صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

آج بھی اخبارات کو اچھی اور تحقیقی تحریروں کا انتظار رہتا ہے : شاہد لطیف

فیچر نگاری کے وقت یہ ذہن میں رہے کہ اس کا ابتدائیہ پراثر ہو : شکیل رشید

582

ممبئی : (ملک اکبرحسن) ’’مراسلہ کو انگریزی میںلیٹر ٹو ایڈیٹر کہا جاتا ہے ، مراسلے میں اخبار کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار ہونا چاہئے ، مراسلات کے ذریعہ قارئین کے مزاج کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے ۔ ساتھ ہی اس کے ذریعہ ہم عوامی مسائل کو بھی اُجاگر کیا جاسکتاہے ۔ جیسے کسی بس کا روٹ تبدیل کرنا ، ٹرانسپورٹیشن کے مسائل ، پولیس و انتظامیہ کو بھی مخاطب کیا جاسکتا ہے اس کی وجہ سے متعلقہ شعبہ حرکت میں آتا ہے ، مراسلہ قارئین کی اپنی رائے ہوتا ہے اس کے ذریعہ ہم اخبارات میں دانشورانہ بحث کا آغاز بھی کرسکتے ہیں جس کی وجہ سے کئی علمی گفتگو سامنے آسکتی ہے ۔ ہمیں اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہئے کہ اعلان اور مراسلے میں فرق ہے ۔ دونوں کو الگ الگ زمروں میں رکھنا چاہئے ، آج ایسے تربیتی مضامین کی ضرورت ہے جو تحریر کے اصولوں کو ملحوظ رکھ کر لکھے گئے ہوں ، آج بھی اخبارات کو اچھی تحریروں کا انتظار رہتا ہے اگر آپ نے تحریر کے اصولوں کو ملحوظ رکھ کر کوئی مضمون لکھا تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہ اخبارات کی زینت نہ بنے‘‘ ۔ ان باتوں کا اظہار مدیر روزنامہ انقلاب شاہد لطیف نے پرنٹ میڈیا ورکشاپ میں کیا ۔

دیکھا گیا ہے کہ ملت میں میڈیا کے تعلق سے جو کچھ بیداری ہے یا لانے کی کوشش کی جاتی ہے اس میں جماعت اسلامی ہند صف اول میں کھڑی نظر آتی ہے ۔ یہی سبب ہے کہ جماعت اسلامی ہند کے مرکز سمیت اس کی ریاستی اکائیوں اور مقامی یونٹوں میں بھی میڈیا کے تعلق سے کوئی شعبہ یا کوئی فرد اپنی ذمہ داری ادا کرتا ہوا نظر آتا ہے ۔ اسی تناظر میں جماعت اسلامی ممبئی میٹرو نے اپنے ارکان و کارکنان کیلئے کرلا میں یک روزہ پرنٹ میڈیا ورکشاپ رکھا تھا جس میں انقلاب کے ایڈیٹر شاہد لطیف ، روزنامہ ممبئی اردو نیوز کے ایڈیٹر شکیل رشید ، آزاد صحافی اعظم شہاب ، روزنامہ سہارا کے جاوید شیخ اور آزاد صحافی نہال صغیر وغیرہ نے اپنے صحافتی تجربات شرکا کے سامنے رکھے ۔ خواتین کی بڑی تعداد نے یہ ثابت کیا کہ ملک کے موجودہ حالات اور مسلم امہ کو درپیش مسائل کے معاملہ میں خواتین میں سب سے زیادہ بیداری ہے یا وہ ان مسائل کو سنجیدگی سے سمجھنے کیلئے کوشاں ہیں ۔

جماعت اسلامی ممبئی میٹرو کی جانب سے منعقد مذکورہ ورکشاپ میں ممبئی اردو نیوز کے ایڈیٹر شکیل رشید نے بھی  فیچر نگاری پر اپنی آراء کو پیش کیا ۔ انھوں نے بتایا کہ ’’فیچر کا ابتدائیہ ایسا ہونا چاہئے کہ قاری اگلی سطور پڑھنے پر مجبور ہوجائے ، اس کا پہلا جملہ اور سطریں ایسی ہونی چاہئے کہ قارئین کو تجسس ہو اور وہ جاننا چاہے کہ فیچر نگار نے آگے کیا لکھا ہے ، لہٰذا ابتدائیہ پُر اثر اور قاری کو اپنی گرفت میں لینے والا ہو ۔ جملے چھوٹے چھوٹے ہوں ، مرکب الفاظ و جملے کم ہوں ، لفظوں کی تکرار نہ ہوں ،  فیچر میں مستند حوالے ہونا چاہئے ، اس میں ادبی چاشنی بھی ہونا چاہئے ، کوئی اچھا شعر یا کوئی نثری ٹکڑ ا  فیچر کے حسن میں اضافہ کرتا ہے ، فیچر میں ڈرامائیت کو بھی لایا جاسکتا ہے جس سے قارئین کی دلچسپی بنی رہے گی ، فیچر نگار کا اسلوب بھی بڑا کردار ادا کرتا ہے ، ہر لکھنے والے کا ایک اسلوب ہوتا ہے قارئین بغیر مصنف کا نام دیکھے بتا دیتے ہیں کہ یہ تحریر کس کی ہے ۔ فیچر کے لیے کسی موضوع کی قید نہیں ہے معمولی چیز پر بھی آپ بہترین فیچر لکھ سکتے ہیں ضرورت اس بات کی ہے ہم اس کی مشق کریں نیز مطالعہ کو اپنی عادت بنائیں ۔ موصوف نے اس بات پر بھی اظہار خیال کیا کہ مضمون ، فیچر اور اداریہ میں کیا فرق ہے ۔ اداریہ کسی اخبار کی پالیسی کا اظہار ہوتا ہے اسے پڑھ کر ہم اخبار کے مزاج کو سمجھ سکتے ہیں ۔ خاکہ نویسی پر شکیل رشید نے فرمایا کہ اگر آپ کا اسلوب اچھا ہو اور لکھنے کے فن سے واقف ہوں تو معمولی شخصیت پر بھی خاکہ بہت دلچسپ اور عمدہ ہوسکتا ہے ۔

اس موقع پر نہال صغیر نے رپورٹ کیسے کی جائے اس پر شرکاء کی رہنمائی کرتے ہوئے فرمایا کہ کسی سرگرمی کی رپورٹ کرتے وقت جو چیز سب سے اہمیت کی حامل ہوں اس کو نمایا ں کرنا چاہئے ، رپورٹ کی سرخی مبہم اور متاثر کن ہو جس سے  قارئین رپورٹ کو پڑھنے پر مجبور ہوں،رسمِ شکریہ اور نظامت وغیرہ جیسی باتیں قارئین کی دلچسپی کی نہیں ہوتیں لہٰذا رپورٹ میںان کی تفصیلات غیر ضروری ہیں ۔ رپورٹ میں ناموںکی بھرمار اچھی علامت نہیں ہے اس سے گریز کرنا چاہئے ۔ اس موقع پر نہال صغیر نے شرکاء کے سوالات کے جوابات بھی دیے ۔ راشٹریہ سہارا کے جاوید شیخ نے فرمایا کہ مراسلات و اعلانات کا کالم کسی بھی اخبار کا اہم جُز ہوتا ہے اس کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ مراسلے میں الفاظ اور جملوں کو دہرانا نہیں چاہئے ، مراسلے میں اشتعال انگیزی نہ ہو ، دعائیہ کلمات کی بھی ضرورت نہیں ۔ مثبت ، اصلاحی اور اہمیت کے حامل مراسلات کو اخبارات میں جگہ ملتی ہے ۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم مراسلات کے کالم میں شرکت کرکے اپنے اندر اچھا لکھنے کی صلاحیت کو پروان چڑھائیں ۔ اس موقع پر اعظم شہاب نے بہترین مضمون کی صفات پر روشنی ڈالی نیز شرکاء کے مضامین پڑھ کر اس پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ اس ورکشاپ میں پچاس لوگوں نے شرکت کی جس میں خواتین شرکاء کی تعداد زیادہ تھی ۔ قریب تیس خواتین نے اس ورکشاپ میں سرگرم شرکت کرکے اسے کامیاب بنایا ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.