صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

جماعت اسلامی : فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے علاوہ مختلف سماجی بہبود کے کاموں میں بھی متحرک ہے

پسماندہ عوام میں تعلیم صحت اور غذائی ضروریات کی تکمیل کیلئے کیڈر کے ساتھ سرگرم ہے ، کیرالہ ریلیف فنڈ میں ریاست سے ۱؍ کروڑ سے زائد کی رقم بھیجی گئی ، رمضان کٹس کی تقسیم پر ۱؍ کروڑ ۲۰؍ لاکھ خرچ کئے گئے

522
جماعت اسلامی کی جانب سے تقسیم کی جانے والی رمضان کٹس

ممبئی : جماعت اسلامی ہند اسلام کے پیغام کو پرامن طریقہ سے عوام الناس تک پہنچانے ، ملک میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے ہمہ وقت متحرک رہتی ہے اس کے لئے جماعت اسلامی نے سدبھاونا منچ کی بنیاد ڈال کر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کیلئے کام کیا ۔ جماعت اسلامی کی سبھی یونٹ اپنی بساط بھر دعوت افطار کے اہتمام کے ذریعہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے قیام میں تعاون کرتی ہیں ۔

Have now sweetest dishes of Ramadan with all new latest addition of #nutella #malpuva #masala #milk #madinah #kalmi…

Posted by Tahoora Sweets on Friday, 17 May 2019

ملک میں مسلمانوں اور مساجد کے تعلق سے عجیب و غریب قسم کی خیالات برادارن وطن میں پائے جاتے ہیں ۔ اسے رفع کرنے کیلئے جماعت اسلامی نے لاتور میں جولائی ۲۰۱۷ سے ’مسجد پریچے‘ مہم شروع کی جو آج بھی مہاراشٹر کے مختلف علاقوں میں جاری ہے جس کے خاطر خواہ نتائج سامنے آئے اور برادران وطن میں اسے بنظر تحسین دیکھا گیا ۔

رمضان کٹس ڈسٹری بیوشن مرکز جہاں سے پسماندہ طبقہ کو غذائی اجناس پر مبنی رمضان کٹس تقسیم کی جاتی ہے

اسلام کے تعلق سے اٹھنے والے سوالات کیلئے جماعت اسلامی نے ایک کال سینٹر کا قیام کیا ہے جس میں ٹال فری نمبر180002000878پرمراٹھی سمیت کئی مقامی زبان میں سہولیات دستیاب ہیں ۔ جماعت اسلامی ہند کو  یہ بھی فکر ہے کہ سماج کسی ایسی برائی میں گرفتار نہ ہوجائے جس سے ملک کے مستقبل پر برا اثر پڑے ۔ سماج کو صحت مند اور تندرست رکھنے کیلئے جہاں وہ صحت خدمات میں اپنی موجودگی درج کرارہی ہے وہیں اس نے نشے کیخلاف عوامی بیداری کیلئے بھی کام کیا ہے اور نوجوانوں کو خاص طور سے اس میں شامل کرکے انہیں ملک کی ترقی میں معاون بنانے کا کیا ہے ۔

جو خاندان مرکز تک نہیں آسکتے ابکے گھروں پر جماعت اسلامی کا کارکنان رمضان کٹس لے کر جاتے ہیں

اس کے علاوہ عوامی فلاح و بہود کے بہت سے کام بھی جماعت کرتی ہے ۔ جماعت انسانوں کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے مختلف شعبوں میں سرگرم ہے ۔

تعلیم اور صحت میں بھی کارہائے نمایاں انجام دے رہی ہے ۔ تعلیم میں کفالت پروگرام کے تحت دولاکھ پینسٹھ ہزار اور ایسپائر ایجوکیشن سینٹر کے تحت ساڑھے سات لاکھ کی رقم مستحق طلبہ میں تقسیم کی گئی ۔ سماوی و ارضی آفات سے نپٹنے اور اس کے بعد باز آبادکاری کیلئے آئیڈیل ریلیف ونگ قائم ہے ۔ مذکورہ ونگ کے تحت کیرالا سیلاب زدگان کی باز آباکاری کیلئے مہاراشٹر جماعت اسلامی نے ایک کروڑ سولہ لاکھ بائیس ہزار سے زائد رقم بھجوائی ۔ واضح ہو کہ کیرالہ جماعت اسلامی نے سیلاب متاثرین کے پانچ سو خاندانوں کو پانچ سو گھر دیئے ہیں ۔

جماعت اسلامی کے کارکنان رمضان کٹس ضرورت مندوں کے گھروں تک پہنچاتے ہوئے

اس کے علاوہ وقتی امداد کے طور پر 907968، مستقل وظائف جس میں بیوہ اور غریب طلبہ بھی شامل ہیں کو3397282، مکانوں کی تعمیر و درستی کیلئے 280100، چھوٹے روزگار کیلئے444030اور یتیم مسکین اور معذوروں کی امداد کے ضمن میں 1051250؍ روپئے کی رقم خرچ کی گئی۔ فطرہ جو مسلمانوں کی بڑی آبادی ادا کرتی ہے پورے مہاراشٹر میں اسے وصولنے کا نظم جماعت اسلامی کے کیڈر کرتے ہیں اور پھر اسے مستحقین تک پہنچاتے ہیں ۔ واضح ہو کہ اس کیلئے پہلے سے ہی سروے کرکے مستحقین کی شناخت کرلی جاتی ہے ۔ تقریباً ایک لاکھ سے زائد غریب خاندانوں تک فطرے کی رقم عید سے قبل پہنچانے کا نظم کیا جاتا ہے ۔

جماعت اسلامی مہاراشٹر پسماندہ علاقوں میں ضرورت مندوں کو ماہانہ راشن بھی تقسیم کرتی ہے ۔ ایسے خاندانوں کی تعداد سات سو ہے جس کا سالانہ خرچ بیالیس لاکھ روپئے ہے ۔

ماہ رمضان المبارک جو کہ مسلمانوں کیلئے تہوار کی حیثیت رکھتا جس کے اختتام پر عید کی خوشیوں میں پسماندہ اور غریب خاندانوں کو شامل کرنے کیلئے رمضان کٹس اور عید کٹس تقسیم کی جاتی ہے ۔ پچھلے سال امداد پانے والے خاندانوں کی تعداد نو ہزار سات سو ساٹھ تھی جس میں مجموعی خرچ ایک کروڑ پندرہ لاکھ بہتر ہزار سے زائد ہوئے تھے ۔ جاری ماہ مبارک میں رمضان کٹس پانے والے خاندانوں کی تعداد نو ہزار چھ سو بتیس ہے جس میں مجموعی طور سے ایک کروڑ بیس لاکھ ستائیس ہزار سے زائد خرچ ہوئے ۔

جماعت کا ہدف ہے کہ ریاست میں کوئی شخص بھوکا نہ رہے اس کیلئے وہ مسلسل کام کررہی ہے ۔ اوپر مذکورہ رقوم کے علاوہ جماعت مختلف سماجی تنظیموں اور سرکاری محکموں تک بھی پسماندہ عوام کی پہنچ کو یقینی بنانے کیلئے کوشاں ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.