صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

کمشنر اور ندھی ونایک میونسپل اسکولوں کا معیار بلند کریںگے

طلباء کو آسان طریقہ تعلیم کے لئے سنت ناٹیہ مندر میں ’سیکھیں خوشی سے‘کتاب کا اجراء دنیا میں ماں کے بعد اساتذہ ہی طلباء کے لئے بڑےرہنما : اپوزیشن لیڈر ضمیر احمد قادری

497

ورنگ آباد:(جمیل شیخ) میونسپل کارپوریشن اسکولوںکے ساتھ ساتھ طلباء کا معیار بلند کرنے اور طلباء کو ماحولیات سے واقف کرواتے ہوئے ۔ آسان طریقے سے تعلیم دینے کے لئے میونسپل کارپوریشن انتظامیہ جدوجہد کررہا ہے۔ اس ضمن میں میونسپل ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کیجانب سے ’سیکھیں خوشی سے‘ اس عنوان کے تحت اردو اور مراٹھی زبان میں کتاب ترتیب دی گئی ہے۔ جس کا اجراء گذشتہ روز میونسپل کمشنر اور اپوزیشن لیڈر ضمیر احمد قادری کے ہاتھوں سنت تکارام ناٹیہ مندر میں منعقدہ ایک تقریب میں عمل میں آیا ۔ اس موقع پر میونسپل کمشنر ڈاکٹر نپون ونائک نے حاضرین سے خطاب کیا اور کہا کہ یہ کتاب آسان زبان میں ترتیب دی گئی ہے اور اس کتاب سے طلبہ کو بہت آسانی ہوگی ۔

وہ کھیل کود اور کہانیوں کے ذریعہ بخوبی تعلیم کو حاصل کرسکیں گے ۔ واضح ہو کہ میونسپل اسکولوں کے بہتری میں میونسپل کمشنر نپون ونائک اور ان کی اہلیہ نیدیھی ونایک کی کاوشوں سے بہتر سدھار ہوا ہے ۔ اسی طرح میونسپل کارپوریشن کے ۵۲ اسکولوں کے تعلیمی نظام اور اسکولوں و خوبصورت بنائے رکھنے ان کی صفائی سے متعلق منعقدہ مقابلے آج ۳۷ اسکولوں کے اساتذہ اور مدرسین کا استقبال کیا گیا ۔ اس تقریب میں میئر نند کمار گھوڑیلے نے تمام میونسپل اسکولوں کو فی کس ایک لاکھ روپیہ دینے کا اعلان کیا ہے ۔

میونسپل اسکولوں میں آئی زبردست تبدیلی کی ستائش کی ۔ اپوزیشن لیڈر ضمیر احمد قادری نے اپنے انوکھے انداز میں اردو زبان کی چھاپ چھوڑی اور میونسپل کمشنر اور تمام اسٹاف کے خدمات کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ایک ماں ہی دنیا میں سب سے انمول ہوتی ہے ٹیچر یعنی معلم ہوتا ہے جو آخری وقت تک ہمارا رہنما ہوتا ہے ۔ اس موقع پر کلچرل پروگرام پیش کیاگیا ’سیکھیں خوشی سے‘ نامی کتاب کا اجراء کیا گیا ۔ ایجوکیشن آفیسر شری کانت کلکرنی نے کہا کہ طلباء کی زباندانی کو فروغ ہو اور وہ ہنستے کھیلتے اسکول مںی تعلیم حاصل کریں اس کے لئے مختلف کھیلو ںکے ذریعے انہیں کیسے سکھایا جائے یہ بتانے والی سرگرمیوں سے بھرپور کتاب پیش کرتے ہوئے مجھے دلی خوشی ہورہی ہے ۔

ہر معلم کو جماعتی تدریس میں یہ محسوس ہوتا ہے کہ میری جماعت کے طلباء کو پڑھنا لکھنا آنا چاہئے لیکن عام مشاہدہ ہے کہ بچوں کو پڑھنا لکھنا سکھاتے وقت ان کی زبان دانی کی ترقی اور آواز کی پہچان کرانے کی طرف بے توجہی برتی جاتی ہے بچوں کو سکھاتے وقت پہلے زباندانی کا فروغ اور آواز کی پہچان کرانا ضروری ہے ۔ جب بچوں کو آواز مضبوط ہوگی تب ہی ان کو حروف کی شکل سے متعارف کراویا جائے گا ۔ اس عمل میں زباندانی کے کھیل کتنی اہمیت کے حامل ہیں یہ معلوم ہوتا ہے جماعت کے سو فیصد بچوں کو لکھنا اور پڑھنا آجائے یہ حکومت کانظریہ یہ کرنے کے لئے معلم پوری کوشش کرتے ہیں ان کی کاوشوں کا ساتھ دینا ضروری ہے ۔ ایجوکیشن آفیسر نے یہ کہا کہ میونسپل کمشنر نپون ونائک اور ان کی اہلیہ ڈاکٹر ندھی ونایک کی ترغیب اور رہنمائی کے لئے معلمین کے لئے سیکھیں خوشی سے اس کتاب کی ترتیب وتد وین کی گئی ہیے ۔ جسے مراٹھی اور اردو زبان میں تحریر کیا گیا ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.