صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

آر-بی-آئی قوانین کی دھججیاں اڑانے پر بامبے مرکنٹائیل بینک کی ہر شاخ سے لون دینے پار لگی پابندی

1,404

 

 

زیشان مہندی

شاہد انصاری

 

ممبئی : آر-بی-آئی   قوانین کی دھججیاں اڑانے پر بامبے مرکنٹائیل بینک کی ہر شاخ سے لون دینے پر  پابندی عائد کی ہے – ہم نے بینک کی  شاخوں میں فون کرکےانکے منیجر سے بات کی جس کے بعد انہوں نے لون دینے پر اور ذمہ دار وں  پر بھی لگی پابندیوں کا خلاصہ کیا ہے – بینک اور اسکے ذمہ دار وں نے آر-بی-آئی کے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے جس کی وجہ سے بینک پر پابندی لگائی گئی ہے –

یاد رہے ورلڈ اردو نیوز کی ہی ساتھی نیوز پورٹل با مبےلیکس نے بامبے مرکنٹائیل بینک کے چیئرمین  زیشان مہندی اور ذمہ دار وں کے ذریعہ کیےگئے کروڑوں کے گھپلے کو بےنقاب کیا تھا جسکے بعد آر-بی-آئی نے بامبے مرکنٹائیل بینک کے چیئرمین  زیشان مہندی اور ذمیداروں کے ساتھ ساتھ بینک کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے انکی عہدہ  کے مطابق انکے کام پر روک لگا دی ہے –  بامبے مرکنٹائیل بینک کے چیئرمین  زیشان مہندی عرف نیرو مودی  کے ذریعہ بینک کو جم کر لوٹا گیا جسکا نتیجہ بینک کے گراہکوں اور اسکے ملازمین کو کبھی بھی بھگتنا پڈ سکتا ہے جسکی شروعات ہو چکی ہے –

ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ آر-بی-آئی کی طرف سےسختی کرنے کے بعد بینک نے فون رابطہ کرتے ہوئے بینک کی ہر شاخ کے لیے حکم جاری کیا ہے کہ اب کسی بھی شخص کو لون نہ دیا جائے یہاں تک کہ لون کے لئے بینک میں موجود فائلوں کو  بغیر کسی تاریخ   کے دستخط کر کے بینک میں فوری طور پر جمع کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔ لہٰذا اس کے بعد تمام قرضوں کی فائلوں کو بیک ڈیٹ کے ساتھ بینک میں جمع کیا ہے  تاکہ بیک ڈیٹ کے ساتھ لون کی ساری فائلیں کلئیر کرکے بینک کو جتنا جلد ہو سکے  لوٹ لیا جائے ۔ آر-بی-آئی نے بینک کے چیئر مین ذیشان مہندی عرف نیرو مودی اور سارے ڈائریکٹر کے پاور پر بھی روک لگادی ہے یہاں تک کہ وہ جو بھی خرچ بینک سے وصولتے تھے اس پر بھی روک لگائی ہے۔
آر-بی-آئی کی جانب سے بینک کے چیئر مین ذیشان مہندی عرف نیرو مودی پر شکنجہ کسنے کے بعد اب مہندی سمیت سارے بدعنوان ڈائریکٹر جنہوں نے بینک کو کروڑوں کا چونا لگایا ہے وہ اب بری طرح چھٹپٹا رہے ہیں کیونکہ جس طرح مرکزی رجسٹرار بھوٹانی نے ان لوگوں کوبچایا تھا اس کے بعد سے تمام لوگ بےفکر ہو گئے تھے، لیکن جیسے ہی ا آر-بی-آئی نے جیسے ہی شکنجہ کسااس کے بعد سے ہی قرض کے لئے بیک ڈیٹ کے ساتھ اسے کلئیر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ہم نے اس بارے میں بینک کے چیئرمین ذیشان مہندی عرف نیرو مودی سے کئی بار بات کرنے کی کوشش لیکن آر-بی-آئی کی سختی کے بعد سے ایسا لگ رہا ہے کہ انہیں سانپ سونگھ گیا ہو انہوں نے کسی بھی طرح کی بات کرنے سے صاف انکار کیا ہے۔

شاہ عالم

معاملہ کیا ہے

آر-بی-آئی کی طرف سے بینک کی جو جانچ ہوئی اس میں پایا گیا کہ بینک میں موجود بہت سے ڈائریکٹر پیسوں کی چوری میں شامل ہیں جو کہ نیرو مودی کی راہ پر چلتے ہوئے بینک کو کھوکھلا کر رہے هیں۔ممبئی پولیس کے ریٹائرڈ اے سی پی اقبال شیخ نے ان حقائق کو عدالت کے سامنے رکھا ان میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ بینک چیئر مین ذیشان مہندی عرف نیرو مودی کے بارے میں کچھ خاص راز افشا ہوئے تھے ۔ ذیشان مہندی عرف نیرو مودی بینک کے چیئر مین کے ساتھ ساتھ ہندوستان ٹریڈنگ کارپوریشن اور اسٹیل انڈیا کمپنی کے پارٹنر ہیں اور انهوںنے متعلق کمپنی کے 3 کروڑ کے سود معاف کرایا ،یہی نہیں ان کی ملی بھگت کی وجہ سے شان ٹریڈرس اور یونیورسل انٹر پرائزز ان دو کمپنیوں کو 15 کروڑ کا قرض ان کو دیا گیا تھا، جبکہ ان پر پہلے سے ہی کچھ کمپنیوں کے جس کے یہ پارٹنر ہیں اس کا پیسہ باقی ہے ۔ 15 کروڑکا قرض  جو بینک کوواپس آنا چاہئے جو  تک واپس نہیں آیا، اور اکاؤنٹ  بند کر کے بینک کو چونا لگایا گیا۔ ذیشان مہندی کے خلاف اتر پردیش کے الہ آباد سے قریب  نینی پولیس تھانے میں سال 2008 میں دھوکہ دہی، اور فرضی دستاویزات میں ہیر پھیر کر پراپرٹي قبضہ کرنے کا کیس ایف آئی آر  درج ہوئی ہے۔
اسی بینک کے دوسرے نیرومودی، منیجنگ ڈائریکٹر شاہ عالم، جوکہ 2003 میں نیرو مودی کی طرح کام کرتے ہوئے پائے جانے پر  بینک سے نکال دیا گیا تھا۔ نکالے جانے کی وجہ تھی کہ ان کے خلاف بینک میں وجیلنس نے جانچ میں پایا کہ انہوں نے بینک سے ساز باز کر 8 اکاؤنٹ میں 5 کروڑ 32 لاکھ روپے جمع کرائے اور بعد میں وہ سارے اکاؤنٹ بند ہو گئے اور وہ پیسے بھی ان کی جیب میں چلا گیا۔ شاہ عالم کو اس دھاندلی کے بعد بھی  بحال کیا گیا اور اس کے گروہ نے یہ گورکھ دھندہ دوبارہ شروع کیا۔ 29 جولائی، 2015 کو، انہوں نے بالا جی سِمفونی نامی کمپنی کو 50 لاکھ روپے کا قرض دیا تھا۔ اس کے علاوہ شيزان تعمیراتی کمپنی جس کے مالک محمد ہارون اعظمی ہیں انہیں 45 لاکھ کا لون دلایا اس کے پس پشت  وجہ یہ ہے کہ 50 لاکھ تک لون دینا کوئی مشکل کام نہیں اور نہ اس کے لئے بینک کے کسی دوسرے ڈائریکٹر وںکا متفق ہونا ضروری نہیںہے جبکہ محمد ہارون اعظمی کا پہلے بھی ایکسس بینک میں اکائونٹ منجمد کیا گیا ہے اور اس کے خلاف بھیونڈی پولیس اسٹیشن میں اس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن ان سبھی باتوں کو نظر انداز کردوسرے نیرو مودی  شاہ عالم کو قرض جاری کیا۔
بینک میں موجود ارشد خان کے خلاف لکھنؤ سی بی آئی اینٹي کرپشن بيورو میں معاملہ درج ہوا ہے اور اس کے خلاف لکھنؤ میں اینٹي کرپشن بیورو کی خصوصی عدالت لکھنؤ میں چارج شیٹ بھی داخل ہو چکی ہے۔ ارشد خان کے ذریعہ محض 24 گھنٹے کے اندر انیس انٹرپرائزز جس کےمالک انیس موٹاہے انہوں نے اسے 24 گھنٹے میں 7.5 كروڑ روپے کے لون دیے 10 اگست کی اس کی درخواست ہے اور اس کولون 11 اگست کو دیا گیا اور اس میں سے ایک پیسہ بھی واپس نہیں آیا ۔ بینک کے ایک اور ڈائریکٹر صلاح الدین راجمي ہیں جن پر اتر پردیش کے فتح پور پولیس تھانے میں دھوکہ دہی، فرضی کاغذات کے دم پر جائیداد پر قبضہ کرنے کا کیس ایف آئی آر تین سو بیاسی دویزار دس درج ہوا ہے۔ اس طرح، بینک میں ان لوگوں کی موجودگی ایسی ہی ہے جیسے دودھ کو بلی کی حفاظت میں رکھا جائے۔
ممبئی پولیس کے ریٹائرڈ اے سی پی اقبال شیخ کا کہنا ہے کہ آر بی آئی کی 2014-15 کی وہ رپورٹ ہے جس میں آر بی آئی  نے بامبے مرکنٹائل بینک میں بہت بڑے کرپشن کا انکشاف کیا ہے جس کو لے کر ہم نے ان کو بے نقاب کرتے ہوئے کورٹ میں گھسيٹاجو اپنے مفاد اور اپنے فائدے کیلئے بینک کا استعمال کرتے ہوئے بینک اور آر بی آئی دونوں کو چونا لگا رہے ہیں اور آر بی آئی کی گائیڈ لائنس کی کھلی خلاف ورزی کررہے ہیں اور ایسا کرتے ہوئے ایک بار بھی نہیں غور کرتے کہ بینک کا کیا حال ہوگا۔عوام جو  بینک پر اعتماد کرکے اس میں اپنی آمدنی جمع کرتے  ہیں ان کا کیا ہوگا؟ حیرت انگیز طور پر، بدعنوان کے معاملات  میں ملوث افراد بینک میں ذمہ دار  ہیں، اوروہ شرافت کا لبادہ اوڑھ بینک پر قبضہ جمائے بیٹھے ہیں۔اس آپسی بندر بانٹ کی وجہ سے بینک کبھی اے لیویل میں تھا اب ڈی میں پہنچ چکی  ہے ۔کسی بھی بینک کے ڈی لیویل میں پہنچنے کا مطلب ہے کہ بینک دیوالیہ ہونے کے کگار پر ہے ۔

 

سابق کمشنر ایم این سنگھ

ممبئی کے سابق کمشنر نے دو سو کروڑ کے این پی اے خریدے 

بامبے مرکنٹائل بینک کے دو سو کروڑ روپئے کا این پی اے ختم ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے لیکن اس این پی اے کو ختم کرنے کیلئے بینک کے چیئر مین ذیشان مہندی نے ہمیشہ کی طرح بینک کو ہی چونا لگادیا ۔اس معاملہ میں ممبئی پولس کے سابق کمشنر اقبال شیخ نے آر-بی-آئی سے شکایت کی ہے اور بتایا ہے کہ این پی اے ختم کرنے کے نام پر بامبے مرکنٹائل بینک کے چیئر مین ذیشان مہندی بینک کے ہی پیسوں کا استعمال کربینک کو پہلے کی ہی طرح چونا لگایا ہے ۔وہ این پی اے کی بھرپائی کیلئے بینک کے پیسوں کا ہی استعمال کررہے ہیں ،اس طرح سے این پی اے کی جو بھرپائی کرنے کی بات سامنے آرہی ہے وہ اصل میں بینک کے ساتھ بہت بڑ ادھوکہ ہے ۔شیخ نے شکایت میں بتایاکہ دو سو کروڑ روپئے کے این پی اے کو بامبے مرکنٹائل بینک نے ایک سو سترہ کروڑ میں فروخت کیا ہے اور اسے خریدنے والی کمپنی انوینٹ ہے ، اس کمپنی کے ڈائریکٹر ممبئی پولس کے سابق کمشنر ایم این سنگھ ہیں ۔ اس بات کا پتہ چلا ہے کہ بامبے مرکنٹائل بینک اور انوینٹ کمپنی نے مل کر ایک ٹرسٹ بنایا ہے اور اس پھنڈے کا استعمال کرتے ہوئے بینک نے ٹرسٹ میں ساڑھے ننانوے کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری کی ہے ۔جبکہ انوینٹ کمپنی نے ساڑھے سترہ کروڑ کا سرمایہ لگایا ہے ۔یہ دونوں رقم مل کر ایک سو سترہ کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری ہوگئی اور اس کی مدد سے این پی کے ختم ہونے کا کا ڈھنڈورا پیٹا جارہا ہے ۔پچھلا این پی اے یعنی بینک کا جو این پی اے ختم ہو گیا لیکن اس کے پیچھے کروڑوں روپئے کا جو کھیل کھیل کر بینک کو ڈوبانے کی سازش رچی گئی ہے ،بہت ہی دلچسپ ہے ،اسے جاننا بہت ضروری ہے ۔کیونکہ بینک کے ہی پیسوں سے بینک کے ساتھ دھوکہ دہی کی جارہی ہے۔بینک کے چیئر مین ذیشان مہندی اور متعلق کمپنی مل کر پہلے کی ہی طرح بینک کے ساتھ پھر سے دھوکہ دہی کرچکے ہیں ۔کیوں کہ انوینٹ کمپنی کے جس ٹرسٹ میں بینک نے سرمایہ کاری کی ہے وہ پیسے تو بینک کے ہی ہیں ۔اس طرح سے بینک کے پیسے کو ہی دوسو کروڑ کے این پی اے کو ختم کرنے کیلئے استعمال کیا گیا ہے اور پرانے این پی اے کے ختم کرنے کا یہ گورکھ دھندہ بینک کے چیئر مین ذیشان مہندی کافی وقت سے کرتے آرہے ہیںاور وہ اس گورکھ دھندے کے ماہر کھلاڑی ہیں ۔اس بار بھی بینک کو ہی پہلے کی طرح دو سو کروڑ سے زائد یعنی دگنا نقصان ہو گیا ۔اس طرح سے جو باقی تیراسی کروڑ ہیں اس کے لئے بینک پروویژن کیلئے بینک میں ریزرو کی گئی رقم کا استعمال کر یہ دوسو کروڑ روپئے کے این پی اے کو ایک جھٹکے میں ختم کردیا گیا اور آر-بی-آئی کے سامنے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ دو سو کروڑ روپئے کا این پی اے بینک نے کلیر کردیا ہے ،لیکن اس کے پیچھے کی سچائی یہ ہے کہ بینک اور متعلق کمپنی انوینٹ نے مل کر بینک کے ساتھ دھوکہ دہی کے نئے باب کا اضافہ کیا ہے نیز آر بی آئی کی آنکھوں میں بھی دھول جھونکنے کی کوشش کررہے ہیں۔اسی طریقہ کار کا استعمال کربینک کے چیئر مین ذیشان مہندی نے خود بینک کے ساتھ پندرہ کروڑ کا فراڈ کیا ہے ۔اب باری ہے دو سو کروڑ کے ڈوبنے کی کیوں کہ آج تک بینک میں یہ پیسے واپس نہیں آئے ہیں اور اس کی بھرپائی کیلئے بینک کے ہی سرمایہ کو استعمال کیا گیا جس کیلئے انوینٹ کمپنی کے ذریعہ بنائے گئے ٹرسٹ کو استعمال کیا گیا جو کبھی واپس نہیں آنے والے نہیں ہیں۔دو سو کروڑ روپئے کے این پی اے کو ختم کرنے کے لئے جس رقم کا استعمال کیا گیا ہے وہ بینک کے ہی پیسے ہیں ۔یہی سبب ہے کہ بامبے مرکنٹائل بینک کے کروڑوں روپئے کے این پی اے کے سبب ہی آج  ڈی لیویل میں پہنچ گیا ہے اور بینک کبھی بھی بند ہو سکتا ہے ۔
دراصل بینک کے چیئر مین ذیشان مہندی این پی اے کلئیر کرانے کیلئے جس طریقہ کار کا استعمال کررہے ہیں وہ پہلے کے پندرہ کروڑ کے ایک این پی اے ختم کرانے کے لئے ذیشان نے خود کی کمپنی کھولی تھی اور دونوں میں بینک کی جانب سے پندرہ کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری کی گئی تھی کمپنی بند ہو گئی اور یہ پندرہ کروڑ بھی ڈوب گئے ۔ذیشان مہندی بینک کے چیئر مین کے ساتھ ساتھ ہندوستان ٹریڈنگ کارپوریشن اور اسٹیل انڈیا کمپنی کے پارٹنر ہیں اور انہوں نے متعلق کمپنی کا تین کروڑ کا سود معاف کرایا ،یہی نہیں ان کی ملی بھگت سے شان ٹریڈرس اور یونیورسل انٹر پرائزیز ان دو کمپنیوں کو پندرہ کروڑ کا لون دیا گیا جبکہ ان کے اوپر پہلے سے ہی کچھ کمپنی جس کے یہ پارٹنر ہیں اس کا پیسہ باقی ہے ۔پندرہ کروڑ کے لون جو بینک کو واپس آنے چاہئے وہ آجتک واپس نہیں آئے اور یہ اکائونٹ بھی بند کرکے بینک کو نقصان پہنچایا گیا ۔ذیشان مہندی کیخلاف الہ آباد سے ملحق نینی پولس اسٹیشن میں سال 2008میں دھوکہ دہی اور فرضی دستاویزات سے ہیرا پھیرا کرکے جائداد پر قبضہ کرنے کا معاملہ ایف آئی آر ایک سو پچانوے دو ہزار آٹھ  درج ہو چکا ہے ۔

آر-بی-آئی نے ذیشان مہندی کو بینک کے لئے نقصاندہ قرار دیا

کروڑوں روپئے کی بدعنوانی میں ملوث بامبے مرکنٹائل بینک کے چیئر مین ذیشان مہندی کو لے پچھلے سال آر-بی-آئی نے بامبےہائی کورٹ میں حلف نامہ داخل کرتے ہوئے کہا تھا کہ ذیشان مہندی بامبے مرکنٹائل بینک کیلئے نقصاندہ ہیں اور اگر یہ بینک میں رہتے ہیں تو بینک کے لئے بہت بڑا مسئلہ ہوگا ۔اس سلسلہ میں بامبے ہائی کورٹ میں داخل ہوئی پٹیشن کی سماعت کے دوران آر-بی-آئی نے بامبے مرکنٹائل بینک کے چیئر مین ذیشان مہندی کے ذریعہ بینک میں کئے گئے بدعنوانی کو لے کر حلف نامہ داخل کیا ہے جس میں ا آر-بی-آئی نے کورٹ کو بتایا کہ ذیشان مہندی کے ذریعہ فرضی کھاتے کھول کر بامبے مرکنٹائل بینک کو کروڑوں روپئے کا نقصان پہنچایا اور اس کام میں بینک کے ایم ڈی شاہ عالم بھی شامل ہیں ۔ا آر-بی-آئی نے اپنے جواب میں یہ لکھا ہے کہ چونکہ انہیں بینک سے نکالنا ان کی ذمہ داری سے باہر ہے اس لئے انہوں نے مرکزی رجسٹرار کو خط لکھ کر ذیشان مہندی کو باہر کا راستہ دکھانے کی بات کہی ہے ۔ آر-بی-آئی کے اہلکار ششی کانت مینن (اسسٹنٹ جنرل منیجرڈیپارٹمنٹ آف کارپوریٹو بینک ) نے اپنے حلف نامے میں بتایا کہ ہم نے سینٹرل رجسٹرار کو 15 جون 2017 کو خط لکھ کر ذیشان مہندی کے ذریعہ کی گئی بدعنوانی کے بارے میں جانکاری دی ہے ۔مہندی کے دو بوگس این پی اے اکائونٹ دس کروڑ تیس لاکھ کے تھے یہ کھاتے بند کرنے کیلئے انہوں نے شان ٹریڈرس اور یونیورسل انٹرپرائزز کے نام سے دو اور فرضٰ اکائونٹ کھولے اور بوگس اکائونٹ کھولنے میں ایم ڈی شاہ عالم خان کا پورا تعاون رہا ہے ۔بامبے مرکنٹائل بینک کا یہ پیسہ الہ آباد بینک میں پرپل ٹریڈرس کے نام سے کھولے گئے کھاتے میں ٹرانسفر کیا گیا ۔اس پرپل کمپنی کے پارٹنر خود ذیشان مہندی تھے ۔اسی طرز پر یونین بینک میں لکی انٹر پرائزز کے نام سے بوگس اکائونٹ کھولا گیا اور بامبے مرکنٹائل بینک کے پندرہ کروڑ کی موٹی رقم ہڑپ کرلی گئی اور اس طرح سے پہلے کے کھولے گئے بامبے مرکنٹائل بینک میں  دونوں کھاتے بند ہوگئے ۔ آر بی آئی نے اپنے حلف نامے میں یہ قبول کیا ہے کہ ذیشان مہندی کے ذریعہ بدعنوانی کی گئی ہے اور اس طرح سے ذیشان مہندی نے ملٹی اسٹیٹ کو آپریٹو سوسائٹیز ایکٹ کی شق انتیس ڈی کی خلاف ورزی ہے ۔

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.