صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

تلنگانہ کے سینئر مسلم لیڈر عابد رسول خان نے کانگریس سے استعفیٰ دے دیا

اسمبلی انتخاب کیلئے ٹکٹوں کی تقسیم میں مسلم قائدین کو نظر انداز کئے جانے کا الزام پارٹی نے تاحال 75امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیاہے ان میں صرف 4 مسلمان ہیں

728

حیدر آباد : تلنگانہ سے خبر آئی ہے کہ سینئر مسلم لیڈر عابد رسول خان نے کانگریس سے استعفیٰ دے دیا ہے ۔ عابد رسول خان کانگریس کے ذریعہ ٹکٹوں کی تقسیم میں سینئر مسلم لیڈروں کو نظر انداز کئے جانے سے ناراض تھے ۔ انہوں نے نے اپنے استعفیٰ نامہ جو کہ کانریس صدر راہل گاندھی کو روانہ کیا ہے میں لکھا ہے کہ ’کانگریس پارٹی خاکی وردی والے جن سنگھیوں کے ذریعہ کنٹرول ہو رہی ہے ۔ دو روز قبل حیدر آباد سے شائع ہونے والے اخبار منصف نے اپنی آن لائن پورٹل میں ’ٹکٹوں کی تقسیم میں مسلمانوں کیساتھ ناانصافی ، کانگریس قائدین ناراض‘ عنوان سے خبر شائع کی تھی وہ خبر منصف کے شکریہ کے ساتھ یہاں پیش خدمت ہے ۔ تلنگانہ اسمبلی انتخابات کے لئے ٹکٹوں کی تقسیم میں مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی پرکانگریس کے مسلم قائدین میں زبردست ناراضگی پائی جاتی ہے ۔ کانگریس پارٹی نے تاحال 75امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیاہے ان میں صرف 4 مسلمان ہیں جبکہ ریڈی طبقہ کے 30 امیدواروں کو ٹکٹ دیاگیا ۔ اس ناانصافی کے خلاف کانگریس کے مسلم قائدین کاایک ہنگامی اجلاس آج شام نظام کلب میں نائب صدر ٹی پی سی سی عابد رسول خان کی صدارت میں منعقدہوا۔ جس میں جنرل سکریٹریز ایس کے افضل الدین ‘ سید عظمت اللہ حسینی ‘ محمدمقصود احمد ‘سینئر قائد ظفر جاوید‘ عامرجاویدانچارج تلنگانہ ریسرچ سنٹر ‘خواجہ فخرالدین سابق چیرمین مائناریٹی ڈپارٹمنٹ ‘کانگریس ترجمان شجاعت علی ‘خواجہ ذاکر الدین ‘ محمدجہانگیر ‘افسر یوسف زئی ‘ اعجاز الزماں ‘فاروق علی سکریٹریز نے شرکت کی ۔ اجلاس میں ٹکٹوں کی تقسیم میں مسلمانوں کویکسرنظراندازکرنے اوران کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پرشدید ناراضگی کااظہار کیاگیا۔ بعدازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے عابدرسول خان نے بتایا کہ تلنگانہ میں مسلمانوں کی آبادی 14 فیصد سے زائدہے ۔ اتم کمارریڈی نے نظام کلب میں ہی منعقدہ اجلاس میں مسلمانوں کوآبادی کے تناسب سے 14نشستیں دینے کا وعدہ کیاتھا ۔ جس پر کانگریس کے وفادار قائدین اور کارکنوں نے ٹکٹ کے لئے درخواستیں دی تھیں ۔ اب جبکہ 65امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کی گئی جس میں 4مسلم امیدواروں کوٹکٹ دیا گیاجن میں حلقہ کاماریڈی سے محمدعلی شبیر کے علاوہ پرانا شہر سے تین امیدواروں فیروز خان کو نامپلی ‘ محمد غوث کوچارمینار اور عیسیٰ مصری کوحلقہ چندرائن گٹہ سے ٹکٹ دیاگیا ۔ جن میں چندرائن گٹہ کے امیدوارغیر کانگریسی ہیں انہوں نے کبھی بھی گاندھی بھون میں قدم نہیں رکھا ۔ حلقہ خیریت آباد سے جہاں ان(عابدرسول خاں) کے علاوہ عامرجاوید ودیگر ٹکٹ کے دعویدار تھے ۔ انہیں نظرانداز کرکے ایک غیر مقامی کانگریس لیڈرڈی شراون کوٹکٹ دیاگیا ۔ حلقہ سکندآباد ، ملک پیٹ ، کاروان عنبرپیٹ سے کئی کانگریس قائدین نے ٹکٹ کیلئے درخواستیں داخل کی تھیں لیکن ان کے نام کانگریس ہائی کمان کوسفارش کردہ ناموں میں بھی شامل نہیں کیاگیا ۔ عابدرسول خان نے کہاکہ صدر کانگریس راہول گاندھی نے بھی مسلم اقلیت کومناسب نمائندگی کاتیقن دیا تھا ۔ انہوںنے کہاکہ تلنگانہ کے 119اسمبلی حلقوں کے منجملہ 40 تا 45 حلقہ جات ایسے ہیں جہاں مسلمانوں کو بادشاہ گرکاموقف حاصل ہے ۔ نظام آباد سے طاہربن حمدان ‘ محبوب نگر سے عبیداللہ کوتوال اور محمدابراہیم بھی امیدوار تھے انہیں بھی نظرانداز کردیاگیا ۔ انہوں نے کہاکہ ریاست میں جہاں ریڈی طبقہ کی آبادی ڈھائی فیصد ہے انہیں 75 کے منجملہ 30حلقوں سے نمائندگی دی گئی ۔ انہوں نے کہاکہ اتم کمارریڈی ‘مسلم جماعتوں اور تنظیموں کے پاس جاکر ان کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن کانگریس پارٹی کے مسلم قائدین سے اس مسئلہ پر بات کرنے تیارنہیں ہیں ۔ خان نے کہاکہ وہ آج اس مسئلہ پر اتم کمارریڈی سے رابط کرنے کی کوشش کی لیکن ان سے رابط نہیں ہوسکا ۔ انہوں نے کہاکہ کانگریس نے خیریت آباد یا دوسرے حلقوں سے جن امیدواروں کو ٹکٹ دیاہے ان کے مقابلہ میں ٹکٹ کے دعویدار مسلم امیدوار ان سے زیادہ قابلیت ، معیار اور طاقت رکھتے ہیں ۔ گذشتہ اجلاس میں اتم کمار ریڈی نے تمام طبقات کے ساتھ سماجی انصاف کاوعدہ کیاتھا ۔ انہوں نے ہر طبقہ کے قائدین کوطلب کرکے با ت چیت کی ۔ کانگریس کوصرف مسلمانوں کے ووٹ کی ضرورت ہے لیکن انہیں اقتدار میں حصہ دینا نہیں چاہتی ۔ ہمیشہ انتخابات پریہ عذر پیش کیا جاتاہے کہ مسلم امیدوار کامیاب نہیں ہوں گے جبکہ جاری کردہ دوفہرستوں میں 70 فیصد ایسے امیدوارہیں جودویا تین مرتبہ ہارچکے ہیں ۔ کانگریس قائدین نے کہاکہ اگرکل تک انہیں طلب کرکے اس مسئلہ پر بات نہیں کی گئی تووہ کل شام میں آئندہ کے لائحہ عمل کو قطعیت دیںگے ۔ بعض قائدین نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہاکہ ان کایہ مطالبہ اپنے ذاتی مفادات کے لئے نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کی عزت نفس کا مسئلہ ہے ۔ ہم اس ناانصافی کے خلاف بھوک ہڑتال ‘ احتجاج یاپارٹی سے استعفیٰ دینے سے بھی گریز نہیں کریںگے ۔ مسلم قائدین کل 11بجے دن گاندھی بھون پردھرنادیں گے ۔ عابد رسول خان کا استعفیٰ شاید اسی احتجاج اور ناراضگی نیز کانگریس کی مسلمانوں کے تئیں عدم توجہی کا نتیجہ ہے ۔

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.