صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

حکومت ISISاور اس جیسی سائٹس کو بلا ک کرے : مسلم نمائندہ کونسل کا مطالبہ

586

اورنگ آباد:(جمیل شیخ)گزشتہ دنوںتھانے اور اورنگ آباد کے نوجوانوں کو ۹؍کی تعداد میں گرفتار کیا گیااور ان کا ریمانڈ لے کرپولس کسٹڈی روانہ کردیا گیا۔مسلم نمائندہ کونسل نے شہر کے حالات کے پیش نظر ایمر جنسی میٹنگ بلائی اور صورت حال کا جائزہ لیا۔جائزہ میں یہ بات کھل کر آئی کہ۲۰۱۹ کے الیکشن کے پیش نظر ملک کی فضا کو گرد آلود کیا جارہا ہے۔ دہلی،امروہا اور گونڈا میں اسی طرح کی کاروائیاں ہوئی ہیںاور Recoveryکے نام پر پٹاخے اور ٹریکٹر کے پائپ کو بم اور راکٹ لانچر دکھلایا گیا ہے۔اور تھانے اور اور نگ آباد میں بھی Recoveryکے نام پر لیپ ٹاپ،سیل فون اور تھنرکی بوٹل وغیرہ کو دکھلایا گیا ہے ۔ لپ ٹاپ،سیل فون اورتھنر رکھنا جرم کب سے ہوگیا ہے؟ِISISسے رابطہ جوڑا جارہا ہے ۔ جس جماعت کا اتہ پتہ نہیں اسے فرضی نام سے جوڑ کر نوجوانوں کی زندگیاں برباد کی جارہی ہیں ۔

ہم اپنے شہر کے نوجوان مشاہد الاسلام کے بارے میں کہہ سکتے ہیں کہ جہاں تک ہماری معلومات کا سوال ہے وہ صاف ستھرا کردار رکھنے والا ،صوم و صلوۃکا پابند جوان ہے اور ایسی کسی بھی سرگرمی میں وہ نہیں ہوسکتا۔دیگر نوجوان تھانے سے تعلق رکھتے ہیں ان کے بارے میں ہماری معلومات زیادہ نہیں اس لیے عدالت کے کسی حتمی فیصلے تک انہیں بھی مجرم نہیں مانا جاسکتا۔کسی بھی سائٹس پر سرفنگ کرنا جرم نہیں ہے۔البتہ اس سائٹس کے مطابق کوئی سرگرمی جرم ہوسکتی ہے۔جب کہ ہماری معلومات کی حد تک ان لڑکوں نے کوئی خلاف قانون حرکت کی ہی نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ISISاور اس جیسی تمام سائٹس کو فی الفور بلاک کردے۔نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔لیکن انتظامیہ ایسی سائٹس کو کھلا بھی رکھنا چاہتی ہے اور اس کی سرفنگ کو جرم بھی نہیں مانتی اور گرفتاریوں کی لہر چلا رکھی ہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ موجودہ حکومت ایسی حرکتوںسے اپنے ووٹ بینک کو بھنانا چاہتی ہے ۔

گزشتہ دنوں ڈمبیولی کلیان میں پکڑے گئے ہتھیاروں کے معاملہ میں بی جے پی کے ایک لیڈر کا نام لیا جارہا ہے کیا ہوا اس کا؟پانسارے،گلبرگی،گوری کے قاتل کس جماعت سے تعلق رکھتے ہیں؟اس پر کاروائی کیوں نہیں ہوئی؟سناتن سنستھا سے تعلق رکھنے والوں کی جن کا راست قتل وغارت گری میں ہاتھ ہے انہیں چھوڑا جارہاہے۔مالیگاو?ں بلاسٹ،اجمیر بلاسٹ اور سمجھوتہ بلاسٹ کے مجرم کھلے عام گھوم رہے ہیں لیکن شک کی بنیاد پر درجنوں مسلم جوانوں کو سلاخوں کے پیچھے ڈھکیلا جارہا ہے۔ان حالات کا نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔کونسل نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے ISISاور اس جیسی تمام سائٹس کو بلاک کیا جائے۔جوانوں سے اپیل ہے کہ وہ ایسی سائٹس سے اجتناب کرے جو دین و دنیا میں رسوائی کا باعث ہوں۔ولدین سے اپیل ہے کہ اپنی اولاد کے سلسلہ میں مہربانہ نگرانی کو سخت کریں۔ان کے دوست واحباب پر نظر رکھیں،افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کریں۔ نوجوانوں کی گرفتاریوں سے شہر میں بے چینی کی فضا پیدا ہوگئی ہے۔انتظامیہ کو اس بے چینی کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہییاس کے لیے معقول وجوہات کی ضرورت ہے جو عوام کے سامنے رکھنی چاہیے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.