صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

جنس کی تبدیلی کا آپریشن صد فیصد کامیاب،جے جے اسپتال کی رپورٹ

2,148

 

شاہد انصاری

ممبئی : جنس کو تبدیل کرنے کے آپریشن سے متعلق ایک وقت ایسا تھا جب اس کوایک خیال سے زیادہ اہمیت حاصل نہیں تھی لیکن اب بہت بڑی تعداد میں اس کے آپریشن ہو رہے ہیں اور کامیاب بھی ہیں ۔تازہ معاملہ مہاراشٹر پولس میں بطور کانسٹبل اپنی ذمہ داری ادا کرنے والی للیتا سالوے کا ہے ۔جنس کو تبدیل کرنے کیلئے کئے جارہے آپریشن صد فیصد کامیاب ہو رہے ہیں ۔یہ معلومات آر ٹی آئی کے ذریعہ پوچھے سوال کے جواب میں ملی ہے ۔پچھلے بیس سالوں میں ایشیا کے سب سے بڑے اسپتال جے جے ہاسپٹل ممبئی میں جنس کی تبدیلی کے آپریشن صد فیصد کامیاب رہے ایسی جانکاری آر ٹی آئی کارکن چیتن کوٹھاری نے حاصل کی ہے ۔پتہ چلا ہے کہ خاتون سے مرد بننے کیلئے ایک آپریشن جبکہ مرد سے خاتون بننے کیلئے جے جے اسپتال کے ذریعہ دو آپریشن کئے گئے ہیں۔ ٹاٹا شعبہ برائے پلاسٹک سرجری جے جے اسپتال کے تحت آپریشن کرنے والا شعبہ ہے ۔
جنس کی تبدیلی کیلئے آپریشن کے پورے عمل کو جاننا ضروری ہے
دنیا میں دو طرح کے انسان بستے ہیں ان میں سے ایک عام انسان ہوتے ہیں جو عام انسانوں والی زندگی جیتے ہیں اور دوسرے وہ جو اپنے صنف کے بر خلاف جیسے خاتون ہے تو مرد کی طرح اور مرد ہے تو خاتون کی طرح جینا پسند کرتے ہیں ۔اس قسم کے انسانوں کی عادتیں بھی اسی طرز پر ڈھلتی چلی جاتی ہیں جس سے وہ متاثر ہوتے ہیں اسی وجہ سے کئی لوگ اپنی جنس تبدیل کرالیتے ہیں ۔خاتون سے مرد اور مرد سے خاتون بن جاتے ہیں لیکن یہ جنس کی تبدیلی کا فیصلہ آسان نہیں ہے ۔جو بھی ایسا کرنے کا فیصلہ لیتے ہیں انہیں بھی خود کو نفسیاتی طور پر خود کو تیار کرنا ہوتا ہے ۔نفسیاتی معالج ڈاکٹر یوسف ماچس والاکے مطابق جنس کی تبدیلی کی سرجری کابھی سنجیدہ معاملہ ہے۔کسی مرد کے عضوئے تناسل کوخاتون کے پوشیدہ عضو میں تبدیل کرانا ایک لمبا اور پیچیدہ عمل ہے ۔
جنس کی تبدیلی کا فیصلہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس کے سبب ایک انسان کی زندگی میں یکسر تبدیلی آجاتی ہے اور اس فیصلے سے وہ انسان جس روپ مٰں اس دنیا میں آتا وہ ہی روپ ہی بدل جاتی ہے یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے سبب ایک انسان کو جسمانی اور نفسیاتی دو نوں طرح سے اس کو خود کو تبدیل کرنا ہوتا ہے ۔سرجری کے بعد جو نئے عضوپوشیدہ بنائے جاتے ہیں وہ شہوانی خواہش محسوس کرسکتے ہیں۔لیکن جنس کی تبدیلی کے آپریشن والے فرد کو بھی اس کیلئے نفسیاتی طور پر تیار ہونا ہوتا ہے ۔اس کے بعد بھی اسے دو طرح کے ٹیسٹ کے لمبے عمل سے گزرنا ہوتا ہے ۔جس کی جیتی جاگتی مثال للیتا سالوے ہے ۔للیتا سالوے کہتے ہیں کہ میں نے بہت قبل اس کیلئے درخواست کی تھی اور کئی طرح کے عمل سے گزرنے کے بعد جب میرا آپریشن ہوا تو مجھے اب بہت اچھا لگ رہا ہے اور یہ محسوس ہورہا ہے مجھے یہ بہت پہلے کرالینا چاہئے تھا۔
جنس کو تبدیل کرانے والوں کو دو طرح کے نفسیاتی ٹیسٹ سے گزرنا ہوتا ہے ۔اس کی صحت کی بھی بہت احتیاط سے جانچ ہو تی ہے تاکہ یہ طے کیا جاسکے کہ جسم سرجری کیلئے تیار ہے یا نہیں ۔ایسا آدمی جو جنس تبدیل کرانا چاہتا ہے اسے اٹھارہ مہینے خاتون کی طرح جینا پڑتا ہے ۔خاتون کی طرز زندگی اور ان کے طریقوں کو اپنانا پڑتا ہے اس کے علاوہ ایک ہارمون تھیراپی بھی کرانی ہوتی ہے ۔ڈاکٹر ماچس والا کے مطابق سب سے پہلے مریض کو آپریشن ٹیبل پر لٹایا جاتا ہے اس کے بعد اس کے دونوں پیروں کو دونوں جانب کھول کر آپریشن کرنے کی جگہ بنائی جاتی ہے ۔شروعات میں ہی اس کے خصیے کی تھیلی میں بڑا کٹ لگا کر خصیوں کو باہر نکال دیا جاتا ہے ۔دوسرا بڑا کٹ عضوئے تناسل پر لگا یا جاتا ہے ۔اس پر لمبائی میں اوپر سے نیچے کی جانب کٹ لگایا جاتا ہے اور اوپر کی جِلد لو نیچے کی جانب دھکیلا جاتا ہے۔
عضوئے تناسل میں موجود تین طرح کے نسوں کو الگ الگ کیا جاتا ہے ۔ڈارسنل نرو بنڈل جو عضو کو حساسیت عطا کرتا ہیاسے گلینس جو کہ عضو کے سب سے اوپر کا حصہ ہوتا ہے اسے اور یوریتھرا جہاں سے مرد کا مادہ تولید اور پیشاب نکلتا ہے ،تینوں کو الگ کیا جاتا ہے ۔الگ کرتے ہوئے اس کٹ کو کافی گہرائی تک لگایا جاتا ہے ۔اس کو کاٹتے وقت صرف اسی حصہ کو چھوڑا جاتا ہے جہا سے پیشاب باہر کو نکلے ،باقی حصہ کو کاٹ کر جسم سے الگ کیا جاتا ہے ۔پھر عضوئے تناسل کا وہ حصہ جسے دھکیل کر بٹھایا جاتا ہے اس کو الٹا موڑ کر آگے کی طرف لایا جاتا ہے اور پیشاب والی نلی کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے تاکہ وہ خاتون کا اندامنہانی بن جائے ۔آخر میں سرجن کٹے ہوئے خصیے کی تھیلی کو اس طرح سے جوڑ دیتے ہیں کہ وہ پوری طرح سے اندام نہانی بن جاتی ہے ۔ریسرچ سے پتہ چلتا ہے کہ اس طرح کے آپریشن کے بعد وہ جنسی آسودگی کے ساتھ ایک اچھی زندگی جی پاتے ہیں اور اگر وہ اٹھارہ سے چوبیس مہینوں کے درمیان خاتون کے طور طریقے اپنا لیتے ہیں تو وہ ایک صحت مند خاتون کی زندگی جی سکتے ہیں۔

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.