صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

حکومت تینوں کسان قانون 2020  واپس لے اور ایم ایس پی کی ضمانت دے:رضوان الرحمٰن خان

19,018

ممبئی : کچھ ماہ قبل  پارلیمنٹ میں کسانوں سے متعلق تین قوانین کو پیش کیا گیا اور بغیر گفتگو کیے محض صوتی ووٹنگ کے ذریعے پاس کرالیا گیا۔صدر جمہوریہ کے دستخط ہوجانے کے بعد اب انھیں قانونی شکل دیدی گئی ہے ۔حکومت ان کو کسانوں کے حق میں بنائے گئے قوانین بتانے کی کوشش کررہی ہے، حالانکہ ان کے مطالعے سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کسانوں کی بجائے کارپوریٹ طبقے کو نفع رسانی کا راستہ ہموار کرتے ہیںاور یہی وجہ ہے کہ پورے ملک کے کسانوں میں بے چینی کی لہر پیدا ہوگئی  ہے۔زرعی معیشت کے ماہرین، کسانوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں اور کسان اس وقت ملک کی راجدھانی  دہلی میں کڑاکے کی سردی کے باوجود سراپا احتجاج ہیں اور ان قوانین کی مخالفت کر رہے ہیں ۔

مرکزی حکومت کے ذریعے کسان مخالف قوانین پاس کیے جانے پر جماعت اسلامی ہند مہاراشٹر کے امیر رضوان الرحمٰن خان نے کسانوں کے استحصال پر مبنی ان قوانین کی مخالفت میں کسانوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہونے کا اعلان کیا  ہے ۔ ساتھ ہی آپ نے کہا کہ مودی حکومت کسانوں کے احتجاج کو نظر انداز نہ کرے کسانوں کے جائز مطالبات پر سنجیدگی سے غورکرنے کی اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ 1۔ حکومت کسان مخالف ان تینوں قوانین کو واپس لے ، اور جمہوری روایات کا لحاظ کرتے ہوئے کسانوں، اپوزیشن کے نمائندوں اور زرعی معیشت سےمتعلق پیشہ ور افراد کی تجاویز پر گفتگو کے بعد ہی کوئی قانون وضع کرے ۔ 2۔ کانٹریکٹ فارمنگ کا جو طریقہ کار نئے منظور شدہ قوانین کے ذریعے متعارف کرایا گیا ہے اسے فوری طور سےمنسوخ کیا جائے ۔ 3 ۔ایم ایس پی کی ضمانت دیتے ہوئے اے پی ایم سی جیسے سابقہ میکانزم کو برقرار رکھا جائے ۔ 4۔ ضروری اشیاء سے متعلق 1955 کے قانون میں کی گئی ترمیمات کو فوری طور سے واپس لیا جائے ۔ 5۔ کسانوں کو مفت بیج ،کھاد اورمالی امداد فراہم کی جانی چاہئے۔ 6۔ کسانوں کوبلا سودی قرض فراہم کیا جائے۔7۔ مہاراشٹر میں کپاس کی فصل کی خریداری حکومت کے ذریعےکی جائے۔ 8۔ سوامی ناتھن رپورٹ کو نافذ کیا جائے۔

اس کے علاوہ ملک بھر کے کسانوں کے دیگر مطالبات پر بھی حکومت کو سنجیدگی غور کرنا چاہئے۔ جماعت اسلامی ہند حلقہ مہاراشٹر یہ محسوس کرتی ہے کہ ان قوانین سے بظاہر کسان متاثر ہوتے نظر آرہے ہیں لیکن ان سے عام آدمی بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گا۔ لہذا حکومت ایسے اقدامات سے گریز کرے جو عوام کے مفاد میں نہ ہو۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.