صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

وزیر نے حفاظتی اہلکار کے تبادلہ کی سفارش کی

مخالفت اور سخت تنقید کے بعد بالآخر انہوں نے اپنا حکم نامہ واپس لیا

474

ممبئی : حکومت مہاراشٹر میں وزیر برائے داخلہ رنجیت پاٹل اپنے ایک حکمنامہ کے سبب تنازعہ میں گھرتے ہوئے نظر آرہے ہیں ۔ انہوں نے انتظامیہ سے ایک سلامتی اہلکار کو اس کی پسندیدہ جگہ پر پوسٹ کرنے کو کہا ہے ۔ ان کے اس حکم نامہ کے بعد بی ایم سی ملازمین کے درمیان مخالفت نظر آئی جس کے بعد وزیر کو اپنا حکم نامہ واپس لینا پڑا ۔ ہیمنت پوکھرکر بی ایم سی میں سلامتی گارڈ ہے ۔ وہ گذشتہ ۲۵ برسوں سے یہاں تعینات تھا اور اس کو کبھی ٹرانسفر نہیں کیا گیا ۔ کچھ ماہ قبل اسے انتظامیہ نے ہیمنت کا ٹرانسفر کردیا ۔ اسے باندرہ ایچ ویسٹ وارڈ میں نئی تعیناتی دی گئی ۔ لیکن وہ اس سے خوش نہیں تھا ۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کا باندرہ ایچ ویسٹ سے ٹرانسفر واپس ہو جائے ۔ اپنے مطالبہ کو لے کر وزیر رنجیت پاٹل سے ملا ۔ اس نے وزیر نے گزارش کی کہ بائیکلہ رانی باغ زو میں کردیا جائے ۔ رنجیت پاٹل نے اس معاملہ میں انتظامیہ کو فون کیا اور ہیمنت کا ٹرانسفر بائیکلہ کرنے کو کہا ۔ ابندرہ ٹرانسفر کے محض تین مہینے کے اندر ہی اس کا ٹرانسفر رد کردیاگیا اور اسے پھر بائیکلہ میں تعینات کردیا گیا ۔ حکومتی اصول کے مطابق کسی تبادلہ کے درمیان کم از کم دو سال کا وقفہ ہونا لازم ہے ۔ وزیر کے اس حکم کے بعد بی ایم سی مستقل کمیٹی میں ہنگامہ بپا ہو گیا ۔ انتظامیہ کو اس کی وجہ سے وجہ بتائو نوٹس جاری کیا گیا ۔ نوٹس جاری ہونے کے بعد انتظامیہ نے ہیمنت کا ٹرانسفر رد کرتے ہوئے اسے واپس باندرہ بھیج دیا ۔ تعلیمی کمیٹی کے سربراہ منگیش ستامکر نے کہا کہ معینہ وقت پورا ہونے سے قبل کسی کا اس طرح اسیاسی قوت استعمال کرکے ٹرانسفر کروانا یا روکنا درست نہیں ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.