صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

بارہ بنکی پولیس نے اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کیلئے مندر کے نام پر فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کی

آر ایس ایس ایجنٹ کے کردار میں وزیر اعلیٰ یوگی کی پولیس کروڑوں کی سرکاری زمین پر مندر بنا کر قبضہ کرنے کی کوشش 

758

لکھنؤ : 16 نومبر 2018 بارہ بنکی کے محمد پور گاؤں سے ہجرت کو مجبور ہو رہی آبادی کے بارے میں سچ جاننے کے لئے رہائی منچ کے وفد نے 2 نومبر کو علاقے کا دورہ کیا ۔ دورے کے بعد ابتدائی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل ہائی وے 28 پر محمد پور گاؤں کی درخت لگانے کے لیے مخصوص زمین پر چوکی انچارج گجیندر پرتاپ سنگھ کی طرف سے غیر قانونی طور پر مندر کی تعمیر کرائے جانے سے یہ کشیدگی پیدا ہوئی ۔

رہائی منچ وفد میں شامل منچ کے صدر محمد شعیب ، سابق آئی جی وجيه احمد ، بارہ بنکی کے سینئر وکیل رندھیر سنگھ سمن ، بلونت یادو ، مسيح الدين سنجری نے صحافیوں کی موجودگی میں گاؤں کے کچھ لوگوں سے بات کی اور موقع واردات کا معائنہ کیا ۔

وفد نے پایا کہ گاؤں میں مسلمانوں کے اکثر گھروں میں تالا لگا ہوا ہے ۔ جو گھر کھلے ہوئے ہیں ان میں صرف خواتین اور بزرگ باقی رہ گئے ہیں ۔ گفتگو میں لوگوں نے بتایا کہ شاہراہ پر پولیس چوکی کے قریب واقع درخت لگانے کے لئے مخصوص زمین پر چوکی انچارج گجیندر سنگھ غیر قانونی طور پر مندر کی تعمیر کروا رہے تھے ۔ جب گاؤں کے لوگوں نے اس کے خلاف احتجاج کیا اور چوکی انچارج سے کام روکنے کے لئے کہا تو وہ آپے سے باہر ہوگئے ۔ چوکی انچارج گیجندر سنگھ نے ارد گرد کی آبادیوں سے فرقہ پرستوں کو غیر قانونی مندر کی تعمیر کیلئے جمع کیا ۔ بھیڑ نے وہاں مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے قابل اعتراض اور اشتعال انگیز نعرے لگائے ، گالیاں دیں اور پولیس چوکی کے ٹھیک سامنے ہائی وے کے دوسری طرف واقع مسجد پر پولیس کی سرپرستی میں پتھراؤ کیا ۔ اس معاملے میں چوکی انچارج نے مسلم کمیونٹی کے 13 افراد کو نامزد کرتے ہوئے 50 نامعلوم افراد کیخلاف مقدمہ درج کیا ۔ وہیں دوسری طرف کے لوگوں پر 151 کے تحت کارروائی کی ۔

سابق آئی جی وجیہ احمد نے کہا کہ پہلی نظر میں معاملہ ہائی وے کنارے واقع کروڑوں کی زمین پر قبضہ کا ہے ۔ قانون چوکی انچارج کو مندر تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے ۔ پولیس نے اپنی غیر قانونی سرگرمیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے ہی فرضی مقدمات تیار کیے ہیں ۔

رہائی منچ صدر محمد شعیب نے کہا کہ جس پلاٹ پر مندر کی تعمیر کی کوشش کی گئی ہے وہ نیشنل ہائی وے پر واقع ہے اور كھتونی میں درخت لگانے کیلئے درج ہے ۔ قانون کے مطابق درخت لگانے کیلئے مخصوص زمین پر کوئی تعمیر نہیں کیا جا سکتا ۔

وفد نے بتایا کہ مندر کی تعمیر کے بارے میں گاؤں کے ہندو اور مسلم کمیونٹی میں کوئی کشیدگی نہیں ہے ۔ پولیس نے مختلف دفعات کے تحت گاؤں کے مسلمانوں کے خلاف مقدمہ درج کیا اور مسلم آبادی میں خوف کا ماحول پیدا کرنے کیلئے رات کو چھاپہ مار کارروائی کی ۔ اس کی وجہ سے گاؤں کے مسلم خاندان گھر میں تالا لگا کر وہاں سے ہجرت کر گئے ہیں ۔ کسی انہونی کے خوف سے گائوں میں معمولی اشیائے ضروریہ کی دکانیں تک بند ہوگئی ہیں ۔ روزانہ اجرت مزدوروں کے پاس اپنی ضرورت کیلئے کوئی کام نہیں ہے ۔ دیوالی کے بعد شادیوں کا موسم ہوتا ہے ۔ گاؤں میں بہت سے گھروں میں شادی کی تاریخ پکی ہو چکی ہے اور خاندان والے فکر مند ہیں ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.