صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

پولس مخبر کیخلاف جعل سازی کی تفتیش کے سلسلہ میں ہائی کورٹ کا رویہ سخت

ممبئی پولس پر پانچ ہزار روپئے جرمانہ کے ساتھ ہی کرائم برانچ کو تفتیش کا حکم

684

ممبئی : بامبے ہائی کورٹ نے پولس کے مخبر نثار اسمعیل وادھو کیخلاف ممبئی کے بائیکلہ پولس اسٹیشن میں جعل سازی کے تحت درج ہوئی ایف آئی آر کو لے کر بائیکلہ پولس اسٹیشن پر پانچ ہزار روپئے کا جرمانہ عائد کیا اور اس معاملہ کی تفتیش ممبئی کرائم برانچ کے سپرد کی گئی ہے ۔

معاملہ میں متاثر فریق کے وکیل ایڈووکیٹ آصف نقوی نے کہا کہ یہ بہت ہی افسوسناک ہے کہ سرکاری دستاویز میں ہیرا پھیری کرنے والے اور مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے کیخلاف کارروائی کرنے کی بجائے پولس خود اس میں شامل ہوکر ایک فریق بن جاتی ہے ۔ کورٹ میں ہم نے ان سارے پہلوئوں کو رکھا ۔ اس کے بعد پولس کے تئیں کورٹ کا رخ بہت سخت تھا ۔ معاملہ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے کورٹ نے تفتیش کرائم برانچ کے سپرد کردی جبکہ ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری کی عرضی بھی سیشن کورٹ سے خارج ہو گئی ہے ۔

Have now sweetest dishes of Ramadan with all new latest addition of #nutella #malpuva #masala #milk #madinah #kalmi…

Posted by Tahoora Sweets on Friday, 17 May 2019

شکایت کنندہ سلیم نیوریکر نے کہا کہ میں پولس سے کافی پر امید تھا لیکن پولس کارویہ ہمارے ساتھ ملزموں جیسا تھا اور جعل ساز ملزم کے سینئر پولس اہلکاروں سے تعلقات ہونے کے سبب اس کیخلاف کارروائی نہیں ہوئی اس سے پتہ چلتا ہے کہ پولس متاثر کے لئے نہیں بلکہ ملزموں کی حمایت کے لئے تھانے میں بیٹھی ہے ۔

معاملہ کیا تھا

یہ معاملہ ہے شیئر سرٹیفیکٹ میں جعل سازی کرکے دوسری ایک سوسائٹی میں گھس پیٹھ کرنے کا ۔ یہ معاملہ ممبئی کے مجگائوں کوکنی کو آپریٹو سوسائٹی کا ہے جہاں شکایت کنندہ سلیم محمود نیوریکر خود اس سوسائٹی کے سکریٹری ہیں اور ملزم کے ذریعہ جنکا شیئر سرٹیفیکٹ میں جعل سازی کی گئی ہے ان کے رشتہ دار بھی ہیں ۔ نثار اسمعیل وادھو نے خود کو آشیانہ کنسٹرکشن کا پارٹنر بتاتے ہوئے رجسٹرار آفس میں شکایت کی ہے کہ مجگائوں کوکنی کو آپریٹو سوسائٹی میں کوئی ایڈ منسٹریٹر نہیں ہے ۔

اپنی شکایت میں وادھو نے مجگائوں کوکنی آشیانہ ایس آر اے سوسائٹی کا پتہ بتایا ہے ۔ جبکہ شکایت کنندہ کی سوسائٹی اور ملزم وادھو کی سوسائٹٰ نام کے ساتھ ساتھ حقیقت میں بھی الگ الگ ہیں ۔ مذکورہ شکایت کے بعد مجگائوں کوکنی کو آپریٹو سوسائٹی میں ایڈمنسٹریٹر اوم پرکاش کشن لال کو مقرر کیا گیا ۔ اس کے بعد اوم پرکاش نے ۲۰۰۸ میں ایس آر اے کو ایک مکتوب لکھ کر دونوں پلاٹ کو ری ڈیولپ کرانے کی اجازت مانگی اور یہ شرط تھی کہ ایس آر اے نہیں ہوسکتا تو وہ نجی طور سے ڈیولپ کرائیں گے اس کی اجازت انہوں نے مانگی تھی ۔

سوسائٹی انتخاب میں وادھو کی دھوکہ دہی پکڑی گئی

۲۰۰۹ میں اوم پرکاش کی موت ہو جاتی ہے اس کے بعد ۲۰۱۰ میں سوسائٹی انتخاب کے وقت سوسائٹی کے لوگ حیرت زدہ رہ گئے جب ووٹر لسٹ میں ملزم نثار اسمعیل وادھو کا نام سامنے آیا ۔ لوگوں نے اس کی تفتیش شروع کردی جس کے بعد معلوم ہوا کہ وادھو نے شیئر سرٹیفیکٹ فرضی طریقہ سے بنا کر مجگائوں کوکنی کو آپریٹو سوسائٹی کا خود کو ممبر بنا لیا ۔ اسکے بعد وادھو خود کو آپریٹو کورٹ گیا اور انتخاب رکوانے کی عرضی دی لیکن کورٹ نے آرڈر دیا کہ انتخاب ہونے دیا جائے آگے کارروائی ہوتی رہے گی ۔

۲۰۱۳ میں جو شیئر سرٹیفیکٹ نثار وادھو نے جمع کیا تھا اس کو کو آپریٹو کورٹ نے فرضی قرار دیا ۔ اس کے بعد ۲۰۱۶ میں ممبئی کے بائیکلہ پولس اسٹیشن میں اس جعل سازی کی شکایت کی گئی لیکن پولس نے معاملہ درج کرنے سے انکار کردیا تھا اور تفتیش کے نام پر وقت گزار رہے تھے ۔ اس طرح پولس نے اپنی تساہلی اور فرائض کے تئیں چشم پوشی سے کام لیتے ہوئے ۸ مہینوں تک متاثر کو لالی پاپ دیتے ہوئے معاملہ درج ہونے سے روکے رکھا ۔

تھک ہار کر شکایت کنندہ کے وکیل نے ممبئی ہائی کورٹ میں بائیکلہ پولس اور ملزم کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے عرضی دائر کی ۔ کورٹ نے متاثر کو نچلی عدالت میں جانے کو کہا ۔ کورٹ کے اس حکم کے بعد دسمبر ۲۰۱۶ میں ایڈووکیٹ آصف نقوی نے شیوڑی کورٹ میں اپیل دائر کی اس پر ۳ ؍ فروری ۲۰۱۷ کو شیوڑی کورٹ نے نثار اسمعیل وادھو سمیت دو دیگر لوگوں کیخلاف معاملہ درج کرنے کا حکم دیا ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.