صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

کانگریس کی ’نیائے یاترا‘ سے یوگی حکومت گھبرائی ، کئی سیاسی رہنما نظر بند

اتر پردیش میں جرائم پیشوں کو حکومت کا تحفظ حاصل ہے ، انھیں آزادی ہے کہ وہ عصمت دری متاثرہ کو ڈرا دھمکا سکیں : پرینکا گاندھی

20,893

لکھنؤ: چنمیانند کیس میں قانون کی طالبہ کو انصاف دلانے اور اتر پردیش میں بگڑے نظامِ قانون کے خلاف کانگریس کے ذریعہ مارچ نکالنے سے پہلے شاہجہاں پور میں انتظامیہ نے دفعہ 144 نافذ کر دیا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی انتظامیہ نے کانگریس لیڈر جتن پرساد اور کانگریس رکن اسمبلی اجے کمار للو سمیت کئی لیڈروں کو نظر بند کر دیا ہے ۔ علاوہ ازیں شاہجہاں پور ضلع کانگریس دفتر پر لگے ٹینٹ کو بھی اکھاڑ کر پھینک دیا گیا ہے ۔ کارروائی کے باوجود کانگریس کے لیڈر ’نیائے یاترا‘ کے لیے پرعزم ہیں ۔

اس سے پہلے انتظامیہ نے کانگریس پارٹی کے لیڈروں اور کارکنان کو پیدل مارچ کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا ۔ انتظامیہ کی کارروائی پر جتن پرساد نے سخت رد عمل ظاہر کیا ہے ۔ انھوں نے ٹوئٹ کر کہا ہے کہ ’ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانا ہر ہندوستانی کا آئینی حق ہے اور اسے کوئی چھین نہیں سکتا ۔ عام لوگ اور کانگریس کارکنان کی منشا اور عزم کو انگریز بھی نہیں دبا پائے تھے‘ ۔ ایک دوسرے ٹوئٹ میں جتن پرساد نے کہا کہ ’کانگریس کے پرامن پیدل مارچ کو اجازت نہ دے کر یوگی حکومت انصاف کی آواز کو کچل رہی ہے ۔ ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانا ہر ہندوستانی کا حق ہے اور اسے کوئی روک نہیں سکتا‘ ۔

دوسری طرف کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے انتظامیہ کی کارروائی پر سخت رد عمل ظاہر کیا ہے ۔ انھوں نے ٹوئٹ میں کہا کہ ’اتر پردیش میں جرائم پیشوں کو حکومت کا تحفظ حاصل ہے تاکہ وہ عصمت دری سے متاثرہ لڑکی کو ڈرا دھمکا سکیں ۔ اتر پردیش کی بی جے پی حکومت شاہجہاں پور کی بیٹی کے لیے انصاف مانگنے کی آواز کو دبانا چاہتی ہے ۔ پیدل مارچ روکی جا رہی ہے ۔ ہمارے کارکنان اورلیڈروں کو گرفتار کیا جا رہا ہے ۔ آخر حکومت کوڈر کس بات کا ہے؟‘ ۔

اپنے لیڈروں کو نظر بند کرنے پر کانگریس پارٹی نے بھی سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے ۔ کانگریس نے ٹوئٹ کر کہا کہ ’کانگریس کارکن اور لیڈر عصمت دری کے ملزم سابق بی جے پی رکن پارلیمنٹ چنمیانند کو سزا دلانے کے لیے ’نیائے پد یاترا‘ نکال رہے تھے ۔ اجے بشٹ حکومت کو یہ برداشت نہیں ہوا، تبھی تو ان سب کو نظر بند کر دیا گیا ۔ لیکن ، کب تک؟‘ ۔ واضح رہےکہ 30 ستمبر سے ضلع کانگریس کمیٹی دفتر شاہجہاں پور سے نیائے یاترا کی شروعات ہونی تھی ۔

یکم اکتوبر کو اچیلیا سے چل کر لکھیم پور میں رات کو ٹھہراؤ تھا ۔ 2 اکتوبر کو اس پیدل مارچ کو لکھیم پور سے مہولی سیتا پور پہنچنا تھا ۔ 3 اکتوبر کو مہولی سے چل کر سیتا پور میں ہی رات آرام کرنا تھا ۔ 4 اکتوبر کو سیتا پور میں دورہ کے بعد کملا پور میں رکنا تھا ۔ 5 اکتوبر کو کملا پور سے چل کر سیتا پور کے اٹریا میں پیدل مارچ کا اگلا ٹھہراؤ تھا ۔ وہیں 6 اکتوبر کو اٹریا سے لکھنؤ کے مڑیاؤں میں آخری ٹھہراؤ تھا ۔ اس کے بعد 7 اکتوبر کو لکھنؤ میں یاترا کا اختتام ہونا تھا ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.