صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

سوتیلی ماں کے ظلم سے تنگ آکر گھر سے فرار لڑکی ساڑھے پانچ سال بعد ملی

505

بھیونڈی:(عارِف اگاسکر) بھیونڈی میں کون گائوں کے حدود سے ساڑھے پانچ برس قبل ایک نا بالغ لڑکی لاپتہ ہو ئی تھی جسے نئے سال کے دوران پولیس نے تلاش کیا ہے ۔ متذکرہ لڑکی اب نہ صرف بالغ ہے بلکہ ایک بچے کی ماں بھی بن چکی ہے ۔ تھانے پولیس نے اسےتلاش کرنے کے بعد اس کے والد کے حوالے کردیا ہے ۔ اس سلسلے میں پولیس کا کہنا ہے کہ اب لڑکی بالغ اور سمجھدار ہو چکی ہے اس لیے اب لڑکی کو خود طے کر نا ہے کہ اسے اپنے والد کے ساتھ رہنا ہے یا اپنےشوہر کے پاس چلے جانا ہے ۔

موصولہ اطلاع کے مطابق متذکرہ لڑکی ۳۰؍ اگست ۲۰۱۳ء کو بھیونڈی کے کون گائوں سے لاپتہ ہو گئی تھی اس وقت اس کی عمر ۱۴؍ سال تھی ۔ کافی تلاش کے بعد جب لڑکی کا کچھ پتہ نہیں چلا تو اس کے والد نے کون گائوں پولیس اسٹیشن میں اپنی بیٹی کے لاپتہ ہو نے کی شکایت درج کرائی ۔۲۰۱۴ء میں سپریم کورٹ کی نئی گائیڈ لائن آنے کے بعد کون گائوں پولیس نے ۲۹؍ نومبر ۲۰۱۴ء کومتذکرہ لڑکی کے اغواء ہو نے کا معاملہ درج کیا تھا ۔ بعد ازاں مزید تفتیش کے لیے یہ معاملہ ۱۲؍ اگست ۲۰۱۵ء کو تھا نے پولیس کمشنرکے انسانی اسمگلنگ انسداد دستہ کے سپر د کیا گیا ۔

انسانی اسمگلنگ انسداد دستہ کے سپرد کر نے کے ساڑھے تین سال بعد مذکورہ دستہ کے سنیئر پولیس انسپکٹر رویندر دونڈکر کو اپنے مخبر کے ذریعہ اطلاع ملی کہ متذکرہ لڑکی تھانے کے کو پری علاقہ میں ریلوے اسٹیشن کے پاس پرانے کپڑا بازار میں کپڑا فروخت کیا کر تی ہے ۔ جس کے بعد پولیس نے اس کی بازیابی کے لیے اس کا مو بائل ٹریس کیا اور لڑکی تک جا پہنچی ۔ پولیس کے ذریعہ لڑکی کوتلاش کر نے کے بعد لڑکی نے پولیس کو اپنی روداد سنائی جو چو نکا دینے والی ہے ۔ لڑکی کے بیان کے مطابق ۱۹۹۹ء میں اس کی ماں کا انتقال ہوگیا تھا ۔ اس کے والد نے دوسری خاتون سے شادی کر لی ۔ لیکن سو تیلی ماں کےستائے جانے پر وہ گھر سے بھاگ گئی ۔ اس دوران اس نے کئی دن ملنڈ ریلوے اسٹیشن پر بتائے ۔ جہاں پر ایک معذور شخص نے اسے سہارا دیا جبکہ ایک خاتون نے اس کی شادی ایک گجراتی لڑ کے سے کرادی ۔ اب وہ ۱۹؍ برس کی ہو چکی ہے اور اس کا ایک بیٹا بھی ہے ۔

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.