صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

وجود کی جنگ لڑتے اردو اسکولوں کی روداد

’’اردو کے ساتھ اپنوں کا رویہ منافقوں جیسا ہے‘‘

753

 

نہال صغیر  
ہمیں عام طور سے یہ شکایت رہتی ہے کہ حکومت اردو زبان کی ترقی اور اس کی بقا کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھاتی ۔ممکن ہے کہ الزام اپنی جگہ پر درست ہو لیکن سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ہم خود اپنی زبان کی ترقی اس کی بقا اور استحکام کیلئے کتنے سنجیدہ ہیں ؟ ہم نے اس سلسلے میں ممبئی کے اردو اسکولوں کا جائزہ لینا شروع کیا ہے ۔ مختلف اردو اسکولوں اداروں کا دورہ کرنے کے بعد جو صورتحال سامنے آتی ہے اس کے مطابق کہیں حالات خوفناک ہیں ، سنجیدہ کوشش کی مانگ کرتے ہیں اور شاذ و نادر ہی کہیں کہیں حالات کو تسلی بخش قرار دیا جاسکتا ہے ۔ ان میں کئی اردو اسکول تاریخ کا حصہ بن چکے یعنی ان کا وجود ختم ہو چکا ہے ۔کئی عنقریب بند ہو نے کو ہیں اور ان کے بارے میں کہا جاسکتا ہے یہ حالت نزع میں ہیں ۔

قارئین کے سامنے یہ سلسلہ شروع کرتے ہوئے ہم امید کرتے ہیں کہ وہ صرف اسے ایک خبر یا تجزیہ سمجھ کر سرسری طور سے پڑھنے اور پڑھ کر آگے گزر جانے کی بجائے تھوڑی سنجیدگی سے غور کریں گے کہ اس بحران پر کس طرح قابو پایا جاسکتا ہے ؟ کیا صرف حکومتوں کو الزام دینے یا کسی جلسہ جلوس میں پرجوش تقریر کرلینے اور اسے سن لینے سے ہی مسائل حل ہو جائیں گے ؟ آخر تہذیبی اور دینی زبان کی سلامتی کی ضمانت حکومت کیوں دے ؟ ہم اس کے لئے کیوں نہیں آگے آتے ؟ ایسے بہت سے سوال اس دوران مختلف رپورٹوں میں سامنے آئیں گے ۔ جن کا جواب آپ کو سوچنا اور اس کے عملی اور زمینی سطح پر نافذ کرنے کی سمت میں قدم آگے بڑھانا ہے ۔بہت ہوگیا حکومت کو رونا روتے ہوئے اب خود ہی کچھ قدم چلنے اور منزل پر پہنچنے کی جانب قدم بڑھانا چاہئے۔
ہاشمیہ اردو ہائی اسکول : زکریا مسجد ، مسجد بندر ، ممبئی
ہم اردو اسکولوں کی روداد کی شروعات ۱۸۷۳ میں قائم ہاشمیہ اسکول سے کرتے ہیں ۔ جو کہ پہلے مدرسہ تھا بعد میں زمانے کےبدلتے تناظر میں اسکول میں تبدیل کردیا گیا ۔ اور آج اس سے متعلق ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ اس کے ٹرسٹیوں اور دیگر ذمہ داران اس کے وجود کی جنگ کامیابی سے لڑرہے ہیں نیز وہ پسپا ہونے کی بجائے آگے کو ہی بڑھ رہے ہیں ۔ ایسا نہیں ہے کہ انہیں مشکلات کا سامنا نہیں ہے لیکن انہوںنے اس کا سامنا کیا ہے ۔


جنوبی ممبئی کی مشہور و معروف زکریا مسجد کی گلی میں چھ منزلہ عمارت میں قائم ہاشمیہ اسکول میں تعلیم کا سلسلہ جاری ہے ۔میں اسکول کے اوقات میں پرنسپل رضوان خان سے ملنے ان کے دفتر پہنچا ۔ رضوان خان کہتے ہیں اردو زبان کی زبوں حالی کا اصل سبب اس کا روزگار سے نہیں جڑنا ہے ۔ میں ان کی بات کو کاٹ دیتا ہوں ان کے سامنے دو مثالیں پیش کرتا ہوں ۔ اول ہندوستان کی ایک اقلیت سکھ جن کی اپنی زبان کے تئیں محبت اور جذبہ کو دیکھئے کہ ایک فیصد کی آبادی رکھنے والی یہ قوم اپنی زبان کو کس طرح بچاکر رکھتی ہے ۔کس طرح منظم ہے ۔ خواہ دنیا کے کسی بھی خطہ میں ہوں اسےاپنی زبان پنجابی ضرور آتی ہے اور وہ اسی زبان میں گربانی ضرور پڑھتاہے اور آپس میں وہ اسی زبان میں گفتگو کرتے ہیں ۔ ان کے یہاں شادی کارڈ ہمارے یہاں کی طرح انگریزی میں نہیں ان کی اپنی زبان میں شائع ہوتے ہیں ۔ دوسری مثال یہودیوں کی ہے کہ وہ لوگ ڈھائی ہزار سال تک دربدری کی زندگی بتانے کے باوجود اپنی زبان سے دست بردار نہیں ہوئے ۔ حالانکہ جن حالات میں انہیں دنیا کے مختلف گوشوں میں منتشر ہو کر رہنا پڑا تھا اس میں تو ان کی زبان کا وجود تک نہیں رہنا چاہئے ۔ لیکن وہ آج تک اپنی زبان کو محفوظ رکھے ہوئے ہیں ۔

یہ دو مثالیں زندہ قوموں کی ہیں انکے سامنے کوئی بہانے نہیں ہوتے وہ صرف کام کرتے ہیں ۔ آمادہ زوال قوم جس سے ہم لوگوں کا تعلق ہے صرف حکومتوں کو الزام دینے کے علاوہ کچھ نہیں کرتی ۔ محفوظ الرحمن انصاری جو بیکری کی تجارت سے وابستہ ہیں ، سماجی صورتحال حال سے زمینی سطح سے واقف ہیں نے کہا ’آج اگر حکومت اردو اکیڈمی کی گرانٹ میں تخفیف کردے تو ہمارے لیڈروں کو اردو کا مستقبل خطرے میں نظر آنے لگتا ہے لیکن آج حالات یہ ہے کہ کوئی اپنے بچوں کو اردو اسکولوں میں داخل نہیں کرتا‘ تو اردو پڑھنے والوں کی تعداد میں اضافہ کیسے ہوگا ۔ انہوں نے کہا یہ تو کھلی منافقت ہے جو مسلمان اندنوں اپنی زبان اردو کے ساتھ برت رہے ہیں ۔ اتر پردیش کی ایک اردو اسکالر کے مطابق ہم اپنے گھروں میں اردو میں گفتگو کرتے ہوئے شرمندگی محسوس کرنے لگے ہیں ۔
ہاشمیہ اردو ہائی اسکول کی عمارت کو شاندار کا درجہ تو نہیں دیا جاسکتا لیکن بہر حال ان کی کارکردگی کو شاندار قرار دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے ۔ اس سلسلے میں زکریا مسجد کے ٹرسٹیوں کی خدمات اور قربانیاں بھی اس دور میں گرانقدر ہیں ۔ جنہوں نے اپنے اسکول کے دروازے غریب بچوں کیلئے کھولے اس کے لئے انہوں نے اپنے ٹرسٹ کی تجوری کو بھی خالی کرنا گوارا کیا لیکن یہ گوارا نہیں کہ قوم کے یہ غریب بچے تعلیم کی روشنی سے محروم رہیں ۔رضوان خان (پرنسپل ) نے بتایا کہ ہمارے یہاں اسکول میںانتہائی غریب و نادار بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔جنہیں اسکول اور مسجد ٹرسٹ کی جانب سے ڈریس اور جوتے بھی مہیا کرائے جاتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ کچھ امداد حکومت کی تعلیمی اسکیم کے ذریعہ بھی ہو جاتی ہے لیکن وہ ناکافی ہے ۔ رضوان خان نے بتایا کہ زیر تعلیم بچوں میں سے ان کی بھی بڑی تعداد ہے جو یتیم ہیں یا جن کے والد نشہ کے عادی ہیں ایسے والدین کے بچے بھی ہیں جن میں علیحدگی ہوگئی ہے ۔ لیکن ان کی مائیں اپنے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا چاہتی ہیں ، ان کی اس خواہش کو ہم نے مہمیز دیا ۔ اسکول پرنسپل نے بتایا کہ اطراف سے جھگی جھوپڑی کے ہٹائے جانے سے ہمارے یہاں بچوں کی تعداد پر اثر پڑا ہے ۔

ہمارے یہاں ایک ہزار سے زائد بچوں کی گنجائش ہے لیکن صرف ۷۱۶ بچے ہی ہیں سیکنڈری میں ۳۵۰،پرائمری میں ۳۱۶ (تین سو سولہ )اور نرسری میں ۵۰ ۔ لیکن یہ تعداد غنیمت ہے ۔ قارئین اردو اسکولوں کے احوال کے سلسلہ میں آپ کو ایسے اسکولوں سے بھی روبرو کرائیں گے جہاں پچاس اور اس سے بھی کم بچے ہیں ۔ وہ کوئی دن میں بند ہو جائیں گے ۔ بہر حال ہاشمیہ اردو ہائی اسکول نے اپنے وجود کی جنگ کامیابی سے لڑی ہے اور اسی کا پھل ہے کہ وہ اس دور میں قائم ہے جب کہ بہت سوں کے قدم لڑکھڑا رہے ہیں ۔ ایس ایس سی میں ہاشمیہ اردو ہائی اسکول کے نتائج ستر سے نوے فیصد کے درمیان رہتے ہیں ۔ یعنی اوسطاً اسی فیصد بچے پاس ہوتے ہیں ۔ یہ بہت اچھا ریزلٹ ہے ۔ ماضی میں ہاشمیہ اردو ہائی اسکول سے کئی ایسے طلبہ نے تعلیم حاصل کی ہے جو معاشرے کے لئے اپنی گرانقدر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ اس میں سے کئی ایسی شخصیات ہیں جن سے ہر خاص و عام واقف ہے جیسے سہیل لوکھنڈ والا جو بعد میں اسمعیل بیگ محمد میں پرنسپل ہوئے ، ڈاکٹر عبد الرحمن سمار بھی کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں ، اس کے علاوہ ڈاکٹر نذیر جوالے ، عثمان زرودروالا ، ڈاکٹر نصیرالدین ، ڈاکٹر محسن ، ڈاکٹر وجہ القمر ، ڈاکٹر دبیر اورشہباز ٹیمکر وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔
جب اردو اسکول کا تذکرہ ہوا اور یہ بات معلوم ہوئی کہ اس میں انتہائی غریب اور مفلوک الحال خاندان کے بچے زیر تعلیم ہیں تو اس سے بچپن سے سنتے آئے چراغ تلے اندھیرا کا مطلب بھی سمجھ میں آیا ۔ ہاشمیہ میں بھی بچے دور دراز کی جھوپڑ پٹی علاقوں جیسے وڈالا ، شیوڑی ، کاٹن گرین اور سائن جیسے سلم علاقوں سے آتے ہیں ۔ اسکول کے معلموں نے بتایا کہ اطراف کے بلڈنگوں اور فلیٹوں میں رہنے والے اپنے بچوں کو ایسے غریب پرور اردو اسکولوں میں کہاں پڑھاتے ہیں ۔ ان کے بچے انگریزی میڈیم اسکوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ ہاشمیہ اردو ہائی اسکول میں بچوں کی دلچسپی میں اضافہ اور ان کی ذہنی تربیت کیلئے غیر نصابی سرگرمیاں بھی انجام دی جاتی ہیں ۔ زکریا مسجد اور اسکول ٹرسٹ کے ٹرسٹی رضوان کوٹ والا چیئر مین اور ان کے ساتھی مبارک نورانی ، عبدالقیوم راجانی اور عبد السلام سایانی مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے آج کے اس دور میں اردو کی ترویج اور غریب بچوں کی تعلیم کیلئے ہاشمیہ اردو ہائی اسکول کے نام سے ایک شمع جلا رکھی ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.