی سے پھولے نہیں سمارہے ہیں ۔وہ کھڑے ہو کر ہنس رہے ہیں اور ان کے بھکت ان ہر نوٹوں کی بارش کررہے ہیں۔یہ ویڈیو اس وقت بنایا گیا ہے جب وہ ایک پنڈال میں گنیش کی پوجا آرتی اور درشن کیلئے گئے تھے ۔ویڈیو میں کہیں بھی یہ نہیں لگتا کہ انہوں نے اپنے بھکتوں کو ایسا کرنے سے روکا ہوا ۔ بلکہ ان کی مسکراہٹ اس بات کی چغل خوری کررہی ہے کہ وہ بھکتوں کی بھکتی اور گنپتی کی پوجا درشن اور آرتی سے کافی خوش ہیں ۔ہائے رے ہمارے ملک کی سیاست جہاں عوامی ترقیاتی کاموں کی بجائے صرف مذہبی نوٹنکی پر ہی عوام فریفتہ ہو جاتے ہیں ۔شاید ملک اور اس کے عوام کے بدحالی ٹوٹی سڑکیں بہتے گٹر اور ہر سال موسم برسات میں تباہی کا سبب یہی ہے کہ عوام کو ترقیاتی کام نہیں جذباتی ایشو سے دلچسپی ہے؟

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.