صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

اردو کے اخباری غنڈے چلا رہے ہیں ممبئی کرائم برانچ ؟

553
اخباری غنڈوں کی خاندانی جھگڑوں میں سینڈوچ بنے محمود حکیمی

ممبئی : ممبئی کے وی پی روڈ پولس اسٹیشن میں محمد الماس حسین انصاری (۳۸) کی شکایت پر دو افراد کیخلاف جان سے مارنے کی دھمکی ، غیر قانونی وصولی اور ہتھیار دکھا کر دھمکانے کے الزام کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے ۔ اس معاملہ میں پولس نے ملزم طاہر نصیر خان کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ ایک ملزم فہیم احمد معاملہ درج ہونے کے بعد سے فرار ہے جسے ممبئی پولس اور ممبئی کرائم برانچ تلاش کررہی ہے ۔ فہیم کیخلاف اس سے قبل بھی مارپیٹ کا معاملہ درج کیا گیا تھا جو کہ عدالت سے خارج ہو چکا ہے ۔

کون ہے الماس انصاری ؟

الماس انصاری ممبئی کے دو ٹانکی علاقہ میں جینس کا کاروبار کرتا ہے ۔ وہ اردو نیوز نام کے اخبار کے مالک خالد اور امتیاز کا خالہ زاد بھائی ہے ۔ الماس نے جینس کے کاروبار کیلئے علاقہ کے کئی افراد سے لاکھوں روپئے لے رکھے ہیں ۔ گرفتار ملزم طاہر سے بھی اس نے روپئے لے رکھے ہیں ۔ جب اس نے پیسے مانگے تو اس پر تو تو میں میں ہوئی جہاں فہیم بھی شامل تھا ۔

اس کہانی میں نیا ٹوئسٹ تب آیا جب اس تو تو میں میں کی آڑ میں اخباری غنڈوں نے سینئر پولس اہلکاروں سے سانٹھ گانٹھ کرکے وی پی روڈ پولس اسٹیشن میں سنگین الزامات کے تحت معاملہ درج کروادیا ۔ جبکہ اعلیٰ پولس اہلکاروں کو ابتک اس بات کی خبر نہیں ہے کہ شکایت کنندہ الماس ان اخباری غنڈوں کی آڑ لے کر درجنوں لوگوں کو کئی لاکھ کی چپت لگا چکا ہے ۔ جب لوگ پیسہ مانگتے ہیں تو پیسہ لوٹانے کی بجائے اس پر اخباری دھونس جماتا ہے ۔

لوگوں کے لئے ہوئے پیسے واپس کرنے سے کیسے بچا جائے اس بات کی توڑ نکالتے ہوئے اس معاملہ میں سنگین الزام کے تحت ملزمان کیخلاف معاملہ درج کروا دیا جسکے بعد باقی جن لوگوں کے پیسے باقی ہیں وہ پیسے مانگنے سے ڈریں گے ۔ کیوں کہ ان کے خلاف بھی اسی طرح کے جھوٹے معاملے درج ہو جائیں گے ۔ اس طرح سے اخباری دادائوں نے سینئر پولس اہلکاروں کے نام پر تیزی سے معاملہ درج کروادیا ۔

معاملہ درج ہونے کے بعد سے فہیم کے قریبی محمود حکیمی کو پولس اسٹیشن اور کرائم برانچ کے افسر لگاتار پریشان کررہے ہیں ۔ افسروں کا کہنا ہے کہ وانٹیڈ ملزم کو کسی بھی طرح حاضر کرو کیوں کہ ان پر اعلیٰ پولس اہلکار کا دبائو ہے ۔ جبکہ محمود حکیمی کا کہنا ہے کہ میں پولس کی تفتیش میں معاونت کررہا ہوں مجھے نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہے ۔ جب سے یہ معاملہ درج ہوا ہے اس کے بعد سے میرا جینا حرام ہو گیا ہے ۔ کرائم برانچ سے لے کر مقامی پولس کے اہلکار میرے دفتر اور گھر روزانہ آتے ہیں ، فرار ملزم سے متعلق پوچھ کر مجھے پریشان کیا جارہا ہے ۔

اصل معاملہ یہ ہے کہ اردو ٹائمز خاندان میں دراڑ پڑنے کے بعد ایک خاندان اردو ٹائمز سنبھال رہا ہے اور دوسرے نے ممبئی اردو نیوز نام سے نیا اخبار جاری کیا ہے ۔ جھگڑے کے سبب خاندان تقسیم ہوا ، کاروبار تقسیم ہوا اور دوست احباب و دشمن بھی تقسیم ہو گئے ہیں ۔ محمود حکیمی نے اس تقسیم کے بعد اردو ٹائمز کا دامن تھام لیا بس یہی بات دوسرے اخباری غنڈے کو ناگوار گزری اور انہوں نے اس معاملہ کو لے کر محمود حکیمی کو بھی ناپنے کی سازش رچی ہے ۔ اسی لئے اعلیٰ پولس اہلکاروں کے دم پر کرائم برانچ اور مقامی پولس اسٹیشن پر دبائو دیا جارہا ہے کہ ملزم فہیم کے نام پر حکیمی کو نفیساتی طور سے پریشان کیا جائے ۔

اس دوران اخباری غنڈوں نے فرضی صحافی اور ممبئی پولس کو اپنی جیب میں رکھنے کا دعویٰ کرنے والے اخباری افضل خان ، خبری تبریز کو اس کام کی ذمہ داری سونپی ہے جو وہ دونوں بخوبی نبھا رہے ہیں ۔ افضل پانی وہی ہے جسے حال ہی میں زون ۳  کے ڈی سی پی اویناش کمار کے حکم پر گرفتار کیا گیا تھا ۔ باہر نکلنے کے بعد افضل کچھ دنوں تک وانٹیڈ تھا لیکن ان دنوں اخباری دادائوں کے ذریعہ سپاری دیئے جانے کے بعد ایک بار پھر سے وہ وصولی کے لئے اپنے پائوں پسار رہا ہے ۔ جبکہ تبریز خبری کو اردو اخبار کا بطور صحافی شناختی کارڈ بھی دیا گیا ہے ۔

چونکہ یہ دونوں اخباری غنڈے کی حیثیت نہیں ہے کہ وہ کھلے عام حملہ کرسکیں اور اخبار میں لکھنے پڑھنے سے ایسا ہوتا ہے کہ جنگل میں مو ناچا کس نے دیکھا ، اس لئے ان اخباری دادائوں نے جعل ساز خالہ زاد بھائی سے اب کوئی اپنا پیسہ نہ مانگ سکے اس کے لئے یہ ترکیب نکالی ہے اور جنکے اس نے پیسے ہضم کئے ان سے اخباری غنڈوں چوہے جیسے بل میں بیٹھ کر سینئر پولس اہلکار اور ممبئی کرائم برانچ کا استعمال کررہے ہیں ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.